قومی زبان

کھیل

آؤ کہیں سے تھوڑی سی مٹی بھر لائیں مٹی کو بادل میں گوندھیں نئے نئے آکار بنائیں کسی کے سر پہ چوٹیا رکھ دیں ماتھے اوپر تلک سجائیں کسی کے چھوٹے سے چہرے پر موٹی سی داڑھی پھیلائیں کچھ دن ان سے جی بہلائیں اور یہ جب میلے ہو جائیں داڑھی چوٹی تلک سبھی کو توڑ پھوڑ کے گڈمڈ کر دیں ملی جلی یہ ...

مزید پڑھیے

چھوٹی سی ہنسی

سونی سونی تھی فضا میں نے یوں ہی اس کے بالوں میں گندھی خاموشیوں کو چھو لیا وہ مڑی تھوڑا ہنسی میں بھی ہنسا پھر ہمارے ساتھ ندیاں وادیاں کہسار بادل پھول کونپل شہر جنگل سب کے سب ہنسنے لگے اک محلے میں کسی گھر کے کسی کونے کی چھوٹی سی ہنسی نے دور تک پھیلی ہوئی دنیا کو روشن کر دیا ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

آدمی کی تلاش

ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شاید یہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگا بدن کی اندھی گپھا میں چھپا ہوا ہوگا بڑھا کے ہاتھ ہر اک روشنی کو گل کر دو ہوائیں تیز ہیں جھنڈے لپیٹ کر رکھ دو جو ہو سکے تو ان آنکھوں پہ پٹیاں کس دو نہ کوئی پاؤں کی آہٹ نہ سانسوں کی آواز ڈرا ہوا ہے وہ کچھ اور بھی نہ ...

مزید پڑھیے

بس یونہی جیتے رہو

بس یونہی جیتے رہو کچھ نہ کہو صبح جب سو کے اٹھو گھر کے افراد کی گنتی کر لو ٹانگ پر ٹانگ رکھے روز کا اخبار پڑھو اس جگہ قحط گرا جنگ وہاں پر برسی کتنے محفوظ ہو تم شکر کرو ریڈیو کھول کے فلموں کے نئے گیت سنو گھر سے جب نکلو تو شام تک کے لیے ہونٹوں میں تبسم سی لو دونوں ہاتھوں میں مصافحے بھر ...

مزید پڑھیے

کچی دیواریں

میری ماں ہر دن اپنے بوڑھے ہاتھوں سے ادھر ادھر سے مٹی لا کر گھر کی کچی دیواروں کے زخموں کو بھرتی رہتی ہے تیز ہواؤں کے جھونکوں سے بیچاری کتنا ڈرتی ہے میری ماں کتنی بھولی ہے برسوں کی سیلی دیواریں چھوٹے موٹے پیوندوں سے آخر کب تک رک پائیں گی جب کوئی بادل گرجے گا ہر ہر کرتی ڈھ جائیں ...

مزید پڑھیے

کھیلتا بچہ

گھاس پر کھیلتا ہے اک بچہ پاس ماں بیٹھی مسکراتی ہے مجھ کو حیرت ہے جانے کیوں دنیا کعبہ و سومنات جاتی ہے

مزید پڑھیے

ہجرت

ضروری کاغذوں کی فائلوں سے بے ضروری کاغذوں کو چھانٹا جاتا ہے کبھی کچھ پھینکا جاتا ہے کبھی کچھ بانٹا جاتا ہے کئی برسوں کے رشتوں کو پلوں میں کاٹا جاتا ہے وہ شیشہ ہو کہ پتھر ہو بنا دم کا وہ بندر ہو نشانوں سے بھرا یا کوئی بوسیدہ کلنڈر ہو پرانے گھر کے طاقوں میں مچانوں میں وہ سب!! چھوٹا ...

مزید پڑھیے

نیا دن

سورج! اک نٹ کھٹ بالک سا دن بھر شور مچائے ادھر ادھر چڑیوں کو بکھیرے کرنوں کو چھترائے قلم درانتی برش ہتھوڑا جگہ جگہ پھیلائے شام! تھکی ہاری ماں جیسی اک دیا ملکائے دھیمے دھیمے ساری بکھری چیزیں چنتی جائے

مزید پڑھیے

اتفاق

ہم سب ایک اتفاق کے مختلف نام ہیں مذہب ملک زبان اسی اتفاق کی ان گنت کڑیاں ہیں اگر پیدائش سے پہلے انتخاب کی اجازت ہوتی تو کوئی لڑکا اپنے باپ کے گھر میں پیدا ہونا پسند نہیں کرتا

مزید پڑھیے

ستمبر۱۹۶۵

کسی قصائی نے اک ہڈی چھیل کر پھینکی گلی کے موڑ سے دو کتے بھونکتے اٹھے کسی نے پاؤں اٹھائے کسی نے دم پٹکی بہت سے کتے کھڑے ہو کر شور کرنے لگے نہ جانے کیوں مرا جی چاہا اپنے سب کپڑے اتار کر کسی چوراہے پر کھڑا ہو جاؤں ہر ایک چیز پہ جھپٹوں گھڑی گھڑی چلاؤں نڈھال ہو کے جہاں چاہوں جسم پھیلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2176 سے 6203