رات کی پر سکوت ظلمت میں
رات کی پر سکوت ظلمت میں فرط حسرت سے رو رہا ہے کوئی زندگی کے حسین کھیتوں میں دکھ بھرے گیت بو رہا ہے کوئی
رات کی پر سکوت ظلمت میں فرط حسرت سے رو رہا ہے کوئی زندگی کے حسین کھیتوں میں دکھ بھرے گیت بو رہا ہے کوئی
میری غمگین و زرد صورت کو دیکھ لیتے ہیں جب کبھی احباب مجھ سے طنزاً سوال کرتے ہیں شادؔ صاحب پیو گے اب بھی شراب
امرت سے فضائیں دم بدم دھلتی ہیں ہر ذرے میں سو روشنیاں گھلتی ہیں جب صبح کو وہ نیند سے بوجھل آنکھیں کھلتی ہوئی کلیوں کی طرح کھلتی ہیں
بیتے ہوئے لمحوں کا اشارا لے کر رومان کا بہتا ہوا دھارا لے کر اتری ہے مرے ذہن میں پھر یاد تری مہتاب کی کرنوں کا سہارا لے کر
آنکھوں میں سحر جھلک رہی ہے گویا ہونٹوں سے شفق ڈھلک رہی ہے گویا یوں پھبکے ہوئے جسم میں رقصا ہے شباب پیمانے سے مے چھلک رہی ہے گویا
دنیا ہے ارم سے بھی حسیں دیکھ ذرا آکاش پہ ہنستی ہے زمیں دیکھ ذرا آب آب ہوئے جاتے ہیں ماہ و انجم لو دیتی ہے ذروں کی جبیں دیکھ ذرا
احساس نشاط کی کمی دیکھو گے آلام کی گرد سی جمی دیکھو گے نزدیک سے دیکھو گے تبسم کو اگر سوکھے ہوئے اشکوں کی نمی دیکھو گے
الفاظ کی رگ رگ میں رچاتا ہوں لہو تابندہ خیالوں کو پلاتا ہوں لہو ہر شعر کی محراب میں مشعل کی طرح میں اپنی جوانی کا جلاتا ہوں لہو
تو مری زندگی کا پرتو ہے میں تری آرزو کا سایا ہوں پھر بھی تجھ کو میں حد امکاں تک احتیاطاً پکار آیا ہوں
لے کے دل درد پائیدار دیا چاندنی کے عوض غبار دیا شرم آتی ہے آپ سے کہتے آپ کی دوستی نے مار دیا