قومی زبان

تو اگر ابر ہے میں ابر میں پانی کی طرح

تو اگر ابر ہے میں ابر میں پانی کی طرح میں ترے ساتھ ہوں لفظوں میں معانی کی طرح نفسی نفسی کا یہ عالم ہے کہ آتے جاتے تم ملے بھی تو قیامت کی نشانی کی طرح یوں ہی اک روز گزر جاؤں گا راہوں سے تری میں بھی بہتی ہوئی ندیوں کی روانی کی طرح دیکھ کر تجھ کو کلیجے میں کسک اٹھتی ہے دھج تری ہے مری ...

مزید پڑھیے

عکس آنکھوں میں بے دھیانی کا تھا

عکس آنکھوں میں بے دھیانی کا تھا یا سبب دل کی بد گمانی کا تھا بجھتا بجھتا حباب پانی کا تھا لمحہ لمحہ میں زندگانی کا تھا کچھ طبیعت بھی زور پر تھی مری کچھ تقاضا بھی نوجوانی کا تھا میں تھا کامل نظر شناسی میں زعم اس کو مزاج دانی کا تھا تھا جو کھٹکا سا ہر گھڑی دل میں عذر بس اس کی ...

مزید پڑھیے

مجھے بھی یارب فراغت ماہ و سال دینا

مجھے بھی یارب فراغت ماہ و سال دینا کبھی مرے دل کے حوصلے بھی نکال دینا یہ غم کی لمبی اندھیری شب کس طرح کٹے گی افق پہ دل کے کوئی کرن تو اچھال دینا جو روز و شب کے نصیب میں بے دری ہے لکھنی نہ خواب دینا نہ دل میں شوق وصال دینا کبھی اگر تم ہواؤ دشت و جبل سے گزرو تو ان کی محرومیوں کو ...

مزید پڑھیے

تعلقات وفا میں جو سرد اب تک ہے

تعلقات وفا میں جو سرد اب تک ہے کئی محاذ پہ گرم نبرد اب تک ہے اگرچہ شہر کے حالات پر سکون بھی ہیں ہر ایک چہرہ مگر زرد زرد اب تک ہے بھڑک اٹھے تو زمانے کی خیر نا ممکن وہی جو آگ سی سینے میں سرد اب تک ہے تمہاری بات سے وہ سنگ دل پگھلتا کیا تمہارا دل بھی تو محروم درد اب تک ہے وہ ایک خواب ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی ہر لمحہ اٹھتے پتھروں کے ساتھ میں

ہر گھڑی ہر لمحہ اٹھتے پتھروں کے ساتھ میں ٹوٹے ٹوٹے کتنے شیشوں کے گھروں کے ساتھ میں آندھیوں کے دوش پر شمعیں جلاتا روز و شب قہر میں بپھری ہوا کے لشکروں کے ساتھ میں سبزہ زاروں کی تمنا مجھ میں سرگرم سفر سفر چلچلاتی دھوپ کے نامہ بروں کے ساتھ میں رفتہ رفتہ شام کے نا مہرباں سیلاب ...

مزید پڑھیے

کن دشمنوں کا تیر بنایا گیا ہوں میں

کن دشمنوں کا تیر بنایا گیا ہوں میں اپنے ہی جسم و جاں میں اتارا گیا ہوں میں جو سب سے کٹ چکا ہوں تو حیرت کی بات کیا اب اپنے ساتھ بھی کہاں پایا گیا ہوں میں اک عمر تک تو میں بھی زمانے کے ساتھ تھا کچھ بات ہے جو لوٹ کے گھر آ گیا ہوں میں وہ ماہ وش سنا ہے کہ گزرے گا اس طرف اک کہکشاں سی راہ ...

مزید پڑھیے

جب جب اس کو سوچا ہے

جب جب اس کو سوچا ہے دل اندر سے مہکا ہے صحرا پر موقوف نہیں دریا بھی تو پیاسا ہے تیرے روپ کا سایہ تو سیدھا دل پر پڑتا ہے سب سے اس کی باتیں کرنا کتنا اچھا لگتا ہے چوٹ لگے اک عمر ہوئی زخم ابھی تک رستا ہے شام کی بانہوں میں نعمانؔ کس کو سوچتا رہتا ہے

مزید پڑھیے

جب رکھے پاؤں اس نے پانی میں

جب رکھے پاؤں اس نے پانی میں آ گئی موج بھی روانی میں سارے مضمون تھے بلاغت کے ایک کمسن کی بے زبانی میں اک نیا ذائقہ جنم لے گا پیاس دیکھو ملا کے پانی میں غم نہ دیکھا کوئی بڑھاپے کا مر گئے شکر ہے جوانی میں آج روٹھی ہے سانولی مجھ سے کہہ دیا جانے کیا روانی میں

مزید پڑھیے

اس کی خوشبو کی چاپ سنتے ہی (ردیف .. ن)

اس کی خوشبو کی چاپ سنتے ہی پھول کھلنے لگے تھے بیلے میں اس نے وعدہ کیا ہے ملنے کا مجھ سے آئندگاں کے میلے میں آؤ ڈھونڈیں کہاں گیا سورج شام کے سرمئی جھمیلے میں اس سے کہنا کہ لوٹ آئے وہ بات کرنا مگر اکیلے میں اس کے چھوتے ہی ہوش کی ناؤ بہہ گئی خوشبوؤں کے ریلے میں

مزید پڑھیے

یہ الگ بات کہ ہم سا نہیں پیاسا کوئی

یہ الگ بات کہ ہم سا نہیں پیاسا کوئی پھر بھی دریا سے تعلق نہیں رکھا کوئی میرے مکتب کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے اب کہ ہاتھوں میں کتابیں ہیں نہ بستہ کوئی جانے کس اور گیا قافلہ امیدوں کا دل کے صحرا میں نہیں آس کا خیمہ کوئی کس عجب دھن میں یہاں عمر گنوائی ہم نے قرض مٹی کا اتارا نہ ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2108 سے 6203