دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف
دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف ایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئے اب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف تم ہوا ان کھڑکیوں سے صرف اتنا دیکھنا اس نے کوئی خط کسی کے نام لکھا اس طرف یہ محبت بھی عجب تقسیم کے موسم میں ہے سارا جذبہ اس طرف ہے ...