قومی زبان

اک فقط اس کے روٹھ جانے پر

اک فقط اس کے روٹھ جانے پر ایک بھی شے نہیں ٹھکانے پر موسم گل ہے آشیانے پر اک فقط اس کے مسکرانے پر کوئی مجھ سے خفا نہیں ہوتا تم مرے دوست ہو پرانے پر مدتوں بعد کوئی آیا ہے روشنی ہے غریب خانے پر زخم بھی اب حسین لگتے ہیں تیرے ہاتھوں فریب کھانے پر

مزید پڑھیے

ان لکھی غزل کے استعارے

ان لکھی غزل کے استعارے وہ لوگ محبتوں کے مارے ملتے ہیں خدا سے یا پتا نئیں کھڑکی سے اڑا دئے غبارے کمرے کی مسافتوں میں کوئی گزرا ہوا دشت کیوں گزارے رستے سے لگی ہوئیں نگاہیں گردش میں تھکے ہوئے ستارے وہ نام پلٹ کے دیکھتے ہیں میں نے جو کبھی نہیں پکارے

مزید پڑھیے

مٹتے ہوئے حروف کو پڑھنے کی خو کیا کریں

مٹتے ہوئے حروف کو پڑھنے کی خو کیا کریں سطریں کریدتے ہوئے پوریں لہو کیا کریں نو واردان عشق سے کہہ دیجیے کہ دشت میں وحشت سے قبل ریت سے جا کر وضو کیا کریں انجیل دل میں درج ہوں آیات نقرئی تو پھر ہم بھی سخن کے باب میں کچھ ہاؤ ہو کیا کریں مے خانہ ازل کو وہ دو نین پھر سے لا کے دو جو ...

مزید پڑھیے

سیر بازار جہاں کرتے ہوئے ہم کو چلا (ردیف .. ے)

سیر بازار جہاں کرتے ہوئے ہم کو چلا دل کی قیمت کا پتہ پھول کی ارزانی سے کن ستاروں نے جڑیں پکڑیں سفال نم میں شب گزیدوں کی سماوات میں گل بانی سے قافلے مثل صبا دل سے گزر جاتے ہیں کون ملتا ہے بھری بھیڑ میں آسانی سے گھر کے ہوتے ہوئے ہم ایسے سفر بخت نجوم ملتے آئے ہیں بہت بے سر و سامانی ...

مزید پڑھیے

اے مرے دوست مرے دشمن جاں خیر تو ہے

اے مرے دوست مرے دشمن جاں خیر تو ہے تو مرے پاس مرے ساتھ یہاں خیر تو ہے خط دیا تھا انہیں پتھر نہیں آیا اب تک دل کو تشویش ہوئی ہے کہ وہاں خیر تو ہے بات قصداً انہیں آدھی سی سنائی میں نے اب وہ پوچھیں گے کہ کب کون کہاں خیر تو ہے بچ کے اک اور دھماکے سے کیا فون انہیں یاں پہ سب خیر ہے سب ...

مزید پڑھیے

مقتل دختر کم نسل سے اٹھتا تھا دھواں (ردیف .. ی)

مقتل دختر کم نسل سے اٹھتا تھا دھواں مدفن زوجۂ والی میں بڑی برف پڑی میں نے ڈالا جو کوئی واسطہ انگاروں کو یار کل رات انگیٹھی میں بڑی برف پڑی بند کمرے میں مری آنکھ نے سپنے سینکے صحن دالان میں کھڑکی میں بڑی برف پڑی اوس پڑتی رہی مجھ پر مرے ارمانوں پر اور اغیار کی بستی میں بڑی برف ...

مزید پڑھیے

کماں سے تیر چلا اور صبا نے چپکے سے (ردیف .. ا)

کماں سے تیر چلا اور صبا نے چپکے سے ہلا کے ہاتھ پرندے کو ہوشیار کیا ہمیں نے صحن چمن میں اڑائی خاک وفا ہمیں نے دشت میں پھولوں کا کاروبار کیا ہم انتظام بہاراں میں غرق تھے اس دم جب اس نے حیلہ اسباب انتشار کیا

مزید پڑھیے

مچا ہوا ہے خداؤں کی ان کہی کا شور

مچا ہوا ہے خداؤں کی ان کہی کا شور مگر وہ گونج کہ کھا جائے گی سبھی کا شور تمام رات مہکتا تھا اس کی ٹیبل پر گلاب تازہ کی خوشبو میں فروری کا شور شجر کی تاب سماعت پہ داد بنتی ہے یہ سنتا آیا ہے صدیوں سے آدمی کا شور اے ناخداؤ سمندر کو مت سنا دینا ہماری ناؤ میں اسباب کی کمی کا شور بڑے ...

مزید پڑھیے

کیسے ہوتی ہے شب کی سحر دیکھتے

کیسے ہوتی ہے شب کی سحر دیکھتے کاش ہم بھی کبھی جاگ کر دیکھتے خواب کیسے اترتا ہے احساس میں تیرے شانے پہ رکھ کے یہ سر دیکھتے ایک امید تھی منتظر عمر بھر کاش تم بھی کبھی لوٹ کر دیکھتے برف کی جھینی چادر تلے جھیل تھی چھو کے مجھ کو کبھی تم اگر دیکھتے انگلیاں ان کی لیتیں نہ سنیاس ...

مزید پڑھیے

کیا کرشمہ تھا خدایا دیر تک

کیا کرشمہ تھا خدایا دیر تک خود کو کھو کر خود کو پایا دیر تک چھو کے لوٹا جب تجھے میرا خیال ہوش میں واپس نہ آیا دیر تک کل کوئی جھونکا ہوا کا چھو گیا اور پھر تو یاد آیا دیر تک ہم تری آغوش میں تھے رات بھر ''ماہ کامل مسکرایا دیر تک'' کل ترے احساس کی بارش تلے میرا سونا پن نہایا دیر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2170 سے 6203