وصل ارزاں وقت کی لیکن فراوانی گئی
وصل ارزاں وقت کی لیکن فراوانی گئی بڑھ گئی جتنی سہولت اتنی آسانی گئی معصیت کا ذکر کیا ہے معصیت پہلے بھی تھی رنج تو یہ ہے گناہوں سے پشیمانی گئی عشق بھی دل سے کیا جوگی بنے وحشت بھی کی کیا ہوا کچھ تو کہو کیا وضع حیوانی گئی ایک لمبا فاصلہ ہے جان سے پہچان تک شکل جو جانی گئی وہ بھی نہ ...