قومی زبان

وصل ارزاں وقت کی لیکن فراوانی گئی

وصل ارزاں وقت کی لیکن فراوانی گئی بڑھ گئی جتنی سہولت اتنی آسانی گئی معصیت کا ذکر کیا ہے معصیت پہلے بھی تھی رنج تو یہ ہے گناہوں سے پشیمانی گئی عشق بھی دل سے کیا جوگی بنے وحشت بھی کی کیا ہوا کچھ تو کہو کیا وضع حیوانی گئی ایک لمبا فاصلہ ہے جان سے پہچان تک شکل جو جانی گئی وہ بھی نہ ...

مزید پڑھیے

کیا خبر ہے نہ ملے پھر کوئی شیشہ ایسا

کیا خبر ہے نہ ملے پھر کوئی شیشہ ایسا خود کو چھوتے ہوئے ڈرتا ہوں شکستہ ایسا سبزۂ لمس پہ بڑھتا ہوا لمحہ لمحہ سست رو شعلۂ طوفان تمنا ایسا اب نہ دستک میں صدا ہے نہ ہے زنجیر میں شور بند اب تک نہ ہوا تھا در توبہ ایسا سانس کے ساتھ لپکتا ہے تہہ موج خیال کس نے بویا تھا مرے جسم میں شعلہ ...

مزید پڑھیے

آخری گاڑی گزرنے کی صدا بھی آ گئی

آخری گاڑی گزرنے کی صدا بھی آ گئی سو رہو بے خواب آنکھو! رات آدھی آ گئی زندگی سے سیکھ لیں ہم نے بھی دنیا داریاں رفتہ رفتہ تم میں بھی موقع پرستی آ گئی سادہ لوحی دین جو قصبے کی تھی رخصت ہوئی شہر آنا تھا کہ اس میں ہوشیاری آ گئی ہم ملے تھے جانے کیا آفت زدہ روحیں لیے گفتگو اوروں کی تھی ...

مزید پڑھیے

سرمئی دھوپ میں دن سا نہیں ہونے پاتا

سرمئی دھوپ میں دن سا نہیں ہونے پاتا دھند وہ ہے کہ اجالا نہیں ہونے پاتا دینے لگتا ہے کوئی ذہن کے در پر دستک نیند میں بھی تو میں تنہا نہیں ہونے پاتا گھیر لیتی ہیں مجھے پھر سے اندھیری راتیں میری دنیا میں سویرا نہیں ہونے پاتا چھین لیتے ہیں اسے بھی تو عیادت والے دکھ کا اک پل بھی تو ...

مزید پڑھیے

مسافر خانۂ امکاں میں بستر چھوڑ جاتے تھے

مسافر خانۂ امکاں میں بستر چھوڑ جاتے تھے وہ ہم تھے جو چراغوں کو منور چھوڑ جاتے تھے سبھی کو اگلے فرسنگوں کی پیمائش مقدر تھی مسافر طے شدہ میلوں کے پتھر چھوڑ جاتے تھے گرجتے گونجتے آتے تھے جو سنسان صحرا میں وہی بادل عجب ویران منظر چھوڑ جاتے تھے نہ تھیں معلوم بھوکی نسل کی مجبوریاں ...

مزید پڑھیے

ہر بار نیا لے کے جو فتنہ نہیں آیا

ہر بار نیا لے کے جو فتنہ نہیں آیا اس عمر میں ایسا کوئی لمحہ نہیں آیا ہوں گھر میں کہ احباب میں معتوب رہے ہم کچھ ہم سے نہ آیا تو دکھاوا نہیں آیا آلودہ کبھی گرد طلب سے نہ ہوئے ہم ہونٹوں پہ کبھی حرف تمنا نہیں آیا یہ بھی ہے کہ موزوں نہ تھی دنیا کی روش بھی کچھ ہم سے بھی جینے کا سلیقہ ...

مزید پڑھیے

آپ اپنی ذات میں سمٹا ہوا عالم تمام

آپ اپنی ذات میں سمٹا ہوا عالم تمام تم کو یوں جانا کہ تھا جانا ہوا عالم تمام کل تو بیگانہ تھا لیکن آج ہے بیگانہ تر اک سر انگشت پر رکھا ہوا عالم تمام دسترس کا ذکر کیا ہے آگہی کی بات کیا روبرو ہے گرد میں اڑتا ہوا عالم تمام گر بدل جاتے تو تھی دنیا کی ہر شے حسب حال ہم نہیں بدلے تو ہے ...

مزید پڑھیے

علم کس کو تھا کہ ترسیل ہوا رک جائے گی

علم کس کو تھا کہ ترسیل ہوا رک جائے گی اگلے موسم تک مری نشو و نما رک جائے گی ہو چکے گا دفعتاً ذوق سماعت مختلف آتے آتے میرے ہونٹوں تک صدا رک جائے گی تو ہی کیوں نادم ہے اتنی میرے گھر کی آبرو کس کے سر پر ایسی آندھی میں ردا رک جائے گی اب تماشا دیکھنے والوں میں ہم سایہ بھی ہے ٹوٹتی چھت ...

مزید پڑھیے

یہ دشت و دمن کوہ و کمر کس کے لیے ہے

یہ دشت و دمن کوہ و کمر کس کے لیے ہے ہر لمحہ زمیں گرم سفر کس کے لیے ہے کس کس کے مقابل ہے مری قوت بازو بپھری ہوئی موجوں میں بھنور کس کے لیے ہے جا جا کے پلٹ آتے ہیں کس کے لیے موسم یہ شام شفق رات سحر کس کے لیے ہے ہیں کس کے تعلق سے مری آنکھ میں آنسو مٹھی میں صدف کی یہ گہر کس کے لیے ...

مزید پڑھیے

کبھی تو ملتوی ذکر جہاں گرداں بھی ہونا تھا

کبھی تو ملتوی ذکر جہاں گرداں بھی ہونا تھا کبھی تو اہتمام صحبت یاراں بھی ہونا تھا توقع کے مطابق ہے یہ تبدیلی تو حیرت کیا اسے مشکل بھی ہونا تھا مجھے آساں بھی ہونا تھا ریاکاروں پہ کل تک جس کے دروازے مقفل تھے اسی جنت میں جشن فتنہ پردازاں بھی ہونا تھا کبھی دیکھا نہ تھا یوں ہم نے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2285 سے 6203