جو یہ کہتے تھے کہ مر جانا ہے
جو یہ کہتے تھے کہ مر جانا ہے ان سے جینے کا ہنر جانا ہے کس نے سوچا تھا کہ خود سے مل کر اپنی آواز سے ڈر جانا ہے حادثا موت نہیں انساں کی حادثہ خواب کا مر جانا ہے حضرت دل کو منانا ہوگا آج پھر اس کی ڈگر جانا ہے کچھ ہوا، آگ، زمیں، آب، فلک پھر مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ایک بالشت نہیں جس ...