قومی زبان

عشق سے عشق کے انجام کی باتیں ہوں گی

عشق سے عشق کے انجام کی باتیں ہوں گی صبح تک آپ کی پھر شام سے باتیں ہوں گی دور منزل ہے ہوائیں بھی مخالف سی ہیں دو گھڑی بیٹھو تو آرام سے باتیں ہوں گی جس طرح ہوتی ہے رندوں کی خرابات سے بات اس طرح گردش ایام سے باتیں ہوں گی ساقیا اب تو عنایت کی نظر ہو جائے کب تلک مجھ سے تہی جام کی باتیں ...

مزید پڑھیے

غیروں کو عطا اور جفا میرے لئے ہے

غیروں کو عطا اور جفا میرے لئے ہے خوش ہوں کہ محبت کی سزا میرے لئے ہے خوش ہو کے ابھی تیشۂ فرہاد اٹھا لے اے عشق یہ قدرت کی عطا میرے لئے ہے تم جو بھی کرو مالک و مختار ہو صاحب پابندی پیمان وفا میرے لئے ہے کھل پائے گا کب عقدۂ راز دل بلبل رہنے دو اسے کام مرا میرے لئے ہے جائیں گے کہاں ...

مزید پڑھیے

کیا خبر ہجر کی شب کی بھی سحر ہوتی ہے

کیا خبر ہجر کی شب کی بھی سحر ہوتی ہے کس طرح دیکھیے یہ رات بسر ہوتی ہے تیرے دیوانوں کی محفل میں ہے پہچان یہی ریگ صحرا سے سوا خاک بسر ہوتی ہے کام بگڑے ہوئے بن جاتے ہیں اکثر میرے جب کبھی تیری عنایت کی نظر ہوتی ہے کاٹتا ہوں شب فرقت اسی ارمان کے ساتھ ڈوب جاتے ہیں ستارے تو سحر ہوتی ...

مزید پڑھیے

ہمیں ہیں جنہیں عشق ہے بانکپن سے

ہمیں ہیں جنہیں عشق ہے بانکپن سے ہمیں ہیں جو الجھیں ہیں دار و رسن سے کسی جسم کا حسن ہے پیرہن سے کہیں پیرہن خود سجا ہے بدن سے یہ مانا ہے جنت بہت خوب صورت مگر خوب صورت نہ ہوگی وطن سے گلوں نے چرایا ترا حسن رنگیں معطر فضا ہے ترے پیرہن سے نہ تیشہ نہ سر کام آیا وفا میں صدا آ رہی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

کاکل کی طرح بخت بھی بل کھائے ہوئے ہے

کاکل کی طرح بخت بھی بل کھائے ہوئے ہے کیوں آج مقدر مجھے الجھائے ہوئے ہے زنجیر محن پاؤں میں پہنائے ہوئے ہے یا جلوۂ جاناں مجھے بہلائے ہوئے ہے لے جائے مجھے سوئے چمن اب نہ بہاراں دل قسمت زنداں کی قسم کھائے ہوئے ہے میں بند قفس میں ہوں مگر فکر نشیمن سینے میں جگر درد سے برمائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

پائیں جو روشنی تری جلوہ‌ گری سے ہم

پائیں جو روشنی تری جلوہ‌ گری سے ہم ہو لیں قریب اور بھی کچھ بے خودی سے ہم کر لے قبول حسن کے صدقہ میں جان و دل فریاد کر رہے ہیں تری دلبری سے ہم ایسا نصیب میرا کہاں میرے ہم زباں کچھ دیر بات کرتے جو ہنس کر کسی سے ہم اے حسن مجھ کو حسن کے صدقہ کی بھیک دے پھیلائے ہاتھ بیٹھے ہیں کس عاجزی ...

مزید پڑھیے

ہے پس دیوار دھیمی روشنی

ہے پس دیوار دھیمی روشنی آتشیں یلغار دھیمی روشنی ایک بھٹکی روح اور سونی سڑک کس قدر بیزار دھیمی روشنی چار سو تاریکیوں کے مرحلے آہنی تلوار دھیمی روشنی نوک نیزہ اور صحرا کی تپش قافلہ سالار دھیمی روشنی خوب صورت عالمی اسٹیج پر آخری کردار دھیمی روشنی ریت دریا اور کوفے کا ...

مزید پڑھیے

کچھ نہ کچھ کی خواہش میں بے نوا ہوئے ہم لوگ

کچھ نہ کچھ کی خواہش میں بے نوا ہوئے ہم لوگ لا علاج موسم میں لا دوا ہوئے ہم لوگ غم گسار لوگوں نے دل کو یوں جلا ڈالا بے امان لمحوں میں بے ردا ہوئے ہم لوگ مختلف ہوئے کتنے اختلاف کرنے پر قافلے سے بچھڑے تو جا بجا ہوئے ہم لوگ نازؔ بے یقینی کے بے غلاف لمحوں میں اپنی گونج میں چھپ کر بے ...

مزید پڑھیے

ناؤ جب وحشی سمندر کی اماں پر چھوڑ دی

ناؤ جب وحشی سمندر کی اماں پر چھوڑ دی اپنی قسمت کی کہانی بادباں پر چھوڑ دی منزلوں کو دیکھتے ہی بے مروت شخص نے راستے کی گرد پورے کارواں پر چھوڑ دی بے مکاں ہوتے ہوئے اک مصلحت اندیش نے اپنے دل کی ہر تمنا لا مکاں پر چھوڑ دی بادلوں کو بجلیوں سے مستیوں میں دیکھ کر اک دعا محصور کر کے ...

مزید پڑھیے

دل سراپا بے بسی ہونے کو ہے

دل سراپا بے بسی ہونے کو ہے چار سو اک خامشی ہونے کو ہے ان دیوں کو گل بھی ہونا ہے ابھی ہر طرف گو روشنی ہونے کو ہے موت سے بھی بڑھ کے کہتے ہیں جسے تیری میری زندگی ہونے کو ہے کالے کالے گیسوؤں کے فیض سے شام دل کی سرمئی ہونے کو ہے سبز رت کے آخری ہفتے میں نازؔ پانچ سالہ دوستی ہونے کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2122 سے 6203