عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو
عبث ہے ناز استغنا پہ کل کی کیا خبر کیا ہو خدا معلوم یہ سامان کیا ہو جائے سر کیا ہو یہ آہ بے اثر کیا ہو یہ نخل بے ثمر کیا ہو نہ ہو جب درد ہی یارب تو دل کیا ہو جگر کیا ہو جہاں انسان کھو جاتا ہو خود پھر اس کی محفل میں رسائی کس طرح ہو دخل کیوں کر ہو گزر کیا ہو نہ پوچھوں گا میں یہ بھی جام ...