قومی زبان

گود میں ذرات کی سر اپنا رکھ کر سو گیا

گود میں ذرات کی سر اپنا رکھ کر سو گیا پیاس کی دہلیز پر دریا کا منظر سو گیا کچھ نظر آتا نہیں آئینۂ ایام میں عکس حیرت جاگ اٹھا خوابوں کا پیکر سو گیا درد کو درماں بنانے کا ہنر رکھتا تھا وہ اوڑھ کر جو وقت کی خوش رنگ چادر سو گیا جس کا رشتہ تھا جہان آگہی کے کرب سے وہ پیام امن کا حامی ...

مزید پڑھیے

برف کے پھول کھلے دھوپ کے دانے نکلے

برف کے پھول کھلے دھوپ کے دانے نکلے اب کے موسم میں سبھی خواب سہانے نکلے پھر مری یاد تجھے چین نہ لینے دے گی پھر تری بزم میں میرے ہی فسانے نکلے دو قدم بڑھتے ہی خود اپنا پتا کھو بیٹھے جب بھی ہم تجھ کو تری یاد دلانے نکلے ان کو ہر موڑ پہ خوشیوں کے دفینے ہی ملے میرے حصے میں فقط غم کے ...

مزید پڑھیے

برائے نام سہی حاصل طلب ٹھہرا

برائے نام سہی حاصل طلب ٹھہرا وہ ایک لمحہ جو سرمایۂ طرب ٹھہرا کھلے سروں پہ گھنی چھاؤں لے کے آیا تھا ہمارے پاس وہ ابر رواں بھی کب ٹھہرا نقیب امن رہا میں محاذ جنگ پہ بھی یہی اصول مری فتح کا سبب ٹھہرا کیا تھا جس کو کبھی تیرے نام سے منسوب وہی صحیفہ تو سرمایۂ ادب ٹھہرا وہی مرے لیے ...

مزید پڑھیے

سکوت ٹوٹنے والا ہے حادثہ ہوگا

سکوت ٹوٹنے والا ہے حادثہ ہوگا میں جانتا ہوں کہ پھر کوئی سانحہ ہوگا میں اپنے آپ کو رک کر سمیٹ لوں اب بھی کہ اس سے آگے بہت سخت مرحلہ ہوگا ہر ایک منظر خوش رنگ بے پناہ سہی مری نظر میں وہی عکس گم شدہ ہوگا نشان پائے گا اپنا نہ اس سفر میں وہ جہاں بھی جائے گا سنسان راستہ ہوگا ہماری روح ...

مزید پڑھیے

صحن احساس میں اک نقش نہاں تھا پہلے

صحن احساس میں اک نقش نہاں تھا پہلے تو نہیں تھا ترے ہونے کا گماں تھا پہلے تہ بہ تہ چار سو خوش رنگ صدا روشن تھی مجھ سے پہلے بھی کوئی جیسے یہاں تھا پہلے وہ بھی صحرا کی صداؤں میں گرفتار رہا اور مجھ میں بھی کوئی ریگ رواں تھا پہلے وقت نے کر دیا پتھر کی لحد میں تبدیل اپنا چھوٹا سا جو ...

مزید پڑھیے

اپنے ہونے کی ارزانی ختم ہوئی

اپنے ہونے کی ارزانی ختم ہوئی مشکل سے یہ تن آسانی ختم ہوئی تجھ کو کیا معلوم ہماری بینائی کیسے ہو کر پانی پانی ختم ہوئی بہتا ہے چپ چاپ بچھڑ کر چوٹی سے دریا کی پر شور روانی ختم ہوئی مٹی کی آواز سنی جب مٹی نے سانسوں کی سب کھینچا تانی ختم ہوئی دل پر سارے موسم بیت گئے جاویدؔ یعنی ...

مزید پڑھیے

وار ہر ایک مرے زخم کا حامل آیا

وار ہر ایک مرے زخم کا حامل آیا اپنی تلوار کے میں خود ہی مقابل آیا بادبانوں نے ہر اک سمت بدل کر دیکھی کوئی منظر نہ نظر صورت ساحل آیا گرد ہونے نے ہی مہمیز کیا میرا سفر میرا رستہ مری دیوار میں حائل آیا اس فسوں کی کوئی توضیح نہیں ہو پاتی اس کے ہاتھوں میں بھلا کیسے مرا دل آیا درد سے ...

مزید پڑھیے

ہم یوں ہی بکھرے نہیں ہر سو خس و خاشاک میں

ہم یوں ہی بکھرے نہیں ہر سو خس و خاشاک میں ہیں نمو بر دوش رنگ و بو خس و خاشاک میں اس کے ہونے کا گماں رہتا ہے میرے آس پاس ہر طرف رچ بس گئی خوشبو خس و خاشاک میں ہو ثمر آور ہماری آبلہ پائی کہیں چین آ جائے کسی پہلو خس و خاشاک میں چاہئے ہوتی ہے کشت زر کو جب بھی کچھ نمو میں بہا دیتا ہوں ...

مزید پڑھیے

سنا دی کس نے روداد غم دل کوہساروں کو

سنا دی کس نے روداد غم دل کوہساروں کو میں اکثر سوچتا ہوں دیکھ کر ان آبشاروں کو گئے موسم کا اک پیلا سا پتا شاخ پر رہ کر نہ جانے کیا بتانا چاہتا ہے ان بہاروں کو چلے آؤ نہ روکے گا غبار راہ اب تم کو کہ پر نم کر دیا اشکوں سے میں نے رہ گزاروں کو سمجھ پائے ہیں ان کو اور نہ سمجھیں گے خرد ...

مزید پڑھیے

کیا ہے میرے دل کی حالت واقعی کیسے کہوں

کیا ہے میرے دل کی حالت واقعی کیسے کہوں کیوں ہے میری آنکھ میں اتنی نمی کیسے کہوں میری اک اک سانس پہ حق ہے مرے اللہ کا میں بھلا اس زندگی کو آپ کی کیسے کہوں کون ہے میرا مخالف کس نے کی ہے مخبری جانتا ہوں میں بتاؤں گا ابھی کیسے کہوں شاعری تو واردات قلب کی روداد ہے قافیہ پیمائی کو میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2225 سے 6203