قومی زبان

ترے کانوں میں کوئی بات بتانی تھی ہمیں

ترے کانوں میں کوئی بات بتانی تھی ہمیں دل میں سکھیوں کے تری آگ لگانی تھی ہمیں ہمیں بازار نے ٹھکرایا تو گھر لوٹے ہیں اک محبت تو بہر حال نبھانی تھی ہمیں چاندنی آپ کی آنکھوں میں بھلی لگتی ہے ہو اجازت تو ذرا عمر بتانی تھی ہمیں رنگ درکار تھے ہم کو تری خاموشی کے ایک آواز کی تصویر ...

مزید پڑھیے

کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ

کوئی مے دے یا نہ دے ہم رند بے پروا ہیں آپ ساقیا اپنی بغل میں شیشۂ صہبا ہیں آپ غافل و ہشیار وہ تمثال یک آئینہ ہیں ورطۂ حیرت میں ناداں آپ ہیں دانا ہیں آپ کیوں رہے میری دعا منت کش بال ملک نالۂ مستانہ میرے آسماں پیما ہیں آپ ہے تعجب خضر کو اور آب حیواں کی طلب اور پھر عزلت گزین دامن ...

مزید پڑھیے

فقط چند لمحے

بہت دیر ہے بس کے آنے میں آؤ کہیں پاس کی لان پر بیٹھ جائیں چٹختا ہے میری بھی رگ رگ میں سورج بہت دیر سے تم بھی چپ چپ کھڑی ہو نہ میں تم سے واقف نہ تم مجھ سے واقف نئی ساری باتیں نئے سارے قصے چمکتے ہوئے لفظ چمکتے لہجے فقط چند گھڑیاں فقط چند لمحے نہ میں اپنے دکھ درد کی بات چھیڑوں نہ تم ...

مزید پڑھیے

نقابیں

نیلی پیلی ہری گلابی میں نے سب رنگین نقابیں اپنی جیبوں میں بھر لی ہیں اب میرا چہرہ ننگا ہے بالکل ننگا اب! میرے ساتھی ہی مجھ پر پگ پگ پتھر پھینک رہے ہیں شاید وہ میرے چہرے میں اپنا چہرہ دیکھ رہے ہیں

مزید پڑھیے

قومی یکجہتی

وہ طوائف کئی مردوں کو پہچانتی ہے شاید اسی لیے دنیا کو زیادہ جانتی ہے اس کے کمرے میں ہر مذہب کے بھگوان کی ایک ایک تصویر لٹکی ہے یہ تصویریں لیڈروں کی تقریروں کی طرح نمائشی نہیں اس کا دروازہ رات گئے تک ہندو مسلم سکھ عیسائی ہر مذہب کے آدمی کے لیے کھلا رہتا ہے خدا جانے اس کے کمرے کی سی ...

مزید پڑھیے

سلیقہ

دیوتا ہے کوئی ہم میں نہ فرشتہ کوئی چھو کے مت دیکھنا ہر رنگ اتر جاتا ہے ملنے جلنے کا سلیقہ ہے ضروری ورنہ آدمی چند ملاقاتوں میں مر جاتا ہے

مزید پڑھیے

ایک چڑیا

جامن کی اک شاخ پہ بیٹھی اک چڑیا ہرے ہرے پتوں میں چھپ کر گاتی ہے ننھے ننھے تیر چلائے جاتی ہے اور پھر اپنے آپ ہی کچھ اکتائی سی چوں چوں کرتی پر تولے اڑ جاتی ہے دھندلا دھندلا داغ سا بنتی جاتی ہے میں اپنے آنگن میں کھویا کھویا سا آہستہ آہستہ گھلتا جاتا ہوں کسی پرندے کے پر سا لہراتا ...

مزید پڑھیے

محبت

پہلے وہ رنگ تھی پھر روپ بنی روپ سے جسم میں تبدیل ہوئی اور پھر جسم سے بستر بن کر گھر کے کونے میں لگی رہتی ہے جس کو کمرے میں گھٹا سناٹا وقت بے وقت اٹھا لیتا ہے کھول لیتا ہے ،بچھا لیتا ہے

مزید پڑھیے

وقت سے پہلے

یوں تو ہر رشتہ کا انجام یہی ہوتا ہے پھول کھلتا ہے مہکتا ہے بکھر جاتا ہے تم سے ویسے تو نہیں کوئی شکایت لیکن شاخ ہو سبز تو حساس فضا ہوتی ہے ہر کلی زخم کی صورت ہی جدا ہوتی ہے تم نے بیکار ہی موسم کو ستایا ورنہ پھول جب کھل کے مہک جاتا ہے خود بہ خود شاخ سے گر جاتا ہے

مزید پڑھیے

پیدائش

بند کمرا چھٹپٹاتا سا اندھیرا اور دیواروں سے ٹکراتا ہوا میں!! منتظر ہوں مدتوں سے اپنی پیدائش کے دن کا اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا ہوں جب سے میں!! خود اپنے پیٹ کے اندر پڑا ہوں

مزید پڑھیے
صفحہ 2175 سے 6203