سب کچھ سر بازار جہاں چھوڑ گیا ہے
سب کچھ سر بازار جہاں چھوڑ گیا ہے یہ کون کھلی اپنی دکاں چھوڑ گیا ہے جاتے ہی کسی کے نہ وہ نغمہ نہ اجالا خاموش چراغوں کا دھواں چھوڑ گیا ہے وحشی تو گیا لے کے وہ زنجیر و گریباں اک نوحہ کناں خالی مکاں چھوڑ گیا ہے سو قافلے اس راہ سے آئے بھی گئے بھی اب تک میں وہیں ہوں وہ جہاں چھوڑ گیا ...