قومی زبان

جوش گل

وہ موسم ہے کہ خوبان چمن بنتے سنورتے ہیں یہ عالم ہے کہ جیسے رنگ تصویروں میں بھرتے ہیں ہے خوابیدہ جو سبزہ آئنہ خانے میں شبنم کے نفس دزدیدہ باد صبح کے جھونکے گزرتے ہیں پر طوطی پہ ہوتا ہے دم طاؤس کا دھوکا ہوا سے اڑ کے برگ گل جو سبزہ پر بکھرتے ہیں ملا ہے سبزہ نوخیز کو کیا رنگ زنگاری ہوا ...

مزید پڑھیے

شرکت محفل

تو ہمیشہ رہتا ہے چیں بر جبیں افسردہ دل پھر کسی کی بزم عشرت میں نہ جا بہر خدا خود ہی اپنی جان سے بے زار تو انصاف کر تجھ سے اہل بزم پھر کس طرح خوش ہوں گے بھلا چاہیئے اس طرح جانا محفل احباب میں باغ میں جس طرح خوش خوش آتی ہے باد صبا خیر مقدم کا اشارہ جھوم کر کرتی ہے شاخ اور چٹک کر دیتی ...

مزید پڑھیے

نزول وحی

قدم چالیسویں منزل میں اس یوسف نے جب رکھا تو پہنچا کاروان وحی آواز جرس ہو کر کہ دل تو جاگ اٹھا آنکھوں میں غفلت نیند کی چھائی ہوا سینہ میں اس سے موجزن اک لجّہ عرفاں کہ تاب اس جزر و مد کی فطرت انساں نہیں لائی بڑھا جوش اس کا بڑھ کر ساحل افلاک تک پہونچا اٹھی موج اس سے اٹھ کر عرش کی زنجیر ...

مزید پڑھیے

گور غریباں

وداع روز روشن ہے گجر شام غریباں کا چرا گاہوں سے پلٹے قافلے وہ بے زبانوں کے قدم گھر کی طرف کس شوق سے اٹھتا ہے دہقاں کا یہ ویرانہ ہے میں ہوں اور طائر آشیانوں کے

مزید پڑھیے

ساقی نامہ

نہیں یہ عہد اور ہے ساقی اہل یورپ کا دور ہے ساقی کی ہے کوشش انہوں نے خاطر خواہ پائی ہے مدتوں میں ہند کی راہ کر کے زحمت جو آئے اتنی دور محض ترویج بادہ تھی منظور جو مسلماں ہیں امت انگریز مے کشی سے انہیں نہیں پرہیز بادہ خواری کا شغل گھر گھر ہے اور تاڑی تو شیر مادر ہے پہلے پاسی چمار ...

مزید پڑھیے

لکھا جو وصف دہن غیب سے ندا آئی

لکھا جو وصف دہن غیب سے ندا آئی عدم کا قصد کیا تیرے دل میں کیا آئی جو نخل بند ازل کا ہوا چمن میں خیال نظر گلوں میں عجب شان کبریا آئی غریق بحر محبت کی لی خبر نہ کبھی خدا سے شرم نہ کچھ تجھ کو ناخدا آئی

مزید پڑھیے

بہار گلشن ہستی ہے قائم شادی و غم سے (ردیف .. ن)

بہار گلشن ہستی ہے قائم شادی و غم سے جو گل خنداں ہے گلشن میں تو گریاں شمع محفل میں جہاں معشوق ہو عاشق وہیں اس کا پہنچتا ہے چمن میں جائے پروانہ نہ بلبل آئے محفل میں نہالؔ اس کے کرم سے پار بیڑا ہوگا تیرا بھی بچایا نوح کو طوفاں سے جس نے عین مشکل میں

مزید پڑھیے

پرانی ناؤ کے تختے پہ دل بناتے ہوئے

پرانی ناؤ کے تختے پہ دل بناتے ہوئے میں رو پڑوں نہ کوئی خواب گنگناتے ہوئے سہولت ایسی نہیں ہے کہ ہم بھی تم بھی ملیں افق کے خط پہ زمین آسماں ملاتے ہوئے یہ میں تمنا تمنا پگھل نہ جاؤں کہیں دئے کی بجھتی ہوئی لو سے شرم کھاتے ہوئے جزیرے والوں نے سیکھا ہے اپنی آنکھوں سے تمہارا نام ...

مزید پڑھیے

بدعت مسنون ہو گئی ہے

بدعت مسنون ہو گئی ہے امت مطعون ہو گئی ہے کیا کہنا تری دعا کا زاہد گردوں کا ستون ہو گئی ہے رہنے دو اجل جو گھات میں ہے مجھ پر مفتون ہو گئی ہے حسرت کو غبار دل میں ڈھونڈو زندہ مدفون ہو گئی ہے وحشت کا تھا نام اول اول اب تو وہ جنون ہو گئی ہے واعظ نے بری نظر سے دیکھا مے شیشے میں خون ہو ...

مزید پڑھیے

ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر

ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کر چھپا ہوا تھا جو راز دل میں کھلا وہ چہرہ کا رنگ ہو کر ہمیشہ کوچ و مقام اپنا رہا ہے خضر رہ طریقت رکا تو میں سنگ میل بن کر چلا تو آواز چنگ ہو کر نہ توڑتے آرسی اگر تم تو اتنے یوسف نظر نہ آتے یہ قافلہ کھینچ لائی سارا شکست آئینہ زنگ ہو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2171 سے 6203