بدل بدل کے تری بے رخی نے دیکھا ہے
بدل بدل کے تری بے رخی نے دیکھا ہے یہ حادثہ بھی مری بے بسی نے دیکھا ہے مجھے خبر ہے کہ ظلمت ٹھہر نہیں سکتی مجھے پتا ہے اسے روشنی نے دیکھا ہے مری غزل ہے سلگتے ہوؤں نے دیکھا ہے کہ میرا عکس مری شاعری نے دیکھا ہے میں جھوم جھوم گیا لے کے آسرا اس کا کہ میری سمت اچانک خوشی نے دیکھا ...