قومی زبان

یہ نظم گریزاں ہے برہم زدنی پہلے

یہ نظم گریزاں ہے برہم زدنی پہلے زاہد کی کی طرف سے ہو توبہ شکنی پہلے پھولوں کے تبسم پر رونا ابھی آتا ہے دیکھی ہے ان آنکھوں نے ویراں چمنی پہلے یوں حسن کے چہرے پر آئی نہیں برنائی سو شام کے پردوں میں اک صبح چھنی پہلے معلوم کسے آخر اس خاک تمنا سے پروانہ اٹھا پہلے یا شمع بنی پہلے یہ ...

مزید پڑھیے

کبھی جھوٹے سہارے غم میں راس آیا نہیں کرتے

کبھی جھوٹے سہارے غم میں راس آیا نہیں کرتے یہ بادل اڑ کے آتے ہیں مگر سایا نہیں کرتے یہی کانٹے تو کچھ خوددار ہیں صحن گلستاں میں کہ شبنم کے لیے دامن تو پھیلایا نہیں کرتے وہ لے لیں گوشۂ دامن میں اپنے یا فلک چن لے مری آنکھوں میں آنسو بار بار آیا نہیں کرتے سلیقہ جن کو ہوتا ہے غم ...

مزید پڑھیے

وقت کا قافلہ آتا ہے گزر جاتا ہے

وقت کا قافلہ آتا ہے گزر جاتا ہے آدمی اپنی ہی منزل میں ٹھہر جاتا ہے ایک بگڑی ہوئی قسمت پہ نہ ہنسنا اے دوست جانے کس وقت یہ انسان سنور جاتا ہے اس طرف عیش کی شمعیں تو ادھر دل کے چراغ دیکھنا یہ ہے کہ پروانہ کدھر جاتا ہے جام و صہبا کی مجھے فکر نہیں اے غم دل میرا پیمانہ تو اشکوں ہی سے ...

مزید پڑھیے

حسن جتنا ہی سادہ ہوتا ہے

حسن جتنا ہی سادہ ہوتا ہے گیسوئے‌ ناکشادہ ہوتا ہے جب کبھی شغل بادہ ہوتا ہے ایک عالم زیادہ ہوتا ہے جب وہ آتے ہیں زندگی کے قریب دل بھی دور اوفتادہ ہوتا ہے کیا خبر یہ فشردۂ انگور کتنا خوں ہو کے بادہ ہوتا ہے ان کا جلوہ نہ دور ہے نہ قریب نور ہے کم زیادہ ہوتا ہے حسن ہوتا ہے سادہ و ...

مزید پڑھیے

یوں ہی ٹھہر ٹھہر کے میں روتا چلا گیا

یوں ہی ٹھہر ٹھہر کے میں روتا چلا گیا موتی سنبھل سنبھل کے پروتا چلا گیا سانچوں میں حسن و نور کے ڈھلتا گیا شباب سر تا قدم شباب ہی ہوتا چلا گیا دشمن نے میری راہ میں کانٹے بچھا دئے اور میں اٹھا تو پھول ہی بوتا چلا گیا ہر نفس آرزو جو بعنوان ہوش تھا جیسے کوئی شراب سے دھوتا چلا ...

مزید پڑھیے

حسرت فیصلۂ درد جگر باقی ہے

حسرت فیصلۂ درد جگر باقی ہے اور ابھی سلسلۂ شام و سحر باقی ہے آئیے اور نظر سے بھی زمانہ دیکھیں زندگی ہے تو محبت کی نظر باقی ہے یا مری صبح میں رونق نہیں ہنگاموں کی یا مری شام بعنوان سحر باقی ہے نوجوانی گئی انفاس کی خوشبو نہ گئی پھول مرجھائے مگر باد سحر باقی ہے کوچ ہی کوچ ہے ہر ...

مزید پڑھیے

میں نے کبھی نظر نہ کی دلکشیٔ حیات پر

میں نے کبھی نظر نہ کی دلکشیٔ حیات پر میری تمام زندگی ان کی جمالیات پر مجھ کو حیات کے سوا چاہیئے اک غم حیات طبع غم آفریں مری رہ نہ سکی حیات پر وہ بھی غیور و شرمگیں دل بھی نزاکت آفریں چوٹ لگی ہے بات سے بات بڑھی ہے بات پر چاند ہے اور چاندنی حسن ہے اور حسن یار میرے ہزار دن نثار حسن ...

مزید پڑھیے

میں شاد ہوں تو زمانے میں شادمانی ہے

میں شاد ہوں تو زمانے میں شادمانی ہے شراب لاؤ کہ عالم تمام فانی ہے تمام عالم ہستی پہ حکمرانی ہے مرا جہان ہے جب تک مری جوانی ہے رگوں میں روح ہے اور خون میں روانی ہے نگاہ بادہ کش و چہرہ ارغوانی ہے تغیرات کے عالم میں زندگانی ہے شباب فانی نظر فانی حسن فانی ہے کہیں کہیں یہ محبت بھی ...

مزید پڑھیے

تغیرات کے عالم میں زندگانی ہے

تغیرات کے عالم میں زندگانی ہے شباب فانی نظر فانی حسن فانی ہے تمام عالم ہستی پہ حکمرانی ہے مرا جہان ہے جب تک مری جوانی ہے میں شاد ہوں تو زمانے میں شادمانی ہے شراب لاؤ کہ عالم تمام فانی ہے ترے خیال سے ہے مستئ نظر میری تری نگاہ سے میں نے شراب چھانی ہے ترا جمال فسانوں میں رنگ ...

مزید پڑھیے

دنیا سنور گئی ہے نظام دگر کے بعد

دنیا سنور گئی ہے نظام دگر کے بعد منزل پہ آ گئی ہے مشیت سفر کے بعد جیسے دل و نظر کے حجابات اٹھ گئے عالم خبر کا ہے نگہہ بے خبر کے بعد لالے میں رنگ ہے یہ کہاں یہ لہو ترنگ دنیا حسین ہے مرے ذوق نظر کے بعد بیتی ہوئی حیات محبت کا تذکرہ شام و سحر کی یاد ہے شام و سحر کے بعد میں آ گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2084 سے 6203