عشق سے عشق کے انجام کی باتیں ہوں گی
عشق سے عشق کے انجام کی باتیں ہوں گی صبح تک آپ کی پھر شام سے باتیں ہوں گی دور منزل ہے ہوائیں بھی مخالف سی ہیں دو گھڑی بیٹھو تو آرام سے باتیں ہوں گی جس طرح ہوتی ہے رندوں کی خرابات سے بات اس طرح گردش ایام سے باتیں ہوں گی ساقیا اب تو عنایت کی نظر ہو جائے کب تلک مجھ سے تہی جام کی باتیں ...