قومی زبان

کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ

کس لیے پھرتے ہیں یہ شمس و قمر دونوں ساتھ کس کو یہ ڈھونڈتے ہیں برہنہ سر دونوں ساتھ کیسی یارب یہ ہوا صبح شب وصل چلی بجھ گیا دل مرا اور شمع سحر دونوں ساتھ بعد میرے نہ رہا عشق کی منزل کا نشاں مٹ گئے راہرو و راہ گزر دونوں ساتھ اے جنوں دیکھ اسی صحرا میں اکیلا ہوں میں رہتے جس دشت میں ...

مزید پڑھیے

سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں

سنگ جفا کا غم نہیں دست طلب کا ڈر نہیں اپنا ہے اس پر آشیاں نخل جو بارور نہیں سنتے ہو اہل قافلہ میں کوئی راہ بر نہیں دیکھ رہا ہوں تم میں سے ایک بھی راہ پر نہیں موت کا گھر ہے آسماں اس سے کہیں مفر نہیں نکلیں تو کوئی در نہیں بھاگیں تو رہ گزر نہیں پہلے جگر پر آہ کا نام نہ تھا نشاں نہ ...

مزید پڑھیے

احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر

احسان لے نہ ہمت مردانہ چھوڑ کر رستہ بھی چل تو سبزۂ بیگانہ چھوڑ کر مرنے کے بعد پھر نہیں کوئی شریک حال جاتا ہے شمع کشتہ کو پروانہ چھوڑ کر ہونٹوں پہ آج تک ہیں شب عیش کے مزے ساقی کا لب لیا لب پیمانہ چھوڑ کر افعی نہیں کھلی ہوئی زلفوں کا عکس ہے جاتے کہاں ہو آئینہ و شانہ چھوڑ کر طول ...

مزید پڑھیے

سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی

سبحہ ہے زنار کیوں کیسی کہی زاہد عیار کیوں کیسی کہی کٹ گئے اغیار کیوں کیسی کہی چھا گئی ہر بار کیوں کیسی کہی ہیں یہ سب اقرار جھوٹے یا نہیں کیجئے اقرار کیوں کیسی کہی روٹھنے سے آپ کا مطلب یہ ہے اس کو آئے پیار کیوں کیسی کہی کہہ دیا میں نے سحر ہے جھوٹ موٹ ہو گئے بیدار کیوں کیسی ...

مزید پڑھیے

اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے

اڑا کر کاگ شیشہ سے مے گلگوں نکلتی ہے شرابی جمع ہیں مے خانہ میں ٹوپی اچھلتی ہے بہار مے کشی آئی چمن کی رت بدلتی ہے گھٹا مستانہ اٹھتی ہے ہوا مستانہ چلتی ہے زخود رفتہ طبیعت کب سنبھالے سے سنبھلتی ہے نہ بن آتی ہے ناصح سے نہ کچھ واعظ کی چلتی ہے یہ کس کی ہے تمنا چٹکیاں لیتی ہے جو دل ...

مزید پڑھیے

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں

اس واسطے عدم کی منزل کو ڈھونڈتے ہیں مدت سے دوستوں کی محفل کو ڈھونڈتے ہیں یہ دل کے پار ہو کر پھر دل کو ڈھونڈتے ہیں تیر نگاہ اس کے بسمل کو ڈھونڈتے ہیں اک لہر میں نہ تھے ہم کیوں اے حباب دیکھا یوں آنکھ بند کر کے ساحل کو ڈھونڈتے ہیں طرز کرم کی شاہد ہیں میوہ دار شاخیں اس طرح سر جھکا کر ...

مزید پڑھیے

یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ

یوں تو نہ تیرے جسم میں ہیں زینہار ہاتھ دینے کے اے کریم مگر ہیں ہزار ہاتھ انگڑائیوں میں پھیلتے ہیں بار بار ہاتھ شیشہ کی سمت بڑھتے ہیں بے اختیار ہاتھ ڈوبے ہیں ترک سعی سے افسوس تو یہ ہے ساحل تھا ہاتھ بھر پہ لگاتے جو چار ہاتھ آتی ہے جب نسیم تو کہتی ہے موج بحر یوں آبرو سمیٹ اگر ہوں ...

مزید پڑھیے

کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں

کسی سے بس کہ امید کشود کار نہیں مجھے اجل کے بھی آنے کا اعتبار نہیں جواب نامہ کا قاصد مزار پر لایا کہ جانتا تھا اسے تاب انتظار نہیں یہ کہہ کے اٹھ گئی بالیں سے میری شمع سحر تمام ہو گئی شب اور تجھے قرار نہیں جو تو ہو پاس تو حور و قصور سب کچھ ہو جو تو نہیں تو نہیں بلکہ زینہار ...

مزید پڑھیے

جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر

جنوں کے ولولے جب گھٹ گئے دل میں نہاں ہو کر تو اٹھے ہیں دھواں ہو کر گرے ہیں بجلیاں ہو کر کچھ آگے بڑھ چلے سامان راحت لا مکاں ہو کر فلک پیچھے رہا جاتا ہے گرد کارواں ہو کر کسی دن تو چلے اے آسماں باد مراد ایسی کہ اتریں کشتئ مے پر گھٹائیں بادباں ہو کر نہ جانے کس بیاباں مرگ نے مٹی نہیں ...

مزید پڑھیے

آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری

آ کے مجھ تک کشتیٔ مے ساقیا الٹی پھری آج کیا ندی بہی الٹی ہوا الٹی پھری آتے آتے لب پر آہ نارسا الٹی پھری وہ بھی میرا ہی دبانے کو گلا الٹی پھری مڑ کے دیکھا اس نے اور وار ابرووں کا چل گیا اک چھری سیدھی پھری اور اک ذرا الٹی پھری لا سکا نظارۂ رخسار روشن کی نہ تاب جا کے آئینہ پہ چہرہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2172 سے 6203