پھر اسی دھن میں اسی دھیان میں آ جاتا ہوں
پھر اسی دھن میں اسی دھیان میں آ جاتا ہوں تجھے ملتا ہوں تو اوسان میں آ جاتا ہوں بے نشاں ہو رہوں جب تک تری آواز کے ساتھ پھر کسی لفظ سا امکان میں آ جاتا ہوں جسم سے جیسے تعلق نہیں رہتا کوئی بیشتر دیدۂ حیران میں آ جاتا ہوں شاخ گل سے جو ہوا ہاتھ ملاتی ہے کہیں اسی اثنا اسی دوران میں آ ...