قومی زبان

پہلے بے سایہ کیا تھا باد صرصر نے مجھے

پہلے بے سایہ کیا تھا باد صرصر نے مجھے اب چلیں سرکش ہوائیں بے زمیں کرنے مجھے میری آنکھوں پر سواد شام کا پرتو نہیں اک نظر کی دید بخشی ہے گل تر نے مجھے آئنہ تمثال اس جانب سے گزرا تھا کبھی توڑ ڈالا تھا اسی جا ایک پتھر نے مجھے منحرف خواب تمنا سے مری آنکھیں ہوئیں مطمئن ہوں جو دیا ...

مزید پڑھیے

غم تھوڑا سا کم ہو جائے

غم تھوڑا سا کم ہو جائے درد مرا مدھم ہو جائے دفتر میں تھک جاتا ہے دل شہر میں تازہ دم ہو جائے شاخیں مستی میں لہرائیں ہرا بھرا موسم ہو جائے روز و شب جو جھیل رہا ہوں اک اک بات رقم ہو جائے جتنا میں خوش کرنا چاہوں اتنا وہ برہم ہو جائے

مزید پڑھیے

''ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی'' (ردیف .. ی)

''ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی'' لیجئے فرصت ہی فرصت ہو گئی کون سمجھائے در و دیوار کو جن کو تیرے دید کی لت ہو گئی ہم نہیں اب بارشوں کے منتظر اب ہمیں صحرا کی عادت ہو گئی سرحدوں کی بستیوں سا دل ہوا وحشتوں کی جن کو عادت ہو گئی ساحلوں پر کیا گھروندوں کا وجود ٹوٹنا ہی ان کی قسمت ہو ...

مزید پڑھیے

جانے اب کھو گیا کدھر پانی

جانے اب کھو گیا کدھر پانی تھا کبھی آنکھ کا گہر پانی مارو پتھر بھی تو نہیں ہلتا جم چکا ہے اب اس قدر پانی آنے والے ہیں کچھ حسیں منظر تو ابھی آنکھ میں نہ بھر پانی تب غزل کی گلی پہنچتا ہے آنکھ سے بہہ کے رات بھر پانی نہ سمیٹا گیا نہ کام آیا میں بھی ہوں جیسے ریت پر پانی میری ہستی ...

مزید پڑھیے

کوئی معجزہ ہوا ہے مری بے خودی سے آگے

کوئی معجزہ ہوا ہے مری بے خودی سے آگے تیرا غم نکل گیا ہے مری ہر خوشی سے آگے مری پیاس کا ترانہ یوں سمجھ نہ آ سکے گا مجھے آج سن کے دیکھو مری خاموشی سے آگے میں ہوں سانس سانس تنہا میں ہوں ذرہ ذرہ گھائل مجھے پاس آ کے دیکھو مری دل کشی سے آگے وہیں کل بھی پھر ملیں گے جہاں آج مل رہے ...

مزید پڑھیے

تم سے جانا کہ اک کتاب ہوں میں

تم سے جانا کہ اک کتاب ہوں میں حرف در حرف لا جواب ہوں میں حسرت موسم گلاب ہوں میں سچ نہ ہو پائے گا وہ خواب ہوں میں آپ نے اعتبار ہی نہ کیا میں تو کہتی رہی سراب ہوں میں مجھ سے اپنی نمی نہ سوکھ سکی آپ کہتے ہیں آفتاب ہوں میں ہو کے موجود بھی نہیں دکھتا وہ اماوس کا ماہتاب ہوں میں اس سے ...

مزید پڑھیے

مختلف ہیں مری بہار کے رنگ

مختلف ہیں مری بہار کے رنگ کچھ مرے اپنے کچھ ادھار کے رنگ آج یکسر بہار لے آئی میرے دل کی گلی میں پیار کے رنگ تیری آنکھوں سے ملتے جلتے ہیں میری آنکھوں کے آبشار کے رنگ دل کی چوکھٹ سجائے بیٹھے ہیں آج بھی تیرے انتظار کے رنگ رات مل کر گلے بہت روئے تیری یادوں سے میرے پیار کے رنگ وقت ...

مزید پڑھیے

اسی کی روشنی رہتی ہے اس قدر مجھ میں

اسی کی روشنی رہتی ہے اس قدر مجھ میں جو اس کے لوٹ کے آنے کی ہے خبر مجھ میں چھوا تھا جن میں کبھی مجھ کو تیری چاہت نے وہ لمحے جاگتے رہتے ہیں رات بھر مجھ میں جو راستے کے اندھیروں سے ڈر کے لوٹ گیا وہ کاش دیکھتا زندہ تھی اک سحر مجھ میں مجھے ڈرا نہیں سکتی یہ مشکلوں کی دھوپ ابھی امید کا ...

مزید پڑھیے

پھر ترے ریشمی لب مجھ کو منانے آئے

پھر ترے ریشمی لب مجھ کو منانے آئے پیاس جنموں کی پھر اک بار بجھانے آئے یاد سے اس کی کہو آج ستانے آئے خواب آنکھوں سے، سکوں دل سے چرانے آئے آج پھر درد کے بازار سجے ہیں یارو اشک پھر آنکھوں میں دوکان لگانے آئے تو نے احساس کی دولت سے نوازا تھا مگر زیست کے فکر و الم ہوش اڑانے ...

مزید پڑھیے

گھر سے نکلے تھے آرزو کر کے

گھر سے نکلے تھے آرزو کر کے آج دل لائیں گے رفو کر کے سارے خانے مہک اٹھے دل کے تجھ کو پانے کی جستجو کر کے تجھ کو مانگا تمام شب ہم نے عشق سے جان و تن وضو کر کے آج اک بار خود کو پھر دیکھو میرا احساس چار سو کر کے زخم دکھتے نہیں مگر اس نے رکھ دیا دل لہو لہو کر کے

مزید پڑھیے
صفحہ 2169 سے 6203