پرانے عکس کر کے رد ہمارے
پرانے عکس کر کے رد ہمارے بدل دیتا ہے خال و خد ہمارے طبیعت کے بہت آزاد تھے ہم رہی ٹھوکر میں ہر مسند ہمارے کھلی بانہوں سے ملتے تھے ہمیشہ مگر تھی درمیاں اک حد ہمارے ذرا سی دھوپ چمکے گی سروں پر پگھل جائیں گے موئے قد ہمارے
پرانے عکس کر کے رد ہمارے بدل دیتا ہے خال و خد ہمارے طبیعت کے بہت آزاد تھے ہم رہی ٹھوکر میں ہر مسند ہمارے کھلی بانہوں سے ملتے تھے ہمیشہ مگر تھی درمیاں اک حد ہمارے ذرا سی دھوپ چمکے گی سروں پر پگھل جائیں گے موئے قد ہمارے
چھوڑ کر اپنی زمیں اپنا سمندر سائیں میں بہت دور سے آیا ہوں ترے گھر سائیں کوئی بیری بھی نہیں کانچ کا برتن بھی نہیں پھر مرے صحن میں کیوں آتے ہیں پتھر سائیں برف کی گود میں پلتے ہوئے خاموش چنار غیر موسم میں سلگ اٹھتے ہیں اکثر سائیں پھول بن جاتے ہیں ہاتھوں میں مرے بچوں کے میری ٹوٹی ...
ان کے جب جب بھی مرے نام لفافے آئے ساتھ میں لوگوں کے کیا کیا نہ قیافے آئے وہ صحیفہ ہے مرا دل کہ تری نسبت سے جس پہ ہر دور میں زخموں کے اضافے آئے میرے احساس نے خوشبو کو بلایا جب بھی تیری زلفوں کے مہکتے ہوئے نامے آئے تجربے عمر کے ہر موڑ پہ منہ موڑ گئے کام کچھ آئے تو بچپن کے قیافے ...
بستی کی یہ اونچی حویلی درد کی چادر میں لپٹی جانے کس کو دیکھ رہی ہے برسوں سے ویران پڑی شاید تم کو یاد تو ہوگا اہل خرد وہ دور کہ جب اہل جنوں کی زنجیروں سے زندانوں میں جان پڑی مذہب سے کھلواڑ کیا تو اس کا یہ انجام ہوا مندر بھی ویران پڑا ہے مسجد بھی سنسان پڑی کس نے کس کو قتل کیا پہچان ...
خامشی باعث رسوائی نہیں ہوتی ہے مستقل بولنا دانائی نہیں ہوتی ہے ہر جگہ دل کے پھپھولے نہیں پھوڑا کرتے ہر جگہ زخم پہ ترپائی نہیں ہوتی ہے ہم غریبوں کے نوالوں پہ اثر پڑتا ہے ہر کسی کے لیے مہنگائی نہیں ہوتی ہے وقت آنے پہ بدل جاتے ہیں رشتے کتنے ایک ماں ہے کہ جو ہرجائی نہیں ہوتی ...
مرے حصے میں جو آنی ہے شہرت روک رکھی ہے مرے اخلاق نے بھی میری عزت روک رکھی ہے ہمارے پالتو طوطے کو بلی کر گئی زخمی مرے بچوں کی اس غم نے شرارت روک رکھی ہے تمہاری یاد نے ایسے ہمیں زندہ رکھا اب تک کسی نے جیسے گرنے سے عمارت روک رکھی ہے ابھی راتوں کی تنہائی میں اٹھ کر رونے والے ہیں اسی ...
مجھے یہ سن کے حیرانی بہت ہے تمہاری آنکھ میں پانی بہت ہے ترے دل پہ حکومت چاہتا ہوں مجھے اتنی ہی سلطانی بہت ہے مجھے اپنا مخالف مانتا ہے مرے بیٹے میں نادانی بہت ہے کسی کے سامنے حاجت تو رکھ دیں مگر اس میں پشیمانی بہت ہے الٰہی اس مرض سے دور رکھنا محبت میں پریشانی بہت ہے مری ...
کوئی نگاہ سے آیا گماں میں پھیل گیا بلا کا لطف مرے جسم و جاں میں پھیل گیا فضول کام سمجھتا تھا شاعری کو مگر یہ کاروبار تو سارے جہاں میں پھیل گیا کسی سے تلخ کلامی کے ہم نہیں قائل تمہارا زہر ہماری زباں میں پھیل گیا تمہیں تو ایسے ترقی ملی یہاں جیسے اٹھا زمیں سے دھواں آسماں میں پھیل ...
یہ قناعت ہے کہ ہر حال میں خوش رہتے ہیں دال ملتی ہے تو ہم دال میں خوش رہتے ہیں عشق سے ہم کو رہائی نہیں اچھی لگتی ہم وہ پنچھی ہیں کہ جو جال میں خوش رہتے ہیں میرا مولیٰ ترے ہاتھوں کو سلامت رکھے میرے آنسو ترے رومال میں خوش رہتے ہیں وقت گزرا تو جدائی بھی جدائی نہ رہی ہم یہاں اور وہ ...
عجب سماں ہے میں بند آنکھوں سے تک رہی ہوں خمار شب میں گلاب رت کی رفاقتوں سے مہک رہی ہوں وہ نرم خوشبو کی طرح دل میں اتر رہا ہے میں قرب جاں کی لطافتوں سے بہک رہی ہوں یہ چاہتوں کی حسین بارش کا معجزہ ہے کہ میری پوریں سلگ رہی ہیں میں قطرہ قطرہ پگھل رہی ہوں میں رنگ و خوشبو کا لمس پا ...