قومی زبان

دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف

دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف ایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئے اب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف تم ہوا ان کھڑکیوں سے صرف اتنا دیکھنا اس نے کوئی خط کسی کے نام لکھا اس طرف یہ محبت بھی عجب تقسیم کے موسم میں ہے سارا جذبہ اس طرف ہے ...

مزید پڑھیے

بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں

بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں کس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں خوف کیسا ہے یہ نام اس کا کہیں زیر لب بھی نہیں جس نے ہاتھوں میں میرے ہرے کانچ کی چوڑیاں ڈال دیں ہونٹ پیاسے رہے حوصلے تھک گئے عمر صحرا ہوئی ہم نے پانی کے دھوکے میں پھر ریت پر کشتیاں ڈال ...

مزید پڑھیے

سمجھ میں کچھ نہیں آتا

ہمیں کس ہاتھ کی محبوب ریکھاؤں میں رہنا تھا کس دل میں اترنا تھا چمکنا تھا کن آنکھوں میں کہاں پر پھول بننا تھا تو کب خوشبو کی صورت کوئے جاناں سے گزرنا تھا سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہمیں کس قریۂ آب و ہوا کے سنگ رہنا تھا کہاں شامیں گزرنی تھیں کہاں مہتاب راتوں میں کسی کو یاد کرنا تھا کسی ...

مزید پڑھیے

ہجر کے پر بھیگ جائیں

کہاں تک خیمۂ دل میں چھپائیں اپنی آسوں اور پیاسوں کو کہاں تک خوف کے بے شکل صحرا کی ہتھیلی پر کریدے جائیں آنکھیں اور لکیریں روشنی کی پھر نہ بن پائیں ہم انساں ہو کے بھی سائے کی خوشبو کو ترس جائیں چلو اک دوسرے کی خواہشوں کی دھوپ میں جلتے ہوئے آنگن کی ویرانی میں آنکھیں بند کر لیں ...

مزید پڑھیے

ہوا کو آوارہ کہنے والو

ہوا کو آوارہ کہنے والو کبھی تو سوچو، کبھی تو لکھو ہوائیں کیوں اپنی منزلوں سے بھٹک گئی ہیں نہ ان کی آنکھوں میں خواب کوئی نہ خواب میں انتظار کوئی اب ان کے سارے سفر میں صبح یقین کوئی نہ شام صد اعتبار کوئی نہ ان کی اپنی زمین کوئی نہ آسماں پر کوئی ستارہ نہ کوئی موسم نہ کوئی خوشبو کا ...

مزید پڑھیے

مری آواز سنتے ہو

میں تنہا ہجر کے جنگل کے غاروں میں جلاتی ہوں سخن کے وہ دیئے جن کو ابھی باہر کی زہریلی ہوائیں اجنبی محسوس کرتی ہیں ابھی یہ روشنی جو سچ کی خوشبو کی حفاظت کے لیے تاریکیوں سے لڑ رہی ہے، نا شناسی کے غبار آلود رستوں سے گزرتی ہے ابھی جگنو شبوں میں اپنے ہونے کی گواہی تک نہیں دیتے ابھی تو ...

مزید پڑھیے

ورثہ

بیٹیاں بھی تو ماؤں جیسی ہوتی ہیں ضبط کے زرد آنچل میں اپنے سارے درد چھپا لیتی ہیں روتے روتے ہنس پڑتی ہیں ہنستے ہنستے دل ہی دل میں رو لیتی ہیں خوشی کی خواہش کرتے کرتے خواب اور خاک میں اٹ جاتی ہیں سو حصوں میں بٹ جاتی ہیں گھر کے دروازے پر بیٹھی امیدوں کے ریشم بنتے ساری عمر گنوا دیتی ...

مزید پڑھیے

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا

اب کس سے کہیں اور کون سنے جو حال تمہارے بعد ہوا اس دل کی جھیل سی آنکھوں میں اک خواب بہت برباد ہوا یہ ہجر ہوا بھی دشمن ہے اس نام کے سارے رنگوں کی وہ نام جو میرے ہونٹوں پر خوشبو کی طرح آباد ہوا اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ...

مزید پڑھیے

یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا

یہ نام ممکن نہیں رہے گا مقام ممکن نہیں رہے گا غرور لہجے میں آ گیا تو کلام ممکن نہیں رہے گا یہ برف موسم جو شہر جاں میں کچھ اور لمحے ٹھہر گیا تو لہو کا دل کی کسی گلی میں قیام ممکن نہیں رہے گا تم اپنی سانسوں سے میری سانسیں الگ تو کرنے لگے ہو لیکن جو کام آساں سمجھ رہے ہو وہ کام ممکن ...

مزید پڑھیے

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی

تجھ سے اب اور محبت نہیں کی جا سکتی خود کو اتنی بھی اذیت نہیں دی جا سکتی جانتے ہیں کہ یقیں ٹوٹ رہا ہے دل پر پھر بھی اب ترک یہ وحشت نہیں کی جا سکتی حبس کا شہر ہے اور اس میں کسی بھی صورت سانس لینے کی سہولت نہیں دی جا سکتی روشنی کے لیے دروازہ کھلا رکھنا ہے شب سے اب کوئی اجازت نہیں لی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2117 سے 6203