جانب دشت کبھی تم بھی نکل کر دیکھو
جانب دشت کبھی تم بھی نکل کر دیکھو دوستو آبلہ پائی کا عمل کر دیکھو میری آشفتہ سری پر نہ ہنسو اے لوگو عشق کی آگ میں خود بھی ذرا جل کر دیکھو تم جو چاہو تو مرے دل کو سکوں مل جائے اپنا انداز نظر کچھ تو بدل کر دیکھو میں تمہیں جینے کے انداز سکھا سکتا ہوں ایک دو گام میرے ساتھ تو چل کر ...