قومی زبان

ہر کٹھن موڑ پہ بنتے ہیں سہارے میرے

ہر کٹھن موڑ پہ بنتے ہیں سہارے میرے دوست اچھے ہیں سنو سارے کے سارے میرے یہ الگ بات کہ کچھ کر نہیں پائیں گے مگر رات کی راہ تو روکیں گے ستارے میرے کہیں سرسوں کا تلاطم کہیں کاہو کا سکوت ایک سے ایک ہیں گاؤں کے نظارے میرے شب سمجھتی ہے مری بات کی ساری پرتیں دن پہ کھل ہی نہیں پاتے ہیں ...

مزید پڑھیے

سنو دریا کی دہائی صاحب

سنو دریا کی دہائی صاحب پیاس ملنے نہیں آئی صاحب یاد کرتی ہے مہکتی سرسوں راہ تکتی ہے پھلائی صاحب میرے ہاتھوں میں قلم تھا لیکن میں نے تلوار اٹھائی صاحب مجھ پہ پتھراؤ کیا پھولوں نے چوٹ خوشبو نے لگائی صاحب میرے ہونٹوں سے چھڑا کر دامن پیاس دریا میں نہائی صاحب

مزید پڑھیے

یوں تو دیکھی ہیں مرے یار سبھی کی آنکھیں

یوں تو دیکھی ہیں مرے یار سبھی کی آنکھیں اس کی آنکھوں سی کہاں اور کسی کی آنکھیں وہ تو پربت کی بلندی کو بھلا بیٹھی ہے گم ہیں یوں تیرے ابھاروں میں ندی کی آنکھیں اس کی گردن کے سبھی طوق اتر جاتے ہیں جس پہ اٹھ جاتی ہیں اک بار ولی کی آنکھیں بس تری راہ میں لٹنے کو تلے بیٹھے ہیں کسی لمحے ...

مزید پڑھیے

خمار تشنہ لبی میں یہ کام کر آئے

خمار تشنہ لبی میں یہ کام کر آئے ہم اپنی پیاس کو دریا کے نام کر آئے تمہارے لمس کا صندل مہکنے والا ہے خبر یہ ہم بھی درختوں میں عام کر آئے اسے گلے سے لگانا تو خواب ٹھہرا ہے یہی بہت ہے جو اس سے کلام کر آئے تمہاری یاد کی چھاؤں میں دن گزارا ہے تمہارے ذکر کے سائے میں شام کر آئے کچھ اور ...

مزید پڑھیے

ساحرؔ لدھیانوی کے لئے

سحر تھا جس کی باتوں میں نخل ثمر تھا جس کے ہاتھوں میں جادو بیاں ایسا جو بانجھ زمینوں سے فصلیں اگا گیا وجود کی بے معنی کتابوں میں ہمیں درس عبرت دے گیا موت اور زیست کے درمیاں کتنے فاصلے مسدود کر گیا تجربات کا بس اپنے پیالوں میں گھول کر شاخوں میں آنسو کھلا گیا لے آیا وہ سوغات جو زخم ...

مزید پڑھیے

التجائے مسافر

نہ اتنا تیز چلو کہ تھک جاؤ نہ اتنا رک رک کے چلو کہ جم جاؤ نہ کھولو لب یوں بھی نہ ان کو اتنا بند کرو کہ جن پر نہ شبنم بھی ٹھہر پائے نہ دو آواز اتنی آہستہ جسے سننے کے لئے روح بھی ترس جائے نہ اس کو اتنا بڑھاؤ کہ میرا وجود میرے لیے عذاب بن جائے نہ رہو اتنے مسرور کہ میں حاکم وقت بن ...

مزید پڑھیے

جہان زندگی ہے اور ہم ہیں

جہان زندگی ہے اور ہم ہیں ہماری بے بسی ہے اور ہم ہیں ہے ڈوبی بحر غم میں اپنی کشتی اسی سے ہمدمی ہے اور ہم ہیں ہماری زندگی کیا اور ہم کیا اجل سر پر کھڑی ہے اور ہم ہیں پڑا ہے واسطہ جن ساعتوں سے ہر اک ساعت کڑی ہے اور ہم ہیں یہی دنیا ہے جس کے پیچ و خم میں ہماری شاعری ہے اور ہم ہیں جہان ...

مزید پڑھیے

دل مضطر سے الفت کی فراوانی نہیں جاتی

دل مضطر سے الفت کی فراوانی نہیں جاتی نہیں جاتی ہے یعنی خوئے انسانی نہیں جاتی یہ کیا دستور کیا آئین مے خانہ ہے اے ساقی کہ رندوں کی یہاں تو بات بھی مانی نہیں جاتی مجھے اے شیخ کچھ مدت تو بت خانے میں رہنے دے بتوں میں بیٹھ کر دل سے مسلمانی نہیں جاتی شناسا تھے سبھی اپنے کہ جب تک بخت ...

مزید پڑھیے

جانے کس موڑ جدائی کی گھڑی آتی ہے

جانے کس موڑ جدائی کی گھڑی آتی ہے ہجر کی بیل منڈیروں پہ چڑھی آتی ہے کیا خبر دھوپ کی عادت کو بگاڑا کس نے بن بلائے میرے آنگن میں چلی آتی ہے ہجر میں وصل کی بابت نہیں سوچا کرتے ایسا کرنے سے محبت میں کمی آتی ہے جانے کیوں وصل کا موسم نہیں آنے دیتا جانے کیا اس کے خزانے میں کمی آتی ...

مزید پڑھیے

ہوا کی آنکھ میں کاجل نہیں ہے

ہوا کی آنکھ میں کاجل نہیں ہے دیا اب کے کوئی گھائل نہیں ہے اسی کو مانگتا ہوں ہر دعا میں وہ لڑکی جو مرے قابل نہیں ہے خود اپنے آپ کو مارا ہے میں نے سو میرا کوئی بھی قاتل نہیں ہے ابوذر کی پھٹی چادر ہے دنیا یہ تیرا سرمئی آنچل نہیں ہے سکھی میں تیرے جیسا تو نہیں ہوں سو میرا لمس تو صندل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2109 سے 6203