قومی زبان

کل رات

کل رات وہ تھکا ہوا چپ چپ اداس اداس سنتا رہا سڑک سے گزرتی بسوں کا شور پیپل کا پتا ٹوٹ کے دیوار ڈھا گیا آنتوں کا درد نیند کی پریوں کو کھا گیا جھنجھلا کے اس نے چاندی کا دیپک بجھا دیا آکاش کو سمیٹ کے نیچے گرا دیا پھیلی ہوئی زمیں کو دھوئیں سا اڑا دیا پھر کچھ نہیں نہ کھیت، نہ میداں، نہ ...

مزید پڑھیے

والد کی وفات پر

تمہاری قبر پر میں فاتحہ پڑھنے نہیں آیا مجھے معلوم تھا تم مر نہیں سکتے تمہاری موت کی سچی خبر جس نے اڑائی تھی وہ جھوٹا تھا وہ تم کب تھے کوئی سوکھا ہوا پتہ ہوا سے مل کے ٹوٹا تھا مری آنکھیں تمہارے منظروں میں قید ہیں اب تک میں جو بھی دیکھتا ہوں سوچتا ہوں وہ وہی ہے جو تمہاری نیک نامی اور ...

مزید پڑھیے

وہ لڑکی

وہ لڑکی یاد آتی ہے جو ہونٹوں سے نہیں پورے بدن سے بات کرتی تھی سمٹتے وقت بھی چاروں دشاؤں میں بکھرتی تھی وہ لڑکی یاد آتی ہے وہ لڑکی اب نہ جانے کس کے بستر کی کرن ہوگی ابھی تک پھول کی مانند ہوگی یا چمن ہوگی سجیلی رات اب بھی جب کبھی گھونگھٹ اٹھاتی ہے لچکتی کہکشاں جب بنتے بنتے ٹوٹ جاتی ...

مزید پڑھیے

چھوٹی سی شاپنگ

گوٹے والی لال اوڑھنی اس پر چولی گھاگرا اسی سے میچنگ کرنے والا چھوٹا سا اک ناگرا چھوٹی سی! یہ شاپنگ تھی یا! کوئی جادو ٹونا لمبا چوڑا شہر اچانک بن کر ایک کھلونا اتہاسوں کا جال توڑ کے داڑھی پگڑی اونٹ چھوڑ کے ''الف'' سے اماں ''بے'' سے بابا بیٹھا باج رہا تھا پانچ سال کی بچی بن کر ...

مزید پڑھیے

دیوانگی رہے باقی

تو اس طرح سے مری زندگی میں شامل ہے جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے ہر ایک رنگ ترے روپ کی جھلک لے لے کوئی ہنسی کوئی لہجہ کوئی مہک لے لے یہ آسمان یہ تارے یہ راستے یہ ہوا ہر ایک چیز ہے اپنی جگہ ٹھکانے سے کئی دنوں سے شکایت نہیں زمانے سے مری تلاش تری دل کشی رہے باقی خدا کرے کہ یہ ...

مزید پڑھیے

رخصت ہوتے وقت

رخصت ہوتے وقت اس نے کچھ نہیں کہا لیکن ایئرپورٹ پر اٹیچی کھولتے ہوئے میں نے دیکھا میرے کپڑے کے نیچے اس نے اپنے دونوں بچوں کی تصویر چھپا دی ہے تعجب ہے چھوٹی بہن ہو کر بھی اس نے مجھے ماں کی طرح دعا دی ہے

مزید پڑھیے

مشین

مشین چل رہی ہیں نیلے پیلے لال لوہے کی مشینوں میں ہزاروں آہنی پرزے مقرر حرکتوں کے دائروں میں چلتے پھرتے ہیں سحر سے شام تک پر شور آوازیں اگلتے ہیں بڑا چھوٹا ہر اک پرزہ کسا ہے کیل پنچوں سے ہزاروں گھومتے پرزوں کو اپنے پیٹ میں ڈالے مشینیں سوچتی ہیں چیختی ہیں جنگ کرتی ہیں مشینیں چل ...

مزید پڑھیے

جسے دیکھتے ہی خماری لگے

جسے دیکھتے ہی خماری لگے اسے عمر ساری ہماری لگے اجالا سا ہے اس کے چاروں طرف وہ نازک بدن پاؤں بھاری لگے وہ سسرال سے آئی ہے مائکے اسے جتنا دیکھو وہ پیاری لگے حسین صورتیں اور بھی ہیں مگر وہ سب سیکڑوں میں ہزاری لگے چلو اس طرح سے سجائیں اسے یہ دنیا ہماری تمہاری لگے اسے دیکھنا شعر ...

مزید پڑھیے

دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا

دو چار گام راہ کو ہموار دیکھنا پھر ہر قدم پہ اک نئی دیوار دیکھنا آنکھوں کی روشنی سے ہے ہر سنگ آئینہ ہر آئنہ میں خود کو گنہ گار دیکھنا ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا میداں کی ہار جیت تو قسمت کی بات ہے ٹوٹی ہے کس کے ہاتھ میں تلوار دیکھنا دریا ...

مزید پڑھیے

منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون

منہ کی بات سنے ہر کوئی دل کے درد کو جانے کون آوازوں کے بازاروں میں خاموشی پہچانے کون صدیوں صدیوں وہی تماشہ رستہ رستہ لمبی کھوج لیکن جب ہم مل جاتے ہیں کھو جاتا ہے جانے کون وہ میری پرچھائیں ہے یا میں اس کا آئینہ ہوں میرے ہی گھر میں رہتا ہے مجھ جیسا ہی جانے کون جانے کیا کیا بول ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2177 سے 6203