یہ الگ بات کہ رہ رہ کے صدا آئی ہے
یہ الگ بات کہ رہ رہ کے صدا آئی ہے میں نے بھی اب کے نہ سننے کی قسم کھائی ہے اب وہ اک نام پکاروں تو زباں چھل جائے ہاں وہی نام کہ جو حاصل گویائی ہے رات دن یار کی گلیوں میں پڑا رہتا ہوں عشق کا عشق ہے رسوائی کی رسوائی ہے ایسی تنہائی کا عالم ہے کہ دل ڈوب گیا اور اس پر یہ غضب ہے تیری یاد ...