قومی زبان

میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا

میرے گریہ سے نہ آزار اٹھانے سے ہوا فاصلہ طے نئی دیوار اٹھانے سے ہوا ورنہ یہ قصہ بھلا ختم کہاں ہونا تھا داستاں سے مرا کردار اٹھانے سے ہوا محمل ناز کی تاخیر کا یہ سارا فساد راہ افتادہ کو بیکار اٹھانے سے ہوا شاق گزرا ہے جو احباب کو وہ صدمہ بھی بزم میں مصرع تہہ دار اٹھانے سے ...

مزید پڑھیے

چراغ کشتہ سے قندیل کر رہا ہے مجھے

چراغ کشتہ سے قندیل کر رہا ہے مجھے وہ دست غیب جو تبدیل کر رہا ہے مجھے یہ میرے مٹتے ہوئے لفظ جو دمک اٹھے ہیں ضرور وہ کہیں ترتیل کر رہا ہے مجھے میں جاگتے میں کہیں بن رہا ہوں از سر نو وہ اپنے خواب میں تشکیل کر رہا ہے مجھے حریم ناز اور اک عمر بعد میں لیکن یہ اختصار جو تفصیل کر رہا ہے ...

مزید پڑھیے

آئینے کے آخری اظہار میں

آئینے کے آخری اظہار میں میں بھی ہوں شام ابد آثار میں دیکھتے ہی دیکھتے گم ہو گئی روشنی بڑھتی ہوئی رفتار میں قطرہ قطرہ چھت سے ہی رسنے لگی دھوپ کا رستہ نہ تھا دیوار میں اپنی آنکھیں ہی میں بھول آیا کہیں رات اتنی بھیڑ تھی بازار میں بار بار آتا رہا ہے تیرا نام آئینہ ہوتی ہوئی گفتار ...

مزید پڑھیے

کتنے ہی فیصلے کئے پر کہاں رک سکا ہوں میں

کتنے ہی فیصلے کئے پر کہاں رک سکا ہوں میں آج بھی اپنے وقت پر گھر سے نکل پڑا ہوں میں ابر سے اور دھوپ سے رشتہ ہے ایک سا مرا آئنے اور چراغ کے بیچ کا فاصلہ ہوں میں تجھ کو چھوا تو دیر تک خود کو ہی ڈھونڈتا رہا اتنی سی دیر میں بھلا تجھ سے کہاں ملا ہوں میں خوشبو ترے وجود کی گھیرے ہوئے ہے ...

مزید پڑھیے

جس بھی لفظ پہ انگلیاں رکھ دے ساز کرے

جس بھی لفظ پہ انگلیاں رکھ دے ساز کرے نظم کی مرضی کیسے بھی آغاز کرے کون لگائے قدغن خواب میں اشیا پر آئنہ ہاتھ ملائے عکس آواز کرے جب بچوں کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں مالک ان پھولوں کی عمر دراز کرے سوتے جاگتے کچھ بھی بولتا رہتا ہوں کون بھلا مجھ ایسے کو ہم راز کرے قدم قدم پر ان کی ...

مزید پڑھیے

کہیں یہ لمحۂ موجود واہمہ ہی نہ ہو

کہیں یہ لمحۂ موجود واہمہ ہی نہ ہو جو ہو رہا ہے یہ سب پہلے ہو چکا ہی نہ ہو وہ صدمہ جس کے سبب میں ہوں سر بہ زانو ابھی عجب نہیں مری دانست میں ہوا ہی نہ ہو ترے غیاب میں جو کچھ کیا حکایت میں کہیں وہ گفتہ و نا گفتہ سے سوا ہی نہ ہو کلام کرتی ہوئی لہریں چپ نہ ہوں مرے بعد مرے لیے کہیں پانی ...

مزید پڑھیے

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں

نہ تھیں تو دور کہیں دھیان میں پڑی ہوئی تھیں تمام آیتیں امکان میں پڑی ہوئی تھیں کواڑ کھلنے سے پہلے ہی دن نکل آیا بشارتیں ابھی سامان میں پڑی ہوئی تھیں وہیں شکستہ قدمچوں پہ آگ روشن تھی وہیں روایتیں انجان میں پڑی ہوئی تھیں ہم اپنے آپ سے بھی ہم سخن نہ ہوتے تھے کہ ساری مشکلیں آسان ...

مزید پڑھیے

زندگی ہم نے ترے رنگ میں ڈھالی بھی ہے

زندگی ہم نے ترے رنگ میں ڈھالی بھی ہے روش زیست مگر اپنی نرالی بھی ہے کیا گزرتی ہے بھلا طائر جاں پر اے عشق شوق پرواز بھی ہے بے پر و بالی بھی ہے عشق کا کام تو دینا ہے سو جاں دی اے دل ہم نے دنیا سے کوئی چیز بھلا لی بھی ہے ہم اکیلا تجھے اس شہر میں چھوڑ آئے ہیں ہم نے اک بات تو اے دل تری ...

مزید پڑھیے

وصل سے اور ہجر سے ہے تنگ

وصل سے اور ہجر سے ہے تنگ دل نے سیکھے ہیں کچھ عجیب ہی ڈھنگ اب نہ زنجیر ہے نہ زنداں ہے اب نہ دیوار ہے نہ ہاتھ میں سنگ اب نہ دل میں وو یاسمیں رو ہے اب نہ آنکھوں میں وہ مہکتے رنگ اب نہ وہ عشق میں کشاکش ہے اب نہ وہ زندگی میں ہے آہنگ جیتتا جا رہا ہوں عشق کا کھیل ہارتا جا رہا ہوں زیست کی ...

مزید پڑھیے

موجود کچھ نہیں یہاں معدوم کچھ نہیں

موجود کچھ نہیں یہاں معدوم کچھ نہیں یہ زیست ہے تو زیست کا مفہوم کچھ نہیں منظر حجاب اور ہی کچھ منظروں کے ہیں معلوم ہم کو یہ ہے کہ معلوم کچھ نہیں خواب و خیال سمجھیں تو موجود ہے جہاں کچھ بھی سوائے نقطۂ موہوم کچھ نہیں حرف و بیاں نظارے ستارے دل و نظر ہر شے میں انتشار ہے منظوم کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 209 سے 6203