میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا
میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا فاصلہ طے نئی دیوار اٹھانے سے ہوا ورنہ یہ قصہ بھلا ختم کہاں ہونا تھا داستاں سے مرا کردار اٹھانے سے ہوا محمل ناز کی تاخیر کا یہ سارا فساد راہ افتادہ کو بیکار اٹھانے سے ہوا شاق گزرا ہے جو احباب کو وہ صدمہ بھی بزم میں مصرع تہہ دار اٹھانے سے ...