کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ
کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ کس کو یہ ڈھونڈتے ہیں برہنہ سر دونوں ساتھ کیسی یارب یہ ہوا صبح شب وصل چلی بجھ گیا دل مرا اور شمع سحر دونوں ساتھ بعد میرے نہ رہا عشق کی منزل کا نشاں مٹ گئے راہرو و راہ گزر دونوں ساتھ اے جنوں دیکھ اسی صحرا میں اکیلا ہوں میں رہتے جس دشت میں ...