قومی زبان

ہم شکستہ دل ستم گر بن گئے

ہم شکستہ دل ستم گر بن گئے آئنے ٹوٹے تو خنجر بن گئے ہم پرندوں سے ہنر چھینے گا کون جل گیا اک گھر تو سو گھر بن گئے وقت کے دھارے نے بدلا وہ مزاج شبنمی قطرے سمندر بن گئے خوش نما گنبد تو کوئی اور ہے ہم تو بنیادوں کے پتھر بن گئے اے خدا اپنی خدائی دیکھ لے لوگ تو خود ہی پیمبر بن گئے اب ...

مزید پڑھیے

اپنی دانشوری سے ڈرتا ہوں

اپنی دانشوری سے ڈرتا ہوں جاہلوں کو سلام کرتا ہوں کیسا ناداں ہوں زندگی میں بھی تیری چاہت میں روز مرتا ہوں اس میں پستی بھی ساتھ دیتی ہے جب بلندی سے میں اترتا ہوں جانے کس وقت موت آ جائے بس یہی سوچ کر سنورتا ہوں مجھ کو محسوس کر کہ میں تجھ سے خوشبوؤں کی طرح گزرتا ہوں آسماں تک یہیں ...

مزید پڑھیے

در پہ آئیں بھی ترے ہم تو وہ زنجیر کہاں

در پہ آئیں بھی ترے ہم تو وہ زنجیر کہاں تیرا انصاف کہاں عدل جہانگیر کہاں شاہ عالم تو کنیزوں پہ نظر رکھتے ہیں ہم کو وہ یاد کریں اپنی یہ تقدیر کہاں دل یہ کہتا ہے کہ اک دن وہ نمایاں ہوگا لوگ کہتے ہیں کہ اس دور میں شبیر کہاں اپنی آنکھیں ہی منافق ہوں تو منظر کیسے خواب بک جائیں تو پھر ...

مزید پڑھیے

دل دھواں دینے لگے آنکھ پگھلنے لگ جائے

دل دھواں دینے لگے آنکھ پگھلنے لگ جائے تم جسے دیکھ لو اک بار وہ جلنے لگ جائے رقص کرتی ہیں کئی روشنیاں کمرے میں اس کا چہرہ نہ کہیں رنگ بدلنے لگ جائے تیز رفتارئ دنیا نہ بدل دے معیار شام کے ساتھ کہیں عمر نہ ڈھلنے لگ جائے روشنی میں تری رفتار سے کرتا ہوں سفر زندگی مجھ سے کہیں تیز نہ ...

مزید پڑھیے

گلاب و ناز بو ہے یا سمن ہے

گلاب و ناز بو ہے یا سمن ہے تری ہستی مجسم اک چمن ہے تجھی سے ہے چمن کی زیب و زینت تجھی سے سرخ لالے کا بدن ہے تجھی سے دفتروں میں ہیں بہاریں تجھی سے کرسیوں میں بانکپن ہے تجھی سے گردنوں میں خم ہیں باقی تجھی سے کند ماتھوں پر شکن ہے تجھی سے رونقیں محفل بہ محفل تجھی سے دل کشا ہر انجمن ...

مزید پڑھیے

شکستہ پائیاں ہیں جان و دل بھی چور ہیں ساقی

شکستہ پائیاں ہیں جان و دل بھی چور ہیں ساقی حمیت کے کلیجے میں بڑے ناسور ہیں ساقی ادھر غیرت کی خشکی ہے نہ گولر ہے نہ بیری ہے مگر جس سمت چمچے ہیں ادھر انگور ہیں ساقی تقرب ہائے افسر ہے نہ عیش مرغ و ماہی ہے ابھی دفتر کے آنے پر بھی ہم مجبور ہیں ساقی سبھی معصوم و صادق لائق تعزیر ہو ...

مزید پڑھیے

تڑپ رہی ہے زمیں اپنی سنگ در کے لیے

تڑپ رہی ہے زمیں اپنی سنگ در کے لیے بس ایک سجدہ ہی کافی ہے عمر بھر کے لیے اجالے بانٹ کے دنیا کو یہ خیال آیا کوئی چراغ نہیں رکھا اپنے گھر کے لیے مجھے یقین ہے دیکھوں گا اپنی آنکھوں سے چراغ دل کو جلایا ہے جس سحر کے لیے

مزید پڑھیے

کسی بازار میں سودا نہیں ہونے دیتے

کسی بازار میں سودا نہیں ہونے دیتے وہ ہمیں اور کسی کا نہیں ہونے دیتے جب سنبھلتی ہے طبیعت تو چلے آتے ہیں آپ اپنے بیمار کو اچھا نہیں ہونے دیتے تم نے کیوں دیکھا پلٹ کر ہمیں وقت رخصت کیوں کسی حال میں تنہا نہیں ہونے دیتے اب بھی روشن ہے بزرگوں کی حویلی کے چراغ ہم کسی نقش کو دھندلا ...

مزید پڑھیے

درد پرسش سے سوا ہوتا ہے

درد پرسش سے سوا ہوتا ہے یہی انجام وفا ہوتا ہے اٹھ کے جایا نہ کرو گلشن سے ہم سے ہر پھول خفا ہوتا ہے ان کی یادوں کی جب آتی ہے بہار زخم دل اور ہرا ہوتا ہے آپ کہتے ہیں ہمیں بھول گئے آپ کے کہنے سے کیا ہوتا ہے

مزید پڑھیے

آنکھوں نے کبھی میری یہ منظر نہیں دیکھا

آنکھوں نے کبھی میری یہ منظر نہیں دیکھا غواص نے ایسا کبھی گوہر نہیں دیکھا ہو جاتیں شرف یاب یہ آوارہ ہوائیں گلیوں سے کبھی اس کی گزر کر نہیں دیکھا آراستہ ہے خود ہی اداؤں سے ستم گر پھر کیا ہے عجب اس پہ جو زیور نہیں دیکھا تھا نجم شناسی کا بڑا زعم جو خود پر اس جیسا فلک پر مگر اختر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 222 سے 6203