قومی زبان

پھر اسی دھن میں اسی دھیان میں آ جاتا ہوں

پھر اسی دھن میں اسی دھیان میں آ جاتا ہوں تجھے ملتا ہوں تو اوسان میں آ جاتا ہوں بے نشاں ہو رہوں جب تک تری آواز کے ساتھ پھر کسی لفظ سا امکان میں آ جاتا ہوں جسم سے جیسے تعلق نہیں رہتا کوئی بیشتر دیدۂ حیران میں آ جاتا ہوں شاخ گل سے جو ہوا ہاتھ ملاتی ہے کہیں اسی اثنا اسی دوران میں آ ...

مزید پڑھیے

کسی سفر کسی اسباب سے علاقہ نہیں

کسی سفر کسی اسباب سے علاقہ نہیں تمہارے بعد کسی خواب سے علاقہ نہیں ہمارے عہد کی دیوانگی ہمیں سے ہے ہمارے عصر کو مہتاب سے علاقہ نہیں مگر یہ خواب اگر خواب ہیں تو کیسے ہیں کہ جن کو دیدۂ بے خواب سے علاقہ نہیں ہر ایک ساز کو سازندگاں نہیں درکار بدن کو ضربت مضراب سے علاقہ نہیں

مزید پڑھیے

ان آنکھوں کی حیرت اور دبیز کروں

ان آنکھوں کی حیرت اور دبیز کروں کیوں نہ تجھے بھی آئینہ تجویز کروں حرف نگفتہ بیچ میں حائل ہے کب سے باب سخن میں خاموشی تقریظ کروں فرصت شب میں تیرا دھیان آ جاتا ہے کنج چمن کیونکر گھر کی دہلیز کروں آنکھیں مند جائیں گی منظر بجھنے تک اس اثنا میں خواب کسے تفویض کروں

مزید پڑھیے

جان بہاراں کب آؤ گے

جان بہاراں کب آؤ گے درد کے درماں کب آؤ گے کب آؤ گے میرے پیا تم حاصل ارماں کب آؤ گے ٹوٹ رہی ہیں میری امیدیں صاحب پیماں کب آؤ گے چوکھٹ سونی سونی سی ہے شام چراغاں کب آؤ گے میری چھت بھی روشن کر دو ماہ درخشاں کب آؤ گے آنکھیں رستہ دیکھ رہی ہیں میرے نگہباں کب آؤ گے کشتی میری ڈوب نہ ...

مزید پڑھیے

سنو

سنو نہ جاناں حسیں ہوں لیکن میں سادگی کے تمام رنگوں کو چاہتی ہوں میں اس بدن سے بہت ہی نزدیک ایک روح گداز رکھتی ہوں جس کی خاطر میں سنگ ہونے کے اک سفر پے رواں دواں ہوں کبھی تو اس راستے میں آؤ غبار دیکھو میں جس کے پردے سے چھن رہی ہوں مرے بدن سے ہزار لمحوں پہ ایک لذت جو مضطرب ہے کبھی اسے ...

مزید پڑھیے

ادھوراپن

تم جو کہتے ہو مجھ سے اکثر کے نام تیرے پہ نظم کہہ دوں سنو پھر تم میں چاہتی ہوں سرد رتوں کی اداس شامیں میں سنگ تیرے یوں بتاؤں کلائیاں سونی پڑی ہیں کب سے میں نام تیرے کنگن پہنوں گلاب گجروں سے خوب مہکوں خواب آنکھوں سے خود جو دیکھوں تمہیں دکھاؤں گہری نیندوں سے فجر کے لئے خود جاگوں ...

مزید پڑھیے

رفاقت کی یہ خواہش کہہ رہی ہے

رفاقت کی یہ خواہش کہہ رہی ہے کئی دن سے وہ مجھ میں رہ رہی ہے پکارا ہے کچھ ایسے نام میرا رگوں میں روشنی سی بہہ رہی ہے تعجب ہے کہ میری انگلیوں میں تری ہاتھوں کی خوشبو رہ رہی ہے سمجھ پایا نہیں پر سن رہا ہوں وہ سرگوشی میں کیا کیا کہہ رہی ہے تری خواہش کسی امکاں کی صورت ہمیشہ مجھ میں ...

مزید پڑھیے

دنوں میں دن تھے شبوں میں شبیں پڑی ہوئی تھیں

دنوں میں دن تھے شبوں میں شبیں پڑی ہوئی تھیں سبھی کہانیاں اک طاق میں پڑی ہوئی تھیں اذان گونجی تو محراب میں کوئی بھی نہ تھا بس ایک رحل پہ کچھ آیتیں پڑی ہوئی تھیں سنائی دیتا ہے اب بھی مقدس آگ کے گرد وہ لحن جس میں کئی حیرتیں پڑی ہوئی تھیں مجھے نوازا تو پیشانی پر لکھا اس نے وہ نام جس ...

مزید پڑھیے

سورج نکلنے شام کے ڈھلنے میں آ رہوں

سورج نکلنے شام کے ڈھلنے میں آ رہوں میں کیا عجب رتوں کے بدلنے میں آ رہوں بارش برسنے دھوپ کے کھلنے میں ہوں شریک شاخوں پہ کونپلوں کے نکلنے میں آ رہوں بہنے لگوں کناروں کو چھوتے ہوئے کہیں دریا کے لہر لہر مچلنے میں آ رہوں رک جاؤں ٹہنیوں کو بلا کر ذرا سی دیر پھر سے ہوا چلے تو میں چلنے ...

مزید پڑھیے

سکوت سے بھی سخن کو نکال لاتا ہوا

سکوت سے بھی سخن کو نکال لاتا ہوا یہ میں ہوں لوح شکستہ سے لفظ اٹھاتا ہوا مکاں کی تنگی و تاریکی بیشتر تھی سو میں دیے جلاتا ہوا آئینے بناتا ہوا ترے غیاب کو موجود میں بدلتے ہوئے کبھی میں خود کو ترے نام سے بلاتا ہوا چراغ جلتے ہی اک شہر منکشف ہم پر اور اس کے بعد وہی شہر ڈوب جاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 208 سے 6203