قومی زبان

یہ الگ بات کہ رہ رہ کے صدا آئی ہے

یہ الگ بات کہ رہ رہ کے صدا آئی ہے میں نے بھی اب کے نہ سننے کی قسم کھائی ہے اب وہ اک نام پکاروں تو زباں چھل جائے ہاں وہی نام کہ جو حاصل گویائی ہے رات دن یار کی گلیوں میں پڑا رہتا ہوں عشق کا عشق ہے رسوائی کی رسوائی ہے ایسی تنہائی کا عالم ہے کہ دل ڈوب گیا اور اس پر یہ غضب ہے تیری یاد ...

مزید پڑھیے

یہ سوچ رکھا ہے کوئی شکوہ نہیں کروں گا

یہ سوچ رکھا ہے کوئی شکوہ نہیں کروں گا میں اپنی غیرت مزید رسوا نہیں کروں گا مری وفائیں ترے رویے پہ منحصر ہیں وفا کروں گا مگر یہ وعدہ نہیں کروں گا نہیں سناؤں گا اب گلابوں کو تیرا قصہ میں تتلیوں سے بھی تیرا چرچا نہیں کروں گا وہ اک مسیحا جو ساری بستی کا چارہ گر ہے وہ مجھ سے کہتا ہے ...

مزید پڑھیے

تمہارے جانے کا غم مناؤں گا دیکھ لینا

تمہارے جانے کا غم مناؤں گا دیکھ لینا میں ہجر صحرا میں خاک اڑاؤں گا دیکھ لینا مرا یہ دعویٰ ہے مدتوں تک میں بن کے آنسو تمہاری آنکھوں میں جھلملاؤں گا دیکھ لینا وہ ساری غزلیں جو بس تمہارے لیے لکھی تھیں وہ اب میں ہر شخص کو سناؤں گا دیکھ لینا یہ تم جو مجھ سے ذرا سی باتوں پہ روٹھتے ...

مزید پڑھیے

میری بلا سے ساری دنیا اجڑے یا آباد رہے

میری بلا سے ساری دنیا اجڑے یا آباد رہے تیری خوشبو جس میں بسی ہے وہ کمرہ آباد رہے عاشق اور معشوق کا رشتہ اور زیادہ پختہ ہو تیرے ظلم و جور سلامت دل میرا آباد رہے میرے گھر کی دیواروں پر بربادی کا قبضہ ہے تیری گلی کو جانے والا ہر رستہ آباد رہے صبح سویرے خواب میں دیکھا مجھ سے کوئی ...

مزید پڑھیے

کیا حاصل اس بات سے اب ہم کیسے ہیں

کیا حاصل اس بات سے اب ہم کیسے ہیں تم نے جیسا چھوڑا تھا بس ویسے ہیں سوچا تھا ہم تجھ بن مر کھپ جائیں گے قسمت دیکھو اب بھی اچھے خاصے ہیں بھونرے پیاس بجھاتے ہیں تجھ ہونٹوں سے لیکن تیرے چاہنے والے پیاسے ہیں میں نے سوچا مجھ سے بھی کوئی پیار کرے دل نے پوچھا جیب میں تیری پیسے ہیں تیری ...

مزید پڑھیے

ممکن جہاں نہیں تھی وہاں کاٹ دی گئی

ممکن جہاں نہیں تھی وہاں کاٹ دی گئی کچھ دن کی زندگی تھی میاں کاٹ دی گئی مفلس جو تھے وہ پیاس کی شدت سے مر گئے محلوں کی سمت جوئے رواں کاٹ دی گئی میں نے بلند کی تھی صدا احتجاج کی پھر یوں ہوا کہ میری زباں کاٹ دی گئی تیری زمیں پہ سانس بھی لینا محال تھا مجبور ہو کے زیست یہاں کاٹ دی ...

مزید پڑھیے

صحرا سے نہ جنگل کی کبھی خاک سے اٹھے

صحرا سے نہ جنگل کی کبھی خاک سے اٹھے اب کے وہ بگولے خس و خاشاک سے اٹھے برسے گی وہ آتش کہ جھلس جائیں گے دریا اک ابر اگر دیدۂ نم ناک سے اٹھے گو تو نے ہر اک شخص کو مٹی سے بنایا پر سنگ کے پیکر بھی ترے چاک سے اٹھے ہے جن کی بلندی پہ خجل اوج ثریا کچھ ایسے ستارے بھی مری خاک سے اٹھے اک حبس ...

مزید پڑھیے

بارش دیکھتی ہے

بارش دیکھتی ہے کہ اسے کہاں برسنا ہے اور دھوپ جانتی ہے کہ اسے کہاں نہیں جانا مگر وہ جاتی ہے اور شکار ہوتی ہے اور کانٹوں میں پھنس کر بٹ جاتی ہے اور ریت کے ذروں کی طرح زمین سے اٹھائی نہیں جاتی رات سمجھتی ہے اور سمجھ کر خاموش رہتی ہے صرف اپنے کونوں پر گرہیں لگاتی رہتی ہے اور کہتی ہے آ ...

مزید پڑھیے

آگہی

حوض کے ساتھ ساتھ اگی سبز گھاس پر دھوپ کی لرزشیں دھیمی دھیمی دودھ کی بے مزہ کچی کچی مہک آگہی آنکھیں آنکھوں کے اندر بھی آنکھیں اگ آئی ہیں کیا گھاس کی شاخ ہوتی نہیں نہ سہی گھاس کی شاخ سے پھر بھی چمٹے ہوئی سبز ٹڈے نے بھرپور سی نیند میں جاگتے لہلہاتے پلکیں جھپکتے ہوئے پھول کو کھا لیا

مزید پڑھیے

بالآخر

اور جب وہ چلی لوگ بولے کہ جھلی ہے پاگل ہے مینٹل ہے یہ اور اس نے سنا تو ہنسی انگلیوں سے وہ دیوار پر دو لکیریں بناتی چلی ہی گئیں لکیریں جو دیوار پر چند لفظوں کے موہوم سے فاصلے سے اکٹھی چلی جا رہی تھیں دما دم رواں بے رکے آگے آگے ہی آگے نہ ملنے کی خاطر کہ ملنا ہے تو حرف آخر نہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 2321 سے 6203