قومی زبان

سب کچھ سر بازار جہاں چھوڑ گیا ہے

سب کچھ سر بازار جہاں چھوڑ گیا ہے یہ کون کھلی اپنی دکاں چھوڑ گیا ہے جاتے ہی کسی کے نہ وہ نغمہ نہ اجالا خاموش چراغوں کا دھواں چھوڑ گیا ہے وحشی تو گیا لے کے وہ زنجیر و گریباں اک نوحہ کناں خالی مکاں چھوڑ گیا ہے سو قافلے اس راہ سے آئے بھی گئے بھی اب تک میں وہیں ہوں وہ جہاں چھوڑ گیا ...

مزید پڑھیے

مجھ کو معاف کیجئے رند خراب جان کے

مجھ کو معاف کیجئے رند خراب جان کے آنکھوں پہ ہونٹ رکھ دئیے جام شراب جان کے حشر میں اے خدا نہ لے مجھ سے حساب خیر و شر میں نے تو سب بھلا دیا رات کا خواب جان کے وقت نے از رہ کرم بخشا تھا مجھ کو تاج زر میں نے ہی خود جھٹک دیا سر کا عذاب جان کے منصف وقت آخرش تجھ کو بھی چپ سی لگ گئی میرا ...

مزید پڑھیے

اپنی تدبیر نہ تقدیر پہ رونا آیا

اپنی تدبیر نہ تقدیر پہ رونا آیا دیکھ کر چپ تری تصویر پہ رونا آیا کیا حسیں خواب محبت نے دکھائے تھے ہمیں جب کھلی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا اشک بھر آئے جو دنیا نے ستم دل پہ کئے اپنی لٹتی ہوئی جاگیر پہ رونا آیا خون دل سے جو لکھا تھا وہ مٹا اشکوں سے اپنے ہی نامے کی تحریر پہ رونا ...

مزید پڑھیے

کیوں ملی تھی حیات یاد کرو

کیوں ملی تھی حیات یاد کرو یاد رکھنے کی بات یاد کرو کون چھوٹا کہاں کہاں چھوٹا راہ کے حادثات یاد کرو ابھی کل تک وفا کی راہوں میں تم بھی تھے میرے ساتھ یاد کرو مجھ سے کیا پوچھتے ہو حال مرا خود کوئی واردات یاد کرو جس دم آنکھیں ملی تھی آنکھوں سے تھی کہاں کائنات یاد کرو بھول آئے ...

مزید پڑھیے

خود مٹ کے محبت کی تصویر بنائی ہے

خود مٹ کے محبت کی تصویر بنائی ہے اک شمع جلائی ہے اک شمع بجھائی ہے آغاز شب غم ہے کیوں سونے لگے تارے شاید مری آنکھوں سے کچھ نیند چرائی ہے میں خود بھی تپش جس کی سہتے ہوئے ڈرتا ہوں اکثر مرے نغموں نے وہ آگ لگائی ہے جب یاد تم آتے ہو محسوس یہ ہوتا ہے شیشے میں پری جیسے کوئی اتر آئی ...

مزید پڑھیے

ابھی ساز دل میں ترانے بہت ہیں

ابھی ساز دل میں ترانے بہت ہیں ابھی زندگی کے بہانے بہت ہیں یہ دنیا حقیقت کی قائل نہیں ہے فسانے سناؤ فسانے بہت ہیں ترے در کے باہر بھی دنیا پڑی ہے کہیں جا رہیں گے ٹھکانے بہت ہیں مرا اک نشیمن جلا بھی تو کیا ہے چمن میں ابھی آشیانے بہت ہیں نئے گیت پیدا ہوئے ہیں انہیں سے جو پرسوز ...

مزید پڑھیے

اک بے قرار دل سے ملاقات کیجیے

اک بے قرار دل سے ملاقات کیجیے جب مل گئے ہیں آپ تو کچھ بات کیجیے پہلے پہل ہوا ہے مری زندگی میں دن زلفوں میں منہ چھپا کے نہ پھر رات کیجیے نظروں سے گفتگو کی حدیں ختم ہو چکیں جو دل میں ہے زباں سے وہی بات کیجیے کل انتقام لے نہ مرا پیار آپ سے اتنا ستم نہ آج مرے ساتھ کیجیے بس ایک خامشی ...

مزید پڑھیے

ہائے کیسی وہ شام ہوتی ہے

ہائے کیسی وہ شام ہوتی ہے داستاں جب تمام ہوتی ہے یہ تو باتیں ہیں صرف زاہد کی کہیں مے بھی حرام ہوتی ہے شام فرقت کی الجھنیں توبہ کس غضب کی یہ شام ہوتی ہے عشق میں اور قرار کیا معنی زندگی تک حرام ہوتی ہے ہو کے آتی ہے جب ادھر سے صبا کتنی نازک خرام ہوتی ہے یہ تصدق ہے ان کی زلفوں ...

مزید پڑھیے

بہت ہی دل نشیں آواز پا تھی

بہت ہی دل نشیں آواز پا تھی نہ جانے تم تھے یا باد صبا تھی بجا کرتی تھیں کیا شہنائیاں سی خموشی بھی ہماری جب نوا تھی وہ دشمن ہی سہی یارو ہمارا پر اس کی جو ادا تھی کیا ادا تھی سبھی عکس اپنا اپنا دیکھتے تھے ہماری زندگی وہ آئینہ تھی چلا جاتا تھا ہنستا کھیلتا میں نگاہ یار میری رہنما ...

مزید پڑھیے

کہیں رسوا ترا شیدا سر محفل نہ ہو جائے

کہیں رسوا ترا شیدا سر محفل نہ ہو جائے پریشانی جنون عشق کا حاصل نہ ہو جائے ابھی کچھ ٹھوکریں کھانی ہیں طوفان حوادث میں کہیں کشتی مری شرمندۂ ساحل نہ ہو جائے بکھرتے ہیں ترے شانوں پہ گیسو آج بل کھا کر کہیں برہم یہ میری کائنات دل نہ ہو جائے ٹپکتی ہیں خرام ناز سے رنگینیاں سو سو مجھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2272 سے 6203