قومی زبان

محبت کی آخری نظم

دم رخصت تپے ہوئے لہجے میں خاموش رہنے والا آنکھوں تک سلگ اٹھا ہوگا اس کی سانسوں سے میرا دم رک گیا اور میری ہتھیلیاں دھڑکنے لگیں میرا مرد پورے چاند کی طرح مجھ پر چھا گیا وہ آگ سے مرتب ہے میرے انگ انگ میں پگھلنے کی آرزو ہے اس کے لمس میں میرے خمیر کی خوشبو کہاں سے سما گئی کہ میں اپنی ...

مزید پڑھیے

بعد کے بعد

صحیفے اترنے سے پہلے اور نبیوں کے نزول کے بعد ہاتھ سے گرے ہوئے نوالوں کی طرح ہمیں کتوں کے آگے ڈال دیا جاتا رہا اس درمیان، آنکھوں کے نیچے ہم نے اپنے ہاتھ رکھے کہ وہ پاؤں پر نہ گر پڑیں اور کانچ کا اعتبار جاتا رہے مجھے آگ سے لکھ اور پانی سے اگا مٹی کے ساتھ انصاف میں خود کروں گی وہ تو ...

مزید پڑھیے

آپے رانجھا ہوئی

مغربی صحرا کے کنارے کندن کے پھول کھلنا شروع ہو گئے ہیں مشرقی صحرا کے بیچوں بیچ کھڑی سندری کی ناک کا لونگ مرجھا گیا ہے یہ کس تاریخ کے اخبار کی خبر ہے کوئی اشتہار ہے کیا دیواروں پہ لکیریں نہ ڈالو مٹاؤ گے تو تمہارے ہی ہاتھ کالے ہوں گے ہاں کھیل کھیل میں ہی دلالی سیکھ جاؤ گے کوئلوں کا ...

مزید پڑھیے

بازی جن کے ہاتھ رہی

جتنی دیر میں تم ایک آہٹ سے اترتے ہو اور سویر سے اپنی پلکیں اکٹھی کرتے ہو اتنی دیر میں ایک نظم بن چکی ہوتی ہے نظم جس کی آنکھوں سے لوبان کی خوشبو اور پلکوں سے نم ٹپکتا ہو اور وہ اپنی پہچان کے لئے خود اپنا وسیلہ بنے لیکن اگر اس کے بعد کے وسیلے زیادہ معتبر ٹھہریں تو حیرتیں افسوس اور ...

مزید پڑھیے

ایک موقع

خواب پرست! اجالا نہ کر میرا خون سفید اور رنگ فق ہے مجھے ناخن سے کرید، آ چل کے کہیں بیٹھیں بادشاہ کے حضور کھڑے کھڑے میں شل ہو گئی موم بتی کی طرح مجھے الگنی پر ٹانگ دے کہ میری دوہرگی کا بوجھ بان بٹنے والے پہ ہو تجھ پر نہ ہو خواب پرست! مجھے جگا تو لے پھر سو جانا کیونکہ نہیں جانا جس نے ...

مزید پڑھیے

ابھی وہ ایک دن کا بھی نہیں

ابھی وہ ایک دن کا بھی نہیں بھٹی سے مٹی کی نسل آگ کا نام پوچھتی اور گیلی چھاؤں تلے سو نہ نہ جاتی تو قیدی قیدی نہ جنتے کلیاں کھلتیں یا موسم رہا ہوتے یا کچھ اور ہوتا مگر یوں ہوا کہ اس کے میرے درمیاں اک پل ٹوٹ گیا اس کے میرے درمیاں ایک تتلی بھڑکتی پھرتی ہے اس کے میرے درمیاں اک راہ مسافر ...

مزید پڑھیے

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں

دیا سا دل کے خرابے میں جل رہا ہے میاں دیے کے گرد کوئی عکس چل رہا ہے میاں یہ روح رقص چراغاں ہے اپنے حلقے میں یہ جسم سایہ ہے اور سایہ ڈھل رہا میاں یہ آنکھ پردہ ہے اک گردش تحیر کا یہ دل نہیں ہے بگولہ اچھل رہا ہے میاں کبھی کسی کا گزرنا کبھی ٹھہر جانا مرے سکوت میں کیا کیا خلل رہا ہے ...

مزید پڑھیے

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے

دیکھ لیتے ہیں اب اس بام کو آتے جاتے یہ بھی آزار چلا جائے گا جاتے جاتے دل کے سب نقش تھے ہاتھوں کی لکیروں جیسے نقش پا ہوتے تو ممکن تھا مٹاتے جاتے تھی کبھی راہ جو ہمراہ گزرنے والی اب حذر ہوتا ہے اس راہ سے آتے جاتے شہر بے مہر! کبھی ہم کو بھی مہلت دیتا اک دیا ہم بھی کسی رخ سے جلاتے ...

مزید پڑھیے

صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوا

صبا کا نرم سا جھونکا بھی تازیانہ ہوا یہ وار مجھ پہ ہوا بھی تو غائبانہ ہوا اسی نے مجھ پہ اٹھائے ہیں سنگ جس کے لیے میں پاش پاش ہوا گھر نگار خانہ ہوا جھلس رہا تھا بدن گرمئ نفس سے مگر ترے خیال کا خورشید شامیانہ ہوا خود اپنے ہجر کی خواہش مجھے عزیز رہی یہ تیرے وصل کا قصہ تو اک بہانہ ...

مزید پڑھیے

کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میں

کوئی آواز نہ آہٹ نہ خیال ایسے میں رات مہکی ہے مگر جی ہے نڈھال ایسے میں میرے اطراف تو گرتی ہوئی دیواریں ہیں سایۂ عمر رواں مجھ کو سنبھال ایسے میں جب بھی چڑھتے ہوئے دریا میں سفینہ اترا یاد آیا ترے لہجے کا کمال ایسے میں آنکھ کھلتی ہے تو سب خواب بکھر جاتے ہیں سوچتا ہوں کہ بچھا دوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2322 سے 6203