قومی زبان

کہاں لے جائیں گے سامان اتنا

کہاں لے جائیں گے سامان اتنا اگر آ جائے ہم کو دھیان اتنا یہ آنکھیں ڈھونڈھتی رہتی ہیں کس کو یہ دل رہتا ہے کیوں حیران اتنا اسے کوئی سمجھ سکتا ہے کیسے بدل جاتا ہو جو ہر آن اتنا جو کرنا تھا وہ میں نے کر لیا ہے مرے جوہر میں تھا امکان اتنا اسے ہم بھول تو سکتے ہیں لیکن نہیں یہ کام کچھ ...

مزید پڑھیے

دل میں کوئی بھی تمنا کیوں ہو

دل میں کوئی بھی تمنا کیوں ہو رات دن اس کا نظارہ کیوں ہو جتنا دیکھا ہے وہ اتنا تو نہیں جتنا سمجھا ہے وہ اتنا کیوں ہو تمہیں ملنا ہی نہیں جب ہم کو دل تری سمت لپکتا کیوں ہو ہاتھ سے ہاتھ نہیں ملتا جب کوئی بھی آپ کے جیسا کیوں ہو مل ہی جائے گا جو ملنا ہوگا درمیاں کوئی وسیلہ کیوں ہو جو ...

مزید پڑھیے

ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئی

ابھی مجھ سے کسی کو محبت نہیں ہوئی سو دل کے باغ میں پھول بھی نہیں کھلے مجھے ہر عورت کے سینے پر پستان اور رانوں کے بیچ قوس نظر آتی ہے ابھی محبت شروع نہیں ہوئی میں ہر ہم بستری کے بعد بیزار ہو جاتا ہوں اور پھر سے اس کام کے لئے تیار ہو جاتا ہوں میں پستانوں اور رانوں میں محبت تلاش کرنے کے ...

مزید پڑھیے

کس شعر میں ثنائے رخ مہ جبیں نہیں

کس شعر میں ثنائے رخ مہ جبیں نہیں ہے آسمان حسن غزل کی زمیں نہیں کیوں کر کہوں کہ تم سا کوئی نازنیں نہیں عاجز کچھ اے حسیں مرا حسن آفریں نہیں اک اک سخن پہ کرتے ہیں سو سو نہیں نہیں کیا دوسرا جہان میں تم سا حسیں نہیں تجھ سا جہاں میں اے یم خوبی حسیں نہیں ہے موج بحر حسن یہ چین جبیں ...

مزید پڑھیے

ایسی تشبیہ فقط حسن کی بدنامی ہے

ایسی تشبیہ فقط حسن کی بدنامی ہے ماہ عارض کو لکھا خامے کی یہ خامی ہے رنگ یہ ان کی صباحت نے عجب دکھلایا سرخ جوڑے پہ گماں ہوتا ہے بادامی ہے کہتے پھرتے ہو برا مجھ کو یہ بات اچھی نہیں میری رسوائی میں صاحب کی بھی بدنامی ہے آپ کی باتوں سے دل پک گیا جب کہتا ہوں میں ہنس کے کہتے ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

جفا پسندوں کو سنتے ہیں نا پسند ہوا

جفا پسندوں کو سنتے ہیں نا پسند ہوا اب اور بھی دل مایوس درد مند ہوا مہ دو ہفتہ بنایا ہمیں نے عارض کو ہماری وجہ سے حسن آپ کا دو چند ہوا جدا جدا ہے مذاق اپنا اپنا دنیا میں ہمیں جو درد تو دل درد کو پسند ہوا وہ پھیر پھیر گئے توڑ توڑ کر اکثر یہ دل وہ ہے جو کئی بار درد مند ہوا کوئی ہزار ...

مزید پڑھیے

اپنی تشہیر کرے یا مجھے رسوا دیکھے

اپنی تشہیر کرے یا مجھے رسوا دیکھے وہ مرے واسطے اس شہر میں کیا کیا دیکھے لمحۂ رفتہ کو آواز تو دیتی ہوگی آئینہ آئینہ جب کوئی وہ مجھ سا دیکھے شام کی آخری سرحد پہ مری طرح کوئی اپنی بربادی کا خود ہی نہ تماشا دیکھے اپنے بچوں کو دعا دیتا ہوں یہ شام و سحر میری ہی طرح یہ دنیا تمہیں ...

مزید پڑھیے

قربتوں کے یہ سلسلے بھی ہیں

قربتوں کے یہ سلسلے بھی ہیں چشم در چشم رت جگے بھی ہیں جانے والے دنوں کے بارے میں آنے والوں سے پوچھتے بھی ہیں بات کرنے سے پہلے اچھی طرح ہم بہت دیر سوچتے بھی ہیں تری خوش حالیوں کی قامت کو تیرے ماضی سے ناپتے بھی ہیں ڈوبتے چاند کو دریچے میں چشم پر نم سے دیکھتے بھی ہیں مسکرانے کے ...

مزید پڑھیے

دیکھا ہی نہ ہو جس نے کبھی خاک سے آگے

دیکھا ہی نہ ہو جس نے کبھی خاک سے آگے کیا اس کو نظر آئے گا افلاک سے آگے وہ غم بھی اٹھائے ہیں ترے عشق میں اے جاں اٹھتے ہی نہ تھے جو دل صد چاک سے آگے دل موسم ہجراں میں کہیں مر نہ گیا ہو دیکھو تو کبھی دیدۂ نمناک سے آگے اک فصل بہاراں ہے مرے روح و بدن پر اک باغ کھلا ہے تری پوشاک سے ...

مزید پڑھیے

کیوں ہو نہ گر کے کاسۂ تدبیر پاش پاش

کیوں ہو نہ گر کے کاسۂ تدبیر پاش پاش ہے سنگ غم سے شیشۂ تقدیر پاش پاش ہے خون بے گنہ سے جگر ریش تیغ بھی جوہر نہیں یہ ہے تن شمشیر پاش پاش تیر نگہ نے دل مرا غربال کر دیا زخموں سے ہو گیا تن نخچیر پاش پاش تیغ زبان یار سے مجروح ہے جگر ہوتا ہے دل مرا دم تقریر پاش پاش اے تیغ کلک لکھ وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 210 سے 6203