قومی زبان

جانب دشت کبھی تم بھی نکل کر دیکھو

جانب دشت کبھی تم بھی نکل کر دیکھو دوستو آبلہ پائی کا عمل کر دیکھو میری آشفتہ سری پر نہ ہنسو اے لوگو عشق کی آگ میں خود بھی ذرا جل کر دیکھو تم جو چاہو تو مرے دل کو سکوں مل جائے اپنا انداز نظر کچھ تو بدل کر دیکھو میں تمہیں جینے کے انداز سکھا سکتا ہوں ایک دو گام میرے ساتھ تو چل کر ...

مزید پڑھیے

کہہ رہی ہے یہ کیا صبا کچھ سوچ

کہہ رہی ہے یہ کیا صبا کچھ سوچ اے حسیں پیکر جفا کچھ سوچ چند روزہ بہار پر مت جا گل کا انجام کیا ہوا کچھ سوچ یہ حسیں رت یہ چاندنی یہ بہار ایسے عالم میں تو نہ جا کچھ سوچ کیا ہوئے رہروان منزل شوق کیوں ہے سنسان راستا کچھ سوچ خار جس سے لپٹ کے روتے تھے آبلہ پا وہ کون تھا کچھ سوچ ہم نہ ...

مزید پڑھیے

کبھی بھولے سے ممکن ہو مری جانب اگر ہونا

کبھی بھولے سے ممکن ہو مری جانب اگر ہونا تو اوروں کی طرف سے اپنی نظریں پھیر کر ہونا مسلسل ہجر کے صدمے یہ دل اب سہہ نہیں سکتا گھڑی بھر کا جدا ہونا اگر بار دگر ہونا غنیمت ہے کہ اک رسمی تعارف تو میسر ہے نہیں آساں کسی مہ وش کا منظور نظر ہونا نہ ہونا تم کسی کے بھی یہاں پر ہم سفر ...

مزید پڑھیے

روح احساس ہے تہی دامن

روح احساس ہے تہی دامن دل ہے یا حسرتوں کا اک مدفن پھیلتی جا رہی ہے تاریکی شام محسوس کر رہی ہے تھکن ملتفت جب سے ہے نظر ان کی دل کو در پیش ہے نئی الجھن میری یادوں سے گل بہ داماں ہے ایک زہرہ جمال کا آنگن آدمیت کہیں نہ ہو رسوا زندگی کا بدل رہا ہے چلن ہر ستارہ مرے مقدر کا ان کے ماتھے ...

مزید پڑھیے

وہ مرے غم کا مداوا نہیں ہونے دیتا

وہ مرے غم کا مداوا نہیں ہونے دیتا ذرۂ درد کو صحرا نہیں ہونے دیتا ساتھ رکھتا ہوں ہمیشہ تری یادوں کی دھنک میں کبھی خود کو اکیلا نہیں ہونے دیتا زخم بھرتا ہے نیا زخم لگانے کے لئے کیا مسیحا ہے کہ اچھا نہیں ہونے دیتا جس کے انجام سے ٹوٹے مرا پندار انا میں وہ آغاز دوبارہ نہیں ہونے ...

مزید پڑھیے

بہ فیض قائد اعظم

ہم وہ ہیں جن کی روایات سلف کے آگے چڑھتے سورج تھے نگوں قیصر و کسریٰ تھے زبوں گردش وقت سے اک ایسا زمانہ آیا ہم نگوں سار و زبوں حال و پراگندہ ہوئے سال ہا سال کی اس صورت حالات کے بعد ایک انسان اٹھا ایسا کہ جس نے بڑھ کر عزم و ہمت کا شجاعت کا چلن عام کیا اور برسوں کی غلامی کے شکنجوں میں ...

مزید پڑھیے

اس توقع پہ کھلا رکھا گریباں اپنا

اس توقع پہ کھلا رکھا گریباں اپنا جانے کب آن ملے جان بہاراں اپنا لمحے لمحے کی رفاقت تھی کبھی وجہ نشاط موسم ہجر ہوا اب سر و ساماں اپنا نت نئے خواب دکھاتا ہے اجالوں کے لئے وہ کہ ہے دشمن جاں دشمن ایماں اپنا نکہت گل ہی نہیں خاک بھی ہے ہم کو عزیز اپنا صحرا ہے چمن اپنا خیاباں ...

مزید پڑھیے

مثال سادہ ورق تھا مگر کتاب میں تھا

مثال سادہ ورق تھا مگر کتاب میں تھا وہ دن بھی تھے میں ترے عشق کے نصاب میں تھا بھلا چکا ہے تو اک بار مجھ سے آ کر سن وہی سبق جو کبھی تیرے دل کے باب میں تھا جو آج مجھ سے بچھڑ کر بڑے سکون میں ہے کبھی وہ شخص مرے واسطے عذاب میں تھا اسی نے مجھ کو غم و سوز جاوداں بخشا وہ ایک چاند کا ٹکڑا سا ...

مزید پڑھیے

احساس کے شرر کو ہوا دینے آؤں گا

احساس کے شرر کو ہوا دینے آؤں گا میں شہر جاں کو راکھ بنا دینے آؤں گا لکھے تھے حرف شوق جو میں نے ترے لیے اب آنسوؤں سے ان کو مٹا دینے آؤں گا تو نے عطا کیے ہیں مجھے کتنے درد و غم اس لطف خاص کا میں صلہ دینے آؤں گا سمجھا دیا ہے تو نے محبت ہے اک خطا میں اس خطا کی خود کو سزا دینے آؤں ...

مزید پڑھیے

وہ رعب حسن تھا اس کا سلام بھول گیا

وہ رعب حسن تھا اس کا سلام بھول گیا کرا سکا نہ تعارف میں نام بھول گیا ادھر ادھر کی ہوئی خوب گفتگو اس سے بہت ضروری تھا سب سے جو کام بھول گیا غم جہاں نے کیا اس قدر خراب کہ میں جو دوستوں میں گزاری تھی شام بھول گیا زبان غیر سے میں تیرا تذکرہ سن کر ذرا سی دیر میں سب احترام بھول ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2279 سے 6203