قومی زبان

جو یہ کہتے تھے کہ مر جانا ہے

جو یہ کہتے تھے کہ مر جانا ہے ان سے جینے کا ہنر جانا ہے کس نے سوچا تھا کہ خود سے مل کر اپنی آواز سے ڈر جانا ہے حادثا موت نہیں انساں کی حادثہ خواب کا مر جانا ہے حضرت دل کو منانا ہوگا آج پھر اس کی ڈگر جانا ہے کچھ ہوا، آگ، زمیں، آب، فلک پھر مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ایک بالشت نہیں جس ...

مزید پڑھیے

ہوئے ہیں پھر سے اندھیروں کے حوصلے روشن

ہوئے ہیں پھر سے اندھیروں کے حوصلے روشن قلم سنبھال اندھیرے کو جو لکھے روشن یہ سوکھی جھیلیں تھیں ان میں کہاں سے آئی باڑھ ہماری آنکھوں میں ہیں کس کے تجربے روشن یہ اور بات ہوا نے بجھا دیئے کافی تمہاری یاد کے لیکن ہیں کچھ دیے روشن تمہیں چمکنا ہے تو لکھو ہم کو صفحوں پر ہمارے ہونے سے ...

مزید پڑھیے

خود سے اس نے نجات پا لی ہے

خود سے اس نے نجات پا لی ہے راہ نونیتؔ نے نکالی ہے خشک آنکھوں کے آس پاس کہیں دل نے اک جھیل سی بنا لی ہے لہلہاتے ہیں درد کے پودے عشق کا باغ، یاد مالی ہے روند جاتا ہے یہ کناروں کو اسے دریا کہیں؟ موالی ہے ایک تصویر کو ہٹایا بس دل کی دیوار خالی خالی ہے آپ کا نام بھی نہیں لیتے پیاس ...

مزید پڑھیے

اب پسر آئے ہیں رشتوں پہ کوہاسے کتنے

اب پسر آئے ہیں رشتوں پہ کوہاسے کتنے اب جو غربت میں ہے نانی تو نواسے کتنے چوٹ کھائے ہوئے لمحوں کا ستم ہے کہ اسے روح کے چہرے پہ دکھتے ہیں مہانسے کتنے سچ کے قصبے پہ میاں جھوٹ کی سرداری ہے اب اٹکتے ہیں لبوں پر ہی خلاصے کتنے تھے بہت خاص جو سر تان کے چلتے تھے یہاں اب اسی شہر میں واقف ...

مزید پڑھیے

یہ باتیں آج کی کل جس کتاب میں لکھنا

یہ باتیں آج کی کل جس کتاب میں لکھنا تم اپنے جرم کو میرے حساب میں لکھنا حدیث دل کو قلم سے نہ آشنا کرنا کہانیاں ہی ہمیشہ جواب میں لکھنا مجھے سمجھنے کی کوشش ہے شغل لا حاصل جو چاہنا وہی تم میرے باب میں لکھنا وہ کہتے ہیں لکھو نامہ مگر لحاظ رہے ہمارا نام نہ ہرگز خطاب میں لکھنا مٹا ...

مزید پڑھیے

کار عبث

ایک پژمردہ دن جب رات کی دہلیز پر اونگھنے لگتا ہے تب ہی تاریکی کا سیل رواں اسے بہا لے جاتا ہے نسوں سے ہمت کا ایک ایک قطرہ نچوڑ جاتا ہے اور زمیں پر موت کا سناٹا حیات کی ہلچل رہن رکھ لیتا ہے مگر قادر مطلق اے خدا واحد اس وقت بھی تو جاگ رہا ہوتا ہے میں لمحاتی موت کی چادر ہٹا کر سجدہ ریز ...

مزید پڑھیے

خالی گلک

آؤ عزہ سنو کہانی جب بچی تھیں تمہاری نانی ان کی ہتھیلی پر چھوٹا سا چمکتا سکہ رکھتے تھے انعام میں ابا جھٹ سے آ کر مٹھی بند کیا کرتی تھیں امی مٹی کی گلک بھیا لے کر آتے تھے چھن چھن کرتے بہت سے سکے گلک میں بھرتے جاتے تھے باجی اٹھا کر وزن بتا تیں دل خوشیوں سے پاگل ہوتا کیا کرنا ہے ان ...

مزید پڑھیے

مائے نی

کتنی اچھی تھی وہ زمیں مائے جہاں تم میرے ساتھ رہتی تھی بستر پر راتوں کو تم مجھ کو سیف الملوک اور پریوں کی کوئی کہانی سناتی تھی آسمان میں پورا چاند دیکھ کر مجھے تامچینی کی تھالی میں تمہاری روٹی یاد آتی تھی مچل کر میں جب روٹی بنانے کی تم سے ضد کرتی تھی تو ہنس کر ٹالتی مجھ کو تم یہ ...

مزید پڑھیے

عینک کی قبر

اپنی بینائی کھوتی آنکھوں سے کمرے میں بکھری پرچھائیں کو دیکھ کر میں نے کہا میں تنہا نہیں ہوں اپنی ہمجولی عینک کے ساتھ سیر کرتی ہوں دور دراز علاقوں تک گھوم آتی ہوں تاریخ کے تہہ خانوں میں اور فلسفی کے ذہنوں کے راز جان لیتی ہوں کبھی شرما کر سمٹ جاتی ہیں یادوں کی پرچھائیاں تب میں ...

مزید پڑھیے

گر تم مجھے پہچان لو

میں خدا کی تخلیق کردہ اک ایسی نظم ہوں جس کی نغمگی اور ترنم روح کے تاروں میں رواں دواں تمہاری فکر کے پاکیزہ لمس سے جلا پائے مگر تم جسم کے جنگل میں الجھ کر حیوان بن گئے ہو اور روح کے آہنگ سے محروم رہ کر نہیں جانتے کہ خدا نے اس جسم میں ہی ملفوف کرکے تمہیں نوازا محبت کے الوہی سروں سے گر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2270 سے 6203