قومی زبان

کر لیں سمجھوتا سبھی آج کے حالات سے اب

کر لیں سمجھوتا سبھی آج کے حالات سے اب سب کی پہچان ہے پہچان کے اثبات سے اب ہے وجود اس کا جو کاغذ پہ کرے ثابت یہ بعض اوقات ہے کاغذ بڑا اوقات سے اب یا تو تم بات کرو فون پہ یا چیٹ کرو سب کو پرہیز ہی رہتا ہے ملاقات سے اب ہم بھی بھیجیں گے اموجی تم اگر بھیجو گے نسبت اپنی رہی بس اتنی ہی ...

مزید پڑھیے

زخم ناسور کوئی ہونے سے

زخم ناسور کوئی ہونے سے درد اگتا ہے درد بونے سے وہ تھا مرکوز میرے مرکز پر اور ادھڑتا رہا میں کونے سے چلو اب ہنس کے دیکھ لیتے ہیں دل پگھلتے نہیں ہیں رونے سے اسے ہم سود اب کہیں یا زیاں مل گیا خواب نیند کھونے سے وہ اندھیروں میں ہی رہے آخر بجھ گئے جو چراغ ڈھونے سے دن میں بھی رات کا ...

مزید پڑھیے

حقیقت میں کوئی کہانی ملا دو

حقیقت میں کوئی کہانی ملا دو بہت آگ ہے تھوڑا پانی ملا دو یہی دائمی مشغلا ہے ہمارا نئی چیز لے لو پرانی ملا دو محبت فقط لفظ تھا ایک خالی یہ کس نے کہا تھا معانی ملا دو مجھے نیند سے کوئی رنجش نہیں ہے اگر خواب کچھ آسمانی ملا دو ستم گر کی طاقت اسی سے بڑھے گی تحمل میں تم بے زبانی ملا ...

مزید پڑھیے

ویسے دیکھیں تو یہ تا حد نظر رہتے ہیں

ویسے دیکھیں تو یہ تا حد نظر رہتے ہیں در بہ در پھر بھی یہاں لوگ مگر رہتے ہیں تھا بھروسا جہاں وہ بستیاں مسمار ہوئیں اب وہاں بد گماں اور تنہا نگر رہتے ہیں کھڑکیاں اونچے گھروں کی تو کھلیں بھی شاید ان کے دروازے سبھی بند ہی پر رہتے ہیں دل کے دریا میں سفینے کو اتاریں کیسے اس میں موجوں ...

مزید پڑھیے

گرانی زدہ خاک میری بڑی ہے

گرانی زدہ خاک میری بڑی ہے جہاں پر پڑی تھی وہیں پر اڑی ہے اگر ہوں میں زندہ تو مٹی سے میری جو مر جاؤں تو لاش اسی میں گڑی ہے اسے اس قدر کیوں سنبھالے رکھا ہے یہ مٹی کی ہانڈی تو خالی پڑی ہے بہت دیر سے آئنہ ہے بلاتا خودی سے تقابل کی آئی گھڑی ہے مجھے ڈر نہیں راہوں کی پیچ و خم کا ہر اک ...

مزید پڑھیے

کوئی یقین کرے کیوں کسی گواہی پہ

کوئی یقین کرے کیوں کسی گواہی پہ مجھے یقیں نہیں جب اپنی بے گناہی پے اٹھے نہ ظل الٰہی پہ انگلی اب کوئی یہ حرف ہار کا آئے کسی سپاہی پہ نشان راہی کے راہوں پہ ہو نہ ہو لیکن نشان راہوں کے اکثر ملیں گے راہی پہ ادا یہ سیکھ ہی لیتا اگر پتہ ہوتا سروں کے دام تو لگنے ہیں کج کلاہی پہ رہوں گا ...

مزید پڑھیے

راستے سے گئے ہٹائے ہم

راستے سے گئے ہٹائے ہم پھر بھی منزل کے پاس آئے ہم تھے حقیقت نظر نہ آئے ہم جب ہوئے خواب جگمگائے ہم گو چلے تھے، پہنچ نہ پائے ہم ہم وہیں ہیں جہاں سے آئے ہم اپنا بادل تلاشنے کے لیے عمر بھر دھوپ میں نہائے ہم منزلیں ان کی ہر سفر ان کا راستے تھے بنے بنائے ہم شور دن کا پلا گیا چپی نیند ...

مزید پڑھیے

بنا روئے گزرنا اس گلی سے

بنا روئے گزرنا اس گلی سے لگا ایسا گئے ہم زندگی سے جیا ہوں عمر بھر میں بھی اکیلا اسے بھی کیا ملا ناراضگی سے ہوں جس کا منتظر اگلے جنم تک ملی تو کیا کہوں گا اس پری سے لہو میں روز اپنے ہی نہانا میں عاجز آ گیا ہوں شاعری سے جھلک اک موت کی دیکھے تو مانوں جسے ڈر لگ رہا ہے زندگی سے کوئی ...

مزید پڑھیے

درد اس درجہ ملے ضبط میں کامل ہوا میں

درد اس درجہ ملے ضبط میں کامل ہوا میں اس کو پانے کی طلب میں کسی قابل ہوا میں فون پر بات ہوئی اس سے تو اندازہ ہوا اپنی آواز میں بس آج ہی شامل ہوا میں رو کے اکثر میں ہنسا ہنس کے میں رویا بھی اگر زندگی تجھ میں تو ہر رنگ میں شامل ہوا میں زندگی چین کی سب کو ہی بھلی لگتی ہے کیسے حالات ...

مزید پڑھیے

سینہ میں مرے بوجھ بھی اور دہکا چمن بھی

سینہ میں مرے بوجھ بھی اور دہکا چمن بھی کیا چیز تری یاد ہے خوشبو بھی گھٹن بھی پہلے تو تمنا تھی تری صرف مگر اب آنکھوں میں نظر آنے لگی میری تھکن بھی ہے عشق سفر دل سے فقط دل کا مگر کیوں اس راہ میں آتے ہیں بیاباں بھی چمن بھی جو دل پہ گزرتی ہیں رقم کر اسے دل پر زخموں کی نمائش نہ بنے بزم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2269 سے 6203