قومی زبان

آنکھوں میں بے رخی نہیں دل میں کشیدگی نہیں

آنکھوں میں بے رخی نہیں دل میں کشیدگی نہیں پھر بھی جو دیکھیے تو اب پہلی سی دوستی نہیں رسم وفا کا التزام عہد وفا کا احترام شیوۂ عاشقی تو ہے فطرت عاشقی نہیں ہم سے شکایتیں بجا ہم کو بھی ہے مگر گلہ پہلے سے ہم نہیں اگر پہلے سے آپ بھی نہیں بزم طرب میں دوستو دیکھ رہا ہوں میں یہی رقص ...

مزید پڑھیے

مری خستگی کو جمال دے

مری خستگی کو جمال دے مری بندگی کو کمال دے مرے دل کو نور میں ڈھال کر مرے فکر و فن کو اجال دے تو عروج دے مرے صبر کو مری خواہشوں کو زوال دے جو نکھار دے مری روح کو مرے دل کو ایسا ملال دے کوئی چاند بخش کے رات کو مری ہر سیاہی کو ٹال دے مری چشم گریہ کو حسن بخش دل ریزہ ریزہ سنبھال ...

مزید پڑھیے

پیماں وفا کے باندھ کے جانے کدھر گیا

پیماں وفا کے باندھ کے جانے کدھر گیا صحرائے ہجر میرے لیے بن بھنور گیا میری نگاہ شرمگیں جھکتی چلی گئی اس کا بھی شوق مہر و وفا پر اثر گیا اک شوخ سی نگاہ جو رخ پہ جمی رہی عارض پہ اک حسین سا غازہ اتر گیا اس کی کتاب شوق کا سادہ ورق تھی میں میرا بھی عشق دیکھ کے اس کو سنور گیا منزل کی ...

مزید پڑھیے

دل بھی تنہا رہتا ہے اور مری طلب تنہا

دل بھی تنہا رہتا ہے اور مری طلب تنہا آنسوؤں کے میلے میں رہتی ہوں میں اب تنہا خلوتوں کو ہے میری کس قدر حسیں نسبت میں زمیں پہ تنہا ہوں عرش پر ہے رب تنہا اک شجر تھا صحرا میں دھوپ تھی کڑی جس پر ڈھل گیا تھا سایہ بھی رہ گیا وہ جب تنہا کیا تجھے خبر بھی ہے ہجر کی حویلی میں رات بھر تڑپتا ...

مزید پڑھیے

کوئی مہتاب نہیں کوئی ستارا بھی نہیں

کوئی مہتاب نہیں کوئی ستارا بھی نہیں اے خدا بحر محبت کا کنارا بھی نہیں ہاں وہی شخص کہ تھا لفظ جدائی سے خفا دم رخصت مجھے ظالم نے پکارا بھی نہیں کیا سکھائے گا وہ آداب محبت مجھ کو راہ الفت میں جسے رنج گوارا بھی نہیں شب ہجراں میں لیے بیٹھی ہوں اشکوں کے چراغ کیا کروں اس کے سوا تو ...

مزید پڑھیے

کس قوت‌ بے درد کا اظہار ہے دنیا

کس قوت‌ بے درد کا اظہار ہے دنیا ہر دل کو گلا ہے کہ دل آزار ہے دنیا لوگ اس کو کہا کرتے ہیں اچھا بھی برا بھی کیا خوب کہ دونوں کی سزاوار ہے دنیا ملتا ہی نہیں کوئی دل زار کا پرساں میرے لیے اک محفل اغیار ہے دنیا ہر سنگ میں دنیا کو نظر آتا ہے اک بت اور ایسے ہر اک بت کی پرستار ہے ...

مزید پڑھیے

چشم نم کچھ بھی نہیں اور شعر تر کچھ بھی نہیں

چشم نم کچھ بھی نہیں اور شعر تر کچھ بھی نہیں اب یہاں خون جگر نقش ہنر کچھ بھی نہیں ہے سبھی کچھ مہرباں نا مہرباں لفظوں کا پھیر زندگی میں معتبر نا معتبر کچھ بھی نہیں دل سے دل کو راہ کیسی ہے یہ حسن اتفاق ورنہ دنیا میں محبت کا اثر کچھ بھی نہیں جس ہنر کو لوگ سمجھیں گے کبھی لعل و گہر آج ...

مزید پڑھیے

یہ جو انساں خدا کا ہے شہکار

یہ جو انساں خدا کا ہے شہکار اس کی قسمت پہ ہے خدا کی مار مرگ دشمن کی آرزو ہی سہی دل سے نکلے کسی طرح تو غبار نام بدنام ہو چکا حضرت کیجیے اب تو جرم کا اقرار ہوگا دونوں کا خاتمہ بالخیر اب تصادم میں ہے نہ جیت نہ ہار بک چکی جنس نادر و نایاب ہو چکی ختم گرمئ بازار اتفاقی ہے دو دلوں کا ...

مزید پڑھیے

جن کے گناہ میری نظر سے نہاں نہیں (ردیف .. گ)

جن کے گناہ میری نظر سے نہاں نہیں رہتے ہیں مجھ سے دل میں خفا کس قدر وہ لوگ منزل جنہیں عزیز نہ رہرو جنہیں عزیز کہلاتے ہیں ہمارے یہاں راہبر وہ لوگ انجام کارواں تھا اسی بات سے عیاں منزل تھی جن کی اور بنے ہم سفر وہ لوگ اپنا سمجھ سکیں نہ جنہیں غیر کہہ سکیں ملتے ہیں ہر قدم پہ سر رہگزر ...

مزید پڑھیے

کسی دل میں میرے لئے پیار کیوں ہو

کسی دل میں میرے لئے پیار کیوں ہو یہ ایثار ہے اور ایثار کیوں ہو تباہی ہو جب آرزو کا مقدر تو دل اس تباہی سے ہشیار کیوں ہو یہ خوددار ہونا ہی لایا خرابی محبت میں انسان خوددار کیوں ہو کوئی اپنے ہی غم سے خالی کہاں ہے جہاں میں کوئی میرا غم خوار کیوں ہو نہ پہلا سا ملنا نہ آنا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2245 سے 6203