قومی زبان

حالات اب تو اتنے دشوار ہو گئے ہیں

حالات اب تو اتنے دشوار ہو گئے ہیں ہم نیم شب میں اکثر بیدار ہو گئے ہیں جو لوگ سادہ دل تھے پرکار ہو گئے ہیں اب آدمی کے رشتے دشوار ہو گئے ہیں یہ زندگی کی نعمت کس کو نہیں ہے پیاری مت پوچھ اس سے ہم کیوں بیزار ہو گئے ہیں عسرت میں جن کا شیوہ کل تک تھا خود فروشی دولت کے ملتے ہی وہ خوددار ...

مزید پڑھیے

اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش

اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انساں کی تلاش میں نہیں کہتا کہ دنیا میں ہے الفت کی کمی مجھ کو ہے لیکن اسی جنس فراواں کی تلاش بار خاطر ہے حیات پر سکون و پر جمود میں وہ ساحل ہوں جسے رہتی ہے طوفاں کی تلاش اس جہاں کو جب بنا سکتا ہے وہ رشک ...

مزید پڑھیے

ہوس کی آگ بجھی دل کی تشنگی ہے وہی

ہوس کی آگ بجھی دل کی تشنگی ہے وہی سکون جاں سے تہی میری زندگی ہے وہی دل فسردہ میں احساس ہی نہیں باقی جہان کہنہ میں ورنہ شگفتگی ہے وہی جمال اور جنوں ہو چکے زمانہ شناس نیاز و ناز میں کہنے کو سادگی ہے وہی کوئی قصور تو ثابت نہ ہو سکا لیکن جو بد گماں تھے انہیں مجھ سے برہمی ہے وہی وہ ...

مزید پڑھیے

ترے در کے سوا سجدوں کو بہلانے کہاں جاتے

ترے در کے سوا سجدوں کو بہلانے کہاں جاتے ہم آخر عقدۂ مشکل کو سلجھانے کہاں جاتے بجز دشت محبت دل کو بہلانے کہاں جاتے جنہیں ٹھکرا دیا تو نے وہ دیوانے کہاں جاتے تری بے التفاتی کا کرم ہم پر ہوا ورنہ دل غم آشنا کو غم سے بہلانے کہاں جاتے مشیت رزق پہنچاتی نہ گر افلاک میں مجھ کو تو میرے ...

مزید پڑھیے

مری نظر بس مری نظر تھی مگر تمہاری نظر سے پہلے

مری نظر بس مری نظر تھی مگر تمہاری نظر سے پہلے وجود سے اپنے بے خبر تھا مگر تمہاری خبر سے پہلے یہ شب کی تاریکیاں بھی کب سے ترے ہی جلوے کی منتظر ہیں مگر اے خورشید تاباں تیری ضیا ہو کیونکر سحر سے پہلے رہے ہو پابند رسم کہنہ کے میکدے میں بھی تم وگرنہ نگاہ ساقی میں تھا اشارہ بتاؤ دوں ...

مزید پڑھیے

خلوص و پیار گر اہل چمن کے درمیاں ہوتا

خلوص و پیار گر اہل چمن کے درمیاں ہوتا چمن میں رہنا ہم کو کس لئے بار گراں ہوتا چھپا رکھا اجل کی آنکھ سے اس ناتوانی نے وگرنہ پیکر خاکی یہ جنت آشیاں ہوتا فضیلت اس کو ثابت کرنی تھی انسان کی ورنہ رسول آتے نہ دنیا میں نہ صحرا گلستاں ہوتا لٹا کر دولت ہوش و خرد یہ مدعا پایا ہمیں اے کاش ...

مزید پڑھیے

جھونپڑوں پر مفلسی کے خوب چلاتی ہے دھوپ

جھونپڑوں پر مفلسی کے خوب چلاتی ہے دھوپ ہاں مگر دیکھا کہ زرداروں سے شرماتی ہے دھوپ گردشوں سے تھک کے گھر میں جب پڑا رہتا ہوں میں صحن خانہ میں مرے تلووں کو سہلاتی ہے دھوپ چھین لیتی ہے کبھی چہروں سے گل شادابیاں اور کبھی ٹھٹھرے ہوئے جسموں کو گرماتی ہے دھوپ پھیرتی ہے بستیوں پر ہاتھ ...

مزید پڑھیے

ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں

ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں کس کس کے در پہ مانگیں دعا تیرے شہر میں مجرم ہیں سارے اہل وفا تیرے شہر میں کیا خوب ہے وفا کا صلہ تیرے شہر میں اہل ہوس کے نام سے ہیں روشناس خلق ملتی ہے جن کو داد وفا تیرے شہر میں رکھتے ہیں لوگ تہمتیں اپنے نصیب پر کرتے ہیں یوں بھی تیرا گلا تیرے شہر ...

مزید پڑھیے

چراغ اگنے کے دن نہیں ہیں

زماں کی گردش خطوط جتنے بھی امن و الفت کے تم نے ہم کو دیے ہیں اب تک ذرا رکو تو ہمیں بتاؤ تمہارے لفظوں کی آستینوں میں کیا چھپا ہے وہ کوہ قافی قبیلہ جس نے نئے زمانوں کو سرخ چادر سے ڈھانپ لینے کا حکم صادر کیا ہے پھر سے وہ نوچتا ہے ان آئنوں کو کہ جن پہ سورج کا عکس چھلکے تو روشنی ہو خدا کے ...

مزید پڑھیے

دستک

ہر طرف کیوں ہے دھواں خیمۂ جاں میں لرزتے ہیں دیے خواہش کے اور کسی لو کو سرکنے کی اجازت بھی نہیں کسی امید کا در کھلتا نہیں کسی قرطاس پہ کھلتے نہیں روشن لہجے کیا اجالوں کے صحیفوں کو مسیحا نے جلا ڈالا ہے کیوں درختوں نے پرندوں کے ترانوں میں اداسی پھونکی آؤ اک عہد کریں کوئی تابوت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2246 سے 6203