گود میں ذرات کی سر اپنا رکھ کر سو گیا
گود میں ذرات کی سر اپنا رکھ کر سو گیا پیاس کی دہلیز پر دریا کا منظر سو گیا کچھ نظر آتا نہیں آئینۂ ایام میں عکس حیرت جاگ اٹھا خوابوں کا پیکر سو گیا درد کو درماں بنانے کا ہنر رکھتا تھا وہ اوڑھ کر جو وقت کی خوش رنگ چادر سو گیا جس کا رشتہ تھا جہان آگہی کے کرب سے وہ پیام امن کا حامی ...