قومی زبان

عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو

عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو خدا معلوم یہ سامان کیا ہو جائے سر کیا ہو یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو نہ ہو جب درد ہی یارب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو جہاں انسان کھو جاتا ہو خود پھر اس کی محفل میں رسائی کس طرح ہو دخل کیوں کر ہو گزر کیا ہو نہ پوچھوں گا میں یہ بھی جام ...

مزید پڑھیے

یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا

یہ ہوا مآل حباب کا جو ہوا میں بھر کے ابھر گیا کہ صدا ہے لطمۂ موج کی سر پر غرور کدھر گیا مجھے جذب دل نے اے جز بہک کے رکھا قدم کوئی مجھے پر لگائے شوق نے کہیں تھک کے میں جو ٹھہر گیا مجھے پیری اور شباب میں جو ہے امتیاز تو اس قدر کوئی جھونکا باد سحر کا تھا مرے پاس سے جو گزر گیا اثر اس ...

مزید پڑھیے

پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا

پرسش جو ہوگی تجھ سے جلاد کیا کرے گا لے خون میں نے بخشا تو یاد کیا کرے گا ہوں دام میں پر افشاں اور سادگی سے حیراں کیوں تیز کی ہیں چھریاں صیاد کیا کرے گا ظالم یہ سوچ کر اب دیتا ہے بوسۂ لب جب ہونٹ سی دیئے پھر فریاد کیا کرے گا زنجیر تار داماں ہے طوق اک گریباں زور جنوں نہ کم ہو حداد ...

مزید پڑھیے

بجھ گئے نیل گگن

اب کہیں کوئی نہیں جل گئے سارے فرشتوں کے بدن بجھ گئے نیل گگن ٹوٹتا چاند بکھرتا سورج کوئی نیکی نہ بدی اب کہیں کوئی نہیں آگ کے شعلے بڑھے آسمانوں کا خدا ڈر کے زمیں پر اترا چار چھ گام چلا ٹوٹ گیا آدمی اپنی ہی دیواروں سے پتھر لے کر پھر گپھاؤں کی طرف لوٹ گیا اب کہیں کوئی نہیں

مزید پڑھیے

نیا سفر

آسماں لوہا دشائیں پتھر سرنگوں سارے کھجوروں کے درخت کوئی حرکت نہ صدا بجھ گئی بوڑھی پہاڑی پہ چمکتی ہوئی آگ! تھم گئے پاک ستاروں سے برستے ہوئے راگ پھر سے کاندھوں پہ جمالو سر کو پھر سے جسموں میں لگا لو ٹانگیں ڈھونڈ لو کھوئی ہوئی آنکھوں کو اب کسی پر نہیں اترے گا صحیفہ کوئی

مزید پڑھیے

پھٹے پرانے بستے میں بھی نئی کتابیں روشن رکھو

پھٹے پرانے بستے میں بھی نئی کتابیں روشن رکھو آنکھیں سونی مت ہونے دو سرخ لکیریں روشن رکھو ساعت ہے ساعت ہی آتے جاتے ہیں قبیلے یادوں کے ماضی کی خستہ حویلی میں کچھ دہلیزیں روشن رکھو دوراندیشی جس میں ہوگی رفتار زمانہ اس کی ہے خواب کی آخری منزل آنی ہے تعبیریں روشن رکھو بے ہنگم سی ...

مزید پڑھیے

دھڑکنیں محبت کی دل نشین خاموشی

دھڑکنیں محبت کی دل نشین خاموشی مرحبا اے ہنگامو آفرین خاموشی کج بیاں ٹھکانوں سے دور اک خرابے میں گھر بنا کے رہتی ہے اک ذہین خاموشی شام ہے یہ وعدے کی عشق کے ارادے کی اک جواں سا سناٹا اک حسین خاموشی سامنے جو آ جاؤں کیفیت حیا کی پھر ٹانک دے گی پلکوں پر نازنین خاموشی ٹوٹ کر جو ...

مزید پڑھیے

ہم نے جلتے ہوئے خیموں کی وہ شامیں رکھ دیں

ہم نے جلتے ہوئے خیموں کی وہ شامیں رکھ دیں شعر میں لفظ رکھے لفظ میں چیخیں رکھ دیں میں نے بھی اس کو دیا پہلی ملاقات میں دل میرے دامن میں بھی اس نے مری غزلیں رکھ دیں یوں لگا آنکھ بچانے پہ جھپکتی ہے پلک اسی تصویر پہ میں نے بھی نگاہیں رکھ دیں روشنی کے ہر اک امکان پہ ڈالا پردا ایک ...

مزید پڑھیے

اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے

اس نئے غم سے کنارہ بھی تو ہو سکتا ہے عشق پھر ہم کو دوبارہ بھی تو ہو سکتا ہے آپ اندازہ لگاتے رہیں بس جگنو کا مری مٹھی میں ستارہ بھی تو ہو سکتا ہے کیا ضروری ہے کہ یہ جان لٹا دی جائے اس کی یادوں پہ گزارا بھی تو ہو سکتا ہے دل کی بستی سے سر شام جو اٹھا ہے دھواں اچھے موسم کا اشارہ بھی تو ...

مزید پڑھیے

پلکوں سے آسماں کو اشارہ کرو کبھی

پلکوں سے آسماں کو اشارہ کرو کبھی آنسو ہمارے غم کا ستارہ کرو کبھی موسم جواں ہوا ہے بہاروں کے نور سے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نظارہ کرو کبھی تنہائیوں کی راتوں میں اب ہم سے شرم کیا ملبوس خامشی کا اتارا کرو کبھی دہلیز پر کھڑے یوں سر راہ رفتگاں اپنا بھی انتظار گوارا کرو کبھی دل شے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2174 سے 6203