یہ نظم گریزاں ہے برہم زدنی پہلے
یہ نظم گریزاں ہے برہم زدنی پہلے زاہد کی کی طرف سے ہو توبہ شکنی پہلے پھولوں کے تبسم پر رونا ابھی آتا ہے دیکھی ہے ان آنکھوں نے ویراں چمنی پہلے یوں حسن کے چہرے پر آئی نہیں برنائی سو شام کے پردوں میں اک صبح چھنی پہلے معلوم کسے آخر اس خاک تمنا سے پروانہ اٹھا پہلے یا شمع بنی پہلے یہ ...