قومی زبان

اشک چشم بت بے جاں سے نکل سکتا ہے

اشک چشم بت بے جاں سے نکل سکتا ہے آہ پر سوز سے پتھر بھی پگھل سکتا ہے اپنے انداز تکلم کو بدل دے ورنہ میرا لہجہ بھی ترے ساتھ بدل سکتا ہے لوگ کہتے تھے کہ پھلتا نہیں نفرت کا شجر ہم کو لگتا ہے کہ اس دور میں پھل سکتا ہے میرے سینے میں محبت کی تپش باقی ہے میری سانسوں سے ترا حسن پگھل سکتا ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی تیر نہ کوئی کمان باقی ہے

نہ کوئی تیر نہ کوئی کمان باقی ہے مگر وہ اک نگہ مہربان باقی ہے اڑا کے لے گئیں ہجرت کی آندھیاں سب کچھ بس اپنے سر پہ کھلا آسمان باقی ہے اک اور تیر چلا اپنا عہد پورا کر ابھی پرندے میں تھوڑی سی جان باقی ہے فضا میں گونج رہی ہے صدائے مظلوماں زباں خموش ہے لیکن بیان باقی ہے مٹا سکا نہ ...

مزید پڑھیے

طلسم خواب و خیال تک تھا

طلسم خواب و خیال تک تھا مرا یقیں احتمال تک تھا عجیب تھا درد نارسائی صدا بہ صحرا سوال تک تھا چراغ آنکھوں میں جل رہے تھے سکوت شام ملال تک تھا دیار شب کا اداس منظر طلوع حسن زوال تک تھا تبسم دل نواز بھی اے نازؔ لب گل پائمال تک تھا

مزید پڑھیے

کل اس کے نیک بننے کا امکان بھی تو ہے

کل اس کے نیک بننے کا امکان بھی تو ہے مجرم ضرور ہے مگر انسان بھی تو ہے چہرہ حسیں وہ دشمن ایمان بھی تو ہے لیکن نشاط روح کا سامان بھی تو ہے غربت کی ٹھوکروں میں جو پل کر جواں ہوا طوفاں کے روبرو وہی چٹان بھی تو ہے کل تک اٹھی تھیں جس کی شرافت پہ انگلیاں اپنے کئے پہ آج پشیمان بھی تو ...

مزید پڑھیے

خانوں میں خود ہی بٹ کے اب انسان رہ گیا

خانوں میں خود ہی بٹ کے اب انسان رہ گیا دیکھا جب اپنا حشر پریشان رہ گیا پرکھوں کی شاندار حویلی کا ذکر چھوڑ آباد کر کھنڈر کو جو ویران رہ گیا گرد سفر میں پھول سے چہرے اتر گئے آئینہ ان کو دیکھ کے حیران رہ گیا دل بھر گیا ہے اپنا مسافت کے شوق میں منزل ہے دور رستہ بھی سنسان رہ گیا ہم ...

مزید پڑھیے

یوں زندگی کی ہم نے سیہ رات کاٹ دی

یوں زندگی کی ہم نے سیہ رات کاٹ دی بن چھت کے گھر میں جیسے کہ برسات کاٹ دی آتا ہو ملک و قوم کی عزت پہ جس سے حرف ہم نے خدا گواہ وہ ہر بات کاٹ دی گزری جو ناگوار ہمارے ضمیر کو مل بھی گئی تو ہم نے وہ سوغات کاٹ دی بن جائے وجہ دشمنی جو دو گھروں کے بیچ بچوں کی ہم نے ایسی ملاقات کاٹ دی طوفاں ...

مزید پڑھیے

کھڑکیاں دل کی کھول اے بھائی

کھڑکیاں دل کی کھول اے بھائی حسن ظن پھر ٹٹول اے بھائی حرف شیریں ہی بول اے بھائی شہد کانوں میں گھول اے بھائی تیرے گاہک نہ ٹوٹ جائیں کہیں کم تو ہرگز نہ تول اے بھائی ہیں یگانے بھی اپنے مطلب کے بند آنکھیں تو کھول اے بھائی کیسے پیتل بکے گا سونے میں جھول پھر بھی ہے جھول اے ...

مزید پڑھیے

جو ہمارا شریک حال رہا

جو ہمارا شریک حال رہا اس کا ہر دم ہمیں خیال رہا بے نیازی تھی ہر ادا ان کی پیار اپنا مگر بحال رہا ہم نہ گھبرائے حادثوں سے کبھی تکیۂ رب ذوالجلال رہا آہ محنت کشوں کی مجبوری روزی روٹی کا ہی سوال رہا ہو گئی شاہکار ہر تخلیق روبرو جب ترا جمال رہا راہ منزل ہوئی بہت آساں ہم سفر جب بھی ...

مزید پڑھیے

ہو وہ امیر شہر کہ بھوکا فقیر ہو

ہو وہ امیر شہر کہ بھوکا فقیر ہو خوش بخت اسے کہیں گے جو روشن ضمیر ہو دولت سے کب خرید سکے گا اسے کوئی غربت میں بھی جو اپنی انا کا اسیر ہو کیوں کر وہ کر سکے گا بھلا اپنا سر بلند ہر خاص و عام کی جو نظر میں حقیر ہو ایسا کہاں زمانے میں پیدا ہوا کوئی اپنی نظیر آپ ہو جو بے نظیر ہو کھاتا ...

مزید پڑھیے

تیری محبتوں کا طلب گار میں بھی ہوں

تیری محبتوں کا طلب گار میں بھی ہوں ایثار کا وفا کا پرستار میں بھی ہوں مرعوب میں نہیں تری اونچی اڑان سے موج ہوا سے برسر پیکار میں بھی ہوں حرص و ہوس کا دور ہے مجبور ہیں عوام رشوت ادائیگی کا گنہ گار میں بھی ہوں دریا دلی کا تیری اشارہ ملا تو ہے لیکن رہے خیال کہ خوددار میں بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2226 سے 6203