قومی زبان

یوں ہی گلیوں میں مقدر در بدر میرا بھی ہے

یوں ہی گلیوں میں مقدر در بدر میرا بھی ہے کیوں نہیں سنتا مری تو کچھ اگر میرا بھی ہے قاتلوں کو اب سزا ہو یا نہ ہو لیکن کسی حاشیے پر اک بیان مختصر میرا بھی ہے میں بھی جوجھا ہوں ہوا سے اس کبوتر کی طرح دیکھ وہ آندھی میں اڑتا ایک پر میرا بھی ہے پاؤں تیرے راستے تیرے سفر تیرا مگر کیوں ...

مزید پڑھیے

کوئی مجھ سے خفا ہے اس لیے خود سے خفا ہوں

کوئی مجھ سے خفا ہے اس لیے خود سے خفا ہوں ابلتے کھولتے موسم کے نیزے پر رکھا ہوں مرے اندر مرا کچھ بھی نہیں بس تو ہے باقی ترے اندر بتا پیارے میں اب کتنا بچا ہوں مری سانسوں کی خاموشی میں کیسا شور کیوں میں کئی صدیاں گزر جانے پہ بھی خود سے خفا ہوں کلہاڑی کا مجھے اب ڈر نہیں عادت ہے اس ...

مزید پڑھیے

آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا

آبادیوں میں دشت کا منظر بھی آئے گا گزرو گے شہر سے تو مرا گھر بھی آئے گا اچھی نہیں نزاکت احساس اس قدر شیشہ اگر بنوگے تو پتھر بھی آئے گا سیراب ہو کے شاد نہ ہوں رہروان شوق رستے میں تشنگی کا سمندر بھی آئے گا دیر و حرم میں خاک اڑاتے چلے چلو تم جس کی جستجو میں ہو وہ در بھی آئے ...

مزید پڑھیے

ہم دوستوں کے لطف و کرم دیکھتے رہے

ہم دوستوں کے لطف و کرم دیکھتے رہے ہوتے رہے جو دل پہ ستم دیکھتے رہے خاموش قہقہوں میں بھی غم دیکھتے رہے دنیا نہ دیکھ پائی جو ہم دیکھتے رہے اللہ رے جوش عشق کہ اٹھتی جدھر نظر تم کو ہی بس خدا کی قسم دیکھتے رہے ناگاہ پڑ گئی جو کہیں ان پہ اک نظر تا دیر اپنے آپ کو ہم دیکھتے رہے ہم نے تو ...

مزید پڑھیے

دنیا کہیں جو بنتی ہے مٹتی ضرور ہے

دنیا کہیں جو بنتی ہے مٹتی ضرور ہے پردے کے پیچھے کوئی نہ کوئی ضرور ہے جاتے ہیں لوگ جا کے پھر آتے نہیں کبھی دیوار کے ادھر کوئی بستی ضرور ہے ممکن نہیں کہ درد محبت عیاں نہ ہو کھلتی ہے جب کلی تو مہکتی ضرور ہے یہ جانتے ہوئے کہ پگھلنا ہے رات بھر یہ شمع کا جگر ہے کہ جلتی ضرور ہے ناگن ہی ...

مزید پڑھیے

پہلے تو ڈر لگا مجھے خود اپنی چاپ سے

پہلے تو ڈر لگا مجھے خود اپنی چاپ سے پھر رو دیا میں مل کے گلے اپنے آپ سے دیکھا ہے ہاں اسے ہے وہ کچھ ملتا جلتا سا مطرب کی میٹھی میٹھی سریلی الاپ سے تھی بات ہی کچھ ایسی کہ دیوانہ ہو گیا دیوانہ ورنہ بنتا ہے کون اپنے آپ سے رہنا ہے جب حریف ہی بن کر تمام عمر کیا فائدہ ہے یار پھر ایسے ...

مزید پڑھیے

زنجیر جنوں کچھ اور کھنک ہم رقص تمنا دیکھیں گے

زنجیر جنوں کچھ اور کھنک ہم رقص تمنا دیکھیں گے دنیا کا تماشہ دیکھ چکے اب اپنا تماشہ دیکھیں گے اک عمر ہوئی یہ سوچ کے ہم جاتے ہی نہیں گلشن کی طرف تم اور بھی یاد آؤگے ہمیں جب گل کوئی کھلتا دیکھیں گے کیا فائدہ ایسے منظر سے کیوں خود ہی نہ کر لیں بند آنکھیں اتنی ہی بڑھے گی تشنہ لبی ہم ...

مزید پڑھیے

دیدۂ اشکبار لے کے چلے

دیدۂ اشکبار لے کے چلے ہم تری یادگار لے کے چلے دل میں تصویر یار لے کے چلے ہم قفس میں بہار لے کے چلے خواہش دید لے کے آئے تھے حسرت انتظار لے کے چلے سامنے اس کے ایک بھی نہ چلی دل میں باتیں ہزار لے کے چلے ہوس گل میں ہم بھی آئے تھے دامن تار تار لے کے چلے جو مرے ساتھ ڈوبنا چاہے مجھ کو ...

مزید پڑھیے

آگ اک اور لگا دیں گے ہمارے آنسو

آگ اک اور لگا دیں گے ہمارے آنسو نکلے آنکھوں سے اگر دل کے سہارے آنسو حاصل خون جگر دل کے ہیں پارے آنسو بے بہا لعل و گہر ہیں یہ ہمارے آنسو ہے کوئی اب جو لگی دل کی بجھائے میری ہجر میں روکے گنوا بیٹھا ہوں سارے آنسو اس مسیحا کی جو فرقت میں ہوں رویا شب بھر بن گئے چرخ چہارم کے ستارے ...

مزید پڑھیے

خیر مانگی جو آشیانے کی

خیر مانگی جو آشیانے کی آندھیاں ہنس پڑیں زمانے کی میرے غم کو سمجھ سکا نہ کوئی مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی دل سا گھر ڈھا دیا تو کس منہ سے بات کرتے ہو گھر بسانے کی حسن کی بات عشق کے قصے بات کرتے ہو کس زمانے کی دل ہی قابو میں اب نہیں میرا یہ قیامت تری ادا نے کی کچھ تو طوفاں کی زد میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2271 سے 6203