قومی زبان

حیرت انگیز ہوا چاہتی ہے

حیرت انگیز ہوا چاہتی ہے آہ زرخیز ہوا چاہتی ہے اپنی تھوڑی سی دھنک دے بھی دے رات رنگ ریز ہوا چاہتی ہے آب جو دیکھ ترے ہوتے ہوئے آگ آمیز ہوا چاہتی ہے بس پیالہ ہی طلب گار نہیں مے بھی لبریز ہوا چاہتی ہے روشنی تجھ سے بھلا کیا پرہیز تو ہی پرہیز ہوا چاہتی ہے

مزید پڑھیے

بھلا دیا ہے جو تو نے تو کچھ ملال نہیں

بھلا دیا ہے جو تو نے تو کچھ ملال نہیں کئی دنوں سے مجھے بھی ترا خیال نہیں ابھی ابھی تو ستارے زمیں پہ اترے ہیں ابھی سے بزم سے اپنی مجھے نکال نہیں ہے درد تو ہی دوا تو حکیم تو ہی مریض ترا کمال یہی ہے تری مثال نہیں فقط یقین پہ چلتا ہے زندگی کا سفر وگرنہ کون ہے جو ڈھو رہا سوال ...

مزید پڑھیے

ہم وہی ناداں ہیں جو خوابوں کو دھر کر تاک پر

ہم وہی ناداں ہیں جو خوابوں کو دھر کر تاک پر جاگتے ہی روز رکھ دیتا ہے خود کو چاک پر دل وہ دریا ہے جسے موسم بھی کرتا ہے تباہ کس طرح الزام دھر دیں ہم کسی تیراک پر ہم تو اس کے ذہن کی عریانیوں پر مر مٹے داد اگرچہ دے رہے ہیں جسم اور پوشاک پر ہم بخوبی جانتے ہیں بس ہمارے جاتے ہی کیسے کیسے ...

مزید پڑھیے

غم کی ڈھلوان تک آئے تو خوشی تک پہنچے

غم کی ڈھلوان تک آئے تو خوشی تک پہنچے آدمی گھاٹ تک آئے تو ندی تک پہنچے عشق میں دل کے علاقے سے گزرتی ہے بہار درد احساس تک آئے تو نمی تک پہنچے اف یہ پہرے ہیں کہ ہیں پچھلے جنم کے دشمن بھنورا گلدان تک آئے تو کلی تک پہنچے نیند میں کس طرح دیکھے گا سحر یار مرا وہم کے چھور تک آئے تو کڑی تک ...

مزید پڑھیے

وہ یار ہم سے خفا ہے تو ہو ہوا سو ہوا

وہ یار ہم سے خفا ہے تو ہو ہوا سو ہوا پھر اس کا قصہ ہی کیا جانے دو ہوا سو ہوا اگر رقیب شرارت سے باز نہیں آتا بلا سے اپنی کنویں میں پڑو ہوا سو ہوا ہر اک بات میں تم کیوں الجھتے ہو یارو دیکھو یہ مفت گدھے مت چڑھو ہوا سو ہوا یہ سارا قضیہ تو ہم سے ہے اس سے تم کو کیا تم اپنے ایک طرف ہو رو ...

مزید پڑھیے

مجھے تاریک راتوں کا ستم سونے نہیں دیتا

مجھے تاریک راتوں کا ستم سونے نہیں دیتا بھلے ہی درد زیادہ ہو یا کم سونے نہیں دیتا اداسی چیختی رہتی ہے اکثر دیر راتوں تک مجھے ہستی کا ہر رنج و الم سونے نہیں دیتا نہ جانے کتنے سایوں کا تعاقب ہے ابھی کرنا مجھے اکثر یہی بس ایک غم سونے نہیں دیتا ابھی حالت ہیں ایسے کے ہر شے بکھری ...

مزید پڑھیے

یہ جو ٹوٹے سے ہیں الفاظ سبھی میرے ہیں

یہ جو ٹوٹے سے ہیں الفاظ سبھی میرے ہیں جتنے بکھرے ہیں یہاں ساز سبھی میرے ہیں آج کے دور زباں بندی میں مجھ کو اب تک دے رہے ہیں جو اک آواز سبھی میرے ہیں حکمراں ننگا ہے لیکن یہ کہے پھرتا ہے ریشم و اطلس و کم خواب سبھی میرے ہیں اک زمانے سے کلیجے سے رکھا ہے ان کو دل میں پنہاں ہیں جو سب ...

مزید پڑھیے

کتنی بار بتاؤں تجھ کو کیسا لگتا ہے

کتنی بار بتاؤں تجھ کو کیسا لگتا ہے تجھ سے ملنا باتیں کرنا اچھا لگتا ہے نتھنی سے اوپر پلکوں سے نیچے گھونگھٹ رکھ مجھ کو آدھا چاند بہت ہی پیارا لگتا ہے صدیوں سے ہے یوں ہی تر و تازہ اور خوشبو دار کیسے کہہ دوں عشق گلابوں جیسا لگتا ہے آنسو کا قطرہ کھارا ہی ہوتا ہے لیکن تجھ کو دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

چڑھا کر تیر نظروں کی کماں پر

چڑھا کر تیر نظروں کی کماں پر حسینوں کے قدم ہیں آسماں پر ہر اک لمحہ لگے وہ آ رہے ہے یقیں بڑھتا ہی جاتا ہے گماں پر کوئی وعدہ وفا ہو جائے شاید بھروسہ آج بھی ہے جان جاں پر اترتی ہی نہیں بوسوں کی لذت ابھی تک سواد رکھا ہے زباں پر کسی کی روح پیاسی رہ نہ جائے لہٰذا غم برستے ہے جہاں ...

مزید پڑھیے

مکانوں کے نگر میں ہم اگر کچھ گھر بنا لیتے

مکانوں کے نگر میں ہم اگر کچھ گھر بنا لیتے تو اپنی بستیوں کو سورگ سے بڑھ کر بنا لیتے ہمیں اپنے علاقوں سے محبت ہو نہیں پائی وگرنہ زندگی کو اور بھی بہتر بنا لیتے سمے سے لڑ رہے تھے اور لمحے کر دیے برباد ہمیں کرنا یہ تھا لمحات کا لشکر بنا لیتے غنیمت ہے کہ جنگل کے اصولوں کو نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2256 سے 6203