قومی زبان

کس کے نغمے گونجتے ہیں زندگی کے ساز میں

کس کے نغمے گونجتے ہیں زندگی کے ساز میں اک نئی آواز شامل ہے مری آواز میں میرے گھر میں چھا رہی تھی شام غم کی تیرگی جب اجالا ہو رہا تھا جلوہ گاہ ناز میں درد دل میں یوں بھی جب ہوتی نہیں کوئی کمی کیا ضروری ہے اضافہ حسن کے انداز میں میں اگر خاموش ہوں خاموش رہنے دیجیے میری خاموشی سے ...

مزید پڑھیے

سرد آہوں نے مرے زخموں کو آباد کیا

سرد آہوں نے مرے زخموں کو آباد کیا دل کی چوٹوں نے جو رہ رہ کے تجھے یاد کیا مہربانی مرے صیاد کی دیکھے کوئی جب خزاں آئی مجھے قید سے آزاد کیا محفل ناز سے لایا جو یہاں تک ان کو تو نے یہ کام عجب اے دل ناشاد کیا میکشوں نے اسے ساقی کا اشارہ سمجھا جھک کے شیشے نے جو ساغر سے کچھ ارشاد ...

مزید پڑھیے

اظہار حال سن کے ہمارا کبھی کبھی

اظہار حال سن کے ہمارا کبھی کبھی وہ بھی ہوئے ہیں انجمن آرا کبھی کبھی میں اور عرض شوق مری کیا مجال ہے ہوتا ہے اس طرف سے اشارا کبھی کبھی راہ طلب میں اور کوئی رہنما نہیں دیتی ہیں لغزشیں ہی سہارا کبھی کبھی سنتا ہوں مجھ سے چھٹ کے نہیں وہ بھی مطمئن نظروں کو ڈھونڈھتا ہے نظارا کبھی ...

مزید پڑھیے

نظر سے چھپ گئے دل سے جدا تو ہونا تھا

نظر سے چھپ گئے دل سے جدا تو ہونا تھا اس اہتمام سے تم کو خفا تو ہونا تھا وفا خود اپنے مقابل ہوئی محبت میں ترے ستم کی کوئی انتہا تو ہونا تھا کہاں پہنچ کے رکے آپ بے وفائی سے لحاظ میری وفا کا ذرا تو ہونا تھا سنور کے آئنہ دیکھا تو ہنس کے فرمایا وہ سامنے ہیں مگر سامنا تو ہونا تھا اگر ...

مزید پڑھیے

ہر وہ ہنگامہ ناگہاں گزرا

ہر وہ ہنگامہ ناگہاں گزرا دو دلوں کے جو درمیاں گزرا تم کسی کے نہیں زمانے میں ہم کو ایسا بھی اک گماں گزرا جو محبت میں ہم پہ گزرا ہے تم پہ وہ وقت ابھی کہاں گزرا نقش پا راستہ دکھاتے ہیں کس کی منزل سے کارواں گزرا دل کی بے تابیوں پہ وہ چپ تھے میرا ہنسنا انہیں گراں گزرا کیا ہوا ...

مزید پڑھیے

محفلوں کو گزار پائے ہم

محفلوں کو گزار پائے ہم تب کہیں خلوتوں پہ چھائے ہم ہیں اداسی کے کوکھ جائے ہم زندگی کو نہ راس آئے ہم کھاد پانی بنا دیا خود کو سلسلے وار لہلہائے ہم نسل تاروں کی ضد لگا بیٹھی استعارے اتار لائے ہم روح کے ہونٹھ سل کے ہی مانے حرکتوں سے نہ بعض آئے ہم فرض ہم پر ہے روشنی کا سفر نور کی ...

مزید پڑھیے

یہ عجوبہ تو ہو نہیں سکتا

یہ عجوبہ تو ہو نہیں سکتا سب کچھ اچھا تو ہو نہیں سکتا جس پہ آتا ہے اس پہ آتا ہے دل سبھی کا تو ہو نہیں سکتا چاہ کو تاک پر رکھیں کب تک یوں گزارہ تو ہو نہیں سکتا اور کچھ راستہ نہیں ورنہ غم گوارہ تو ہو نہیں سکتا اب سے بس مسکرا کے دیکھیں گے تم سے جھگڑا تو ہو نہیں سکتا ساتھ میں ہوگی اس ...

مزید پڑھیے

اور تو اپنی قسمت میں کیا لکھا ہے

اور تو اپنی قسمت میں کیا لکھا ہے تیرے نام کی مالا جپنا لکھا ہے کب تک میرا نام چھپائے گی سب سے ہیر ترے چہرہ پر رانجھا لکھا ہے اگر نہیں میں تو پھر اس کا نام بتا جس کی قسمت میں مے خانہ لکھا ہے پڑھنے والے پڑھ کر چپ ہو جاتے ہیں کورے کاغذ پر جانے کیا لکھا ہے کوئی بھی یگ ہو کوئی بھی ...

مزید پڑھیے

تمام خشک دیاروں کو آب دیتا تھا

تمام خشک دیاروں کو آب دیتا تھا ہمارا دل بھی کبھی آسمان جیسا تھا عجیب لگتی ہے محنت کشوں کی بد حالی یہاں تلک تو مقدر کو ہار جانا تھا نئے سفر کا ہر اک موڑ بھی نیا تھا مگر ہر ایک موڑ پہ کوئی صدائیں دیتا تھا بغیر پوچھے مرے سر میں بھر دیا مذہب میں روکتا بھی تو کیسے کہ میں تو بچہ ...

مزید پڑھیے

اور تعارف ہمارا ہو بھی کیا

اور تعارف ہمارا ہو بھی کیا اک شناور جو ڈوب تک نہ سکا کچھ بھنور یوں اچٹ پڑے تھے جیوں خودکشی پر ہو کوئی آمادہ اک بگولے کی بات تھوڑی ہے ہر بگولے نے گرد کو روندا بلبلے سطح آب کو چھو کر ہم کو دنیا کا دے گئے نقشہ وہ تو سانسوں نے شامیں سلگائیں آدمی کو یہ علم ہی کب تھا اب ہواؤں کے دام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2255 سے 6203