قومی زبان

وہ ہنسنا یاد آتا ہے وہ رونا یاد آتا ہے

وہ ہنسنا یاد آتا ہے وہ رونا یاد آتا ہے تجھے اے زندگی پا کر وہ کھونا یاد آتا ہے وہ شب بھر جاگنا چاہت میں اک گلزار لمحے کی وہ تیری گود میں سر رکھ کے سونا یاد آتا ہے ترے دل کی زمیں پر گل کھلانا اپنی الفت کے ترے آنکھوں میں اپنے خواب بونا یاد آتا ہے وہ خلوت میں بھی تیرا چوڑیوں سے ...

مزید پڑھیے

ایک جیسا مکالمہ

بچھڑتے لمحوں میں اس نے مجھ سے کہا تھا دیکھو ''ہماری راہیں جدا جدا ہیں مگر ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے زندگی بھر کسی بھی لمحہ اداسیوں کی فصیل حائل نہ ہونے دینا ہوا کے ہاتھوں پہ لکھتے رہنا جدائیوں کے تمام قصے قدم قدم پر جو پیش آئیں وہ سانحے بھی نظر میں رکھنا میں جب بھی لوٹا تو ...

مزید پڑھیے

کون روک سکتا ہے

لاکھ ضبط خواہش کے بے شمار دعوے ہوں اس کو بھول جانے کے بے پنہ ارادے ہوں اور اس محبت کو ترک کر کے جینے کا فیصلہ سنانے کو کتنے لفظ سوچے ہوں دل کو اس کی آہٹ پر برملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے پھر وفا کے صحرا میں اس کے نرم لہجے اور سوگوار آنکھوں کی خوشبوؤں کو چھونے کی جستجو میں رہنے ...

مزید پڑھیے

اداس شام کی ایک نظم

وصال رت کی یہ پہلی دستک ہی سرزنش ہے کہ ہجر موسم نے رستے رستے سفر کا آغاز کر دیا ہے تمہارے ہاتھوں کا لمس جب بھی مری وفا کی ہتھیلیوں پر حنا بنے گا تو سوچ لوں گی رفاقتوں کا سنہرا سورج غروب کے امتحان میں ہے ہمارے باغوں سے گر کبھی تتلیوں کی خوشبو گزر نہ پائے تو یہ نہ کہنا کہ تتلیوں نے ...

مزید پڑھیے

حیرت

نہ گفتگو کا کمال آہنگ نہ بات کے بے مثال معنی نہ خال و خد میں وہ جاذبیت جو جسم و جاں کو اسیر کر لے نہ مشترک کوئی عکس خواہش مگر یہ کیا ہے میں کس کی خاطر وفا کے رستوں پہ لکھ رہی ہوں مسافرت کی نئی کہانی

مزید پڑھیے

نا دیدہ رفاقت میں

کچھ بھی تو نہیں ویسا جیسا تجھے سوچا تھا جتنا تجھے چاہا تھا سوچا تھا ترے لب پر کچھ حرف دعاؤں کے کچھ پھول وفاؤں کے مہکیں گے مری خاطر کچھ بھی تو نہیں ویسا جیسا تجھے سوچا تھا محسوس یہ ہوتا ہے دکھ جھیلے تھے جو اب تک بے نام مسافت میں لکھنے کی محبت میں پڑھنے کی ضرورت میں بے سود ریاضت ...

مزید پڑھیے

اب نہ بدلے گا کوئی کروٹ جہاں میرے لئے

اب نہ بدلے گا کوئی کروٹ جہاں میرے لئے موت ہوگی باعث تسکین جاں میرے لئے میرے دل میں خود ہے ایک دریائے آتش موجزن آسماں پالے گا کیا تو بجلیاں میرے لئے ایک ٹہنی بھی نہ چھوڑی برق نے گلزار میں آشیاں کوئی بنائے بھی کہاں میرے لئے ساقیا بہتر ہے تیری اس مئے گل رنگ سے میری چشم غم کا جام ...

مزید پڑھیے

پھر چھوٹ گیا ہاتھ سے دامان تمنا

پھر چھوٹ گیا ہاتھ سے دامان تمنا پھر لوٹ لیا بخت نے سامان تمنا پھر جم گیا ویرانے کا نقشہ مرے گھر میں تاراج ہوا پھر سر و سامان تمنا ہر سمت اندھیرا ہے نظر کچھ نہیں آتا گل ہو گئی پھر شمع شبستان تمنا مدت سے ہے اک موج تہہ آب سی دل میں اب جوش پہ آتا نہیں طوفان تمنا سوچا کئے آئے گی کبھی ...

مزید پڑھیے

پھر کھنچ گئی اچانک ہمدم کمان تقدیر

پھر کھنچ گئی اچانک ہمدم کمان تقدیر آئے دل حزیں پر جور و ستم کے پھر تیر غیروں سے جب ملے ہم اپنا بنا کے چھوڑا اور کر سکے نہ اس کو کرنا تھا جس کو تسخیر اوروں کے چاک قسمت ہم نے رفو کئے تھے اور سی سکے نہ اپنا افسوس چاک تقدیر اس درجہ سوئے ظن ہے ہر بات دل شکن ہے لائے کہاں سے ہر دن اک دل ...

مزید پڑھیے

بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے

بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے ہوا کا شور گہرا ہو گیا ہے کسی کے لمس کا یہ معجزہ ہے بدن سارا سنہرا ہو گیا ہے یہ دل دیکھوں کہ جس کے چار جانب تری یادوں کا پہرا ہو گیا ہے وہی ہے خال و خد میں روشنی سی پہ تل آنکھوں کا گہرا ہو گیا ہے کبھی اس شخص کو دیکھا ہے تم نے محبت سے سنہرا ہو گیا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 2116 سے 6203