قومی زبان

فیصلہ کیا ہو جان بسمل کا

فیصلہ کیا ہو جان بسمل کا موت رخ دیکھتی ہے قاتل کا دل لگی ہے سنبھالنا دل کا ناصحا کام ہے یہ مشکل کا موت بھی کانپ کانپ اٹھتی ہے نام سن سن کے میرے قاتل کا مل کے تلووں سے ہنس کے کہتے ہیں تھا زمانہ میں شور اسی دل کا حسرتیں اس پتے پر آتی ہیں داغ دل ہے چراغ منزل کا کیا قرینے سے گل ہیں ...

مزید پڑھیے

کیا ملا قیس کو گرد رہ صحرا ہو کر

کیا ملا قیس کو گرد رہ صحرا ہو کر رہ گیا ہوتا غبار در لیلیٰ ہو کر یاد آتے ہیں چمن میں جو کسی کے عارض گل کھٹکتے ہیں مری آنکھوں میں کانٹا ہو کر پہلے کیا تھا جو کیا کرتے تھے تعریف مری اب ہوا کیا جو برا ہو گیا اچھا ہو کر دل میں رکھ گرد کدورت نہ بہت اے کم بیں کہیں رہ جائے نہ یہ آئنہ ...

مزید پڑھیے

فراق میں خون دل ہیں پیتے شراب ہم لے کے کیا کریں گے

فراق میں خون دل ہیں پیتے شراب ہم لے کے کیا کریں گے ہمارا دل آپ بھن رہا ہے کباب ہم لے کے کیا کریں گے جو ان سے کہتا ہوں یار حاضر ہے یہ ہمارا دل شکستہ تو ہنس کے کہتے ہیں ناز سے وہ جناب ہم لے کے کیا کریں گے نہیں ہے فرصت یہیں کے جھگڑوں سے فکر عقبیٰ کہاں کی واعظ عذاب دنیا ہے ہم کو کیا کم ...

مزید پڑھیے

پیچ دے زلف عنبریں نہ کہیں

پیچ دے زلف عنبریں نہ کہیں خود الجھ جاؤ اے حسیں نہ کہیں کبھی گھبراتے ہیں تو کہتے ہیں کوئی بیتاب ہے کہیں نہ کہیں بہت اصرار وصل پر نہیں خوب منہ سے کہہ دیں وہ پھر نہیں نہ کہیں ذکر جس غمزدے کا ہوتا ہے دل یہ کہتا ہے ہوں ہمیں نہ کہیں سجدے کرتے ہیں لوگ دیر میں بھی واں بھی اے یار ہوں ...

مزید پڑھیے

نہ ہوگا حشر محشر میں بپا کیا

نہ ہوگا حشر محشر میں بپا کیا نہ ہوگا میرا ان کا فیصلہ کیا دغا دے گا مجھے وہ پر جفا کیا نہ آڑے آئے گی میری وفا کیا چمن میں کس لئے گل ہنس رہے ہیں شگوفہ تو نے چھوڑا اے صبا کیا چلو بگڑو نہ مہ کہنے پر اتنا بشر سے ہو نہیں جاتی خطا کیا انہیں ترک تعلق ہے جو منظور مجھے الزام دیتے ہیں وہ ...

مزید پڑھیے

غبار اڑتا رہا کارواں رکا ہی نہیں

غبار اڑتا رہا کارواں رکا ہی نہیں وہ کھو گیا تو مجھے پھر کبھی ملا ہی نہیں گواہ ہیں مرے گھر کے یہ بام و در سارے کہ تیرے بعد یہاں دوسرا رہا ہی نہیں نہ کوئی در نہ دریچہ نہ روزن و دیوار کہاں سے آئے ہوا کوئی راستا ہی نہیں ہزار رنگ بھرے لاکھ خال و خد کھینچے سراپا تیرا مکمل کبھی ہوا ہی ...

مزید پڑھیے

نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پالکی

نہ وہ گھر رہا نہ وہ بام و در نہ وہ چلمنیں نہ وہ پالکی مگر اب بھی میری زباں پہ ہے وہی داستاں سن و سال کی چلو بال و پر کو سمیٹ لیں کریں فکر اب کسی ڈال کی یہ غروب مہر کا وقت ہے یہ گھڑی ہے دن کے زوال کی سبھی موسموں سے گزر گیا کوئی بوجھ دل پہ لئے ہوئے مجھے راس آئی نہ رت کوئی نہ وہ ہجر کی ...

مزید پڑھیے

ایک مدت سے نہیں دیکھی ہے گھر کی صورت

ایک مدت سے نہیں دیکھی ہے گھر کی صورت گردشیں آج بھی لپٹی ہیں سفر کی صورت قفس جاں میں نہ روزن ہے نہ در کی صورت کیسے دیکھوں میں یہاں شمس و قمر کی صورت اب یہی جنگ کا عنوان بھی ہو سکتا ہے اس نے پتھر کوئی پھینکا ہے خبر کی صورت ماں کی آغوش سے پیوند زمیں ہونے تک آئینے ہم نے تراشے ہیں سفر ...

مزید پڑھیے

تماشا گاہ ہے یا عالم بے رنگ و بو کیا ہے

تماشا گاہ ہے یا عالم بے رنگ و بو کیا ہے میں کس سے پوچھنے جاؤں کہ میرے روبرو کیا ہے بصارت کہہ رہی ہے کچھ نہیں اس دشت وحشت میں سماعت پوچھتی ہے پھر یہ آخر ہاؤ ہو کیا ہے یہ کس کی آمد و شد سے ہوائیں رقص کرتی ہیں یہ کیوں موسم بدلتے ہیں میان رنگ و بو کیا ہے در و دیوار کیا کہتے ہیں گھر کس ...

مزید پڑھیے

مری زندگی کی کتاب میں یہی نقش ہیں مہ و سال کے

مری زندگی کی کتاب میں یہی نقش ہیں مہ و سال کے وہ شگفتہ رنگ عروج کے یہ شکستہ رنگ زوال کے ترے حسن سے مرے عشق تک یہ جو نسبتوں کے ہیں سلسلے یہ شجر ہیں ایک ہی باغ کے یہ ثمر ہیں ایک ہی ڈال کے میں سناؤں کیا کوئی داستاں کہ ثبوت غم بھی نہیں رہا مرے عشق نامے کو لے گیا کوئی طاق جاں سے نکال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 211 سے 6203