دونوں گھروں کا لطف جداگانہ مل گیا
دونوں گھروں کا لطف جداگانہ مل گیا کعبے سے ہم چلے تھے کہ بت خانہ مل گیا ساقی سے یوں ثبوت کریمانہ مل گیا پیمانہ میں نے مانگا تھا مے خانہ مل گیا دل کیوں نہ ہم فروخت کریں اس یقین پر قیمت بھی اب ملے گی جو بیعانہ مل گیا ساقی کی چشم مست ادھر آج اٹھ گئی ہم کو ہمارے ظرف کا پیمانہ مل ...