قومی زبان

مے خانے میں بڑھتی گئی تفریق نہاں اور

مے خانے میں بڑھتی گئی تفریق نہاں اور شیشے کا بیاں اور ہے ساقی کا بیاں اور انکار حقیقت بھی ہے اک سیر حقیقت ہوتا ہے یقیں اور تو بڑھتا ہے گماں اور رنگین فضاؤں میں ٹپکنے لگے آنسو آیا ہوں گلستان تو شبنم ہے چکاں اور اس درجہ بھی مایوس نہ دیکھی تھیں بہاریں دنیا میں ہیں اے دوست بہت ملک ...

مزید پڑھیے

اس دل کی مصیبت کون سنے جو غم کے مقابل آ جائے

اس دل کی مصیبت کون سنے جو غم کے مقابل آ جائے کس نے یہ کہا تھا تنکے سے وہ بجلی سے ٹکرا جائے دنیا کی بہاروں سے آنکھیں یوں پھیر لیں جانے والوں نے جیسے کوئی لمبے قصے کو پڑھتے پڑھتے اکتا جائے آغاز محبت ہے اور دل یوں ہاتھ سے نکلا جاتا ہے جیسے کسی الھڑ کا آنچل سرکا جائے ڈھلکا جائے گزرے ...

مزید پڑھیے

سحر اور شام سے کچھ یوں گزرتا جا رہا ہوں میں

سحر اور شام سے کچھ یوں گزرتا جا رہا ہوں میں کہ جیتا جا رہا ہوں اور مرتا جا رہا ہوں میں تمنائے محال دل کو جزو زندگی کر کے فسانہ زیست کا پیچیدہ کرتا جا رہا ہوں میں گل رنگیں یہ کہتا ہے کہ کھلنا حسن کھونا ہے مگر غنچہ سمجھتا ہے نکھرتا جا رہا ہوں میں مرا دل بھی عجب اک ساغر ذوق تمنا ...

مزید پڑھیے

نظر نظر کو ساقیٔ حیات کہتے آئے ہیں

نظر نظر کو ساقیٔ حیات کہتے آئے ہیں ان انکھڑیوں کو مے کدہ کی رات کہتے آئے ہیں بہ چاشنیٔ عہد نو جو بات کہتے آئے ہیں غم جہاں کو دل کی کائنات کہتے آئے ہیں فریب شوق کو تخیلات کہتے آئے ہیں بکھر گئے تو گیسوؤں کو رات کہتے آئے ہیں اسی کو زندگی کا ساز دے کے مطمئن ہوں میں وہ حسن جس کو حسن ...

مزید پڑھیے

کبھی سنتے ہیں عقل و ہوش کی اور کم بھی پیتے ہیں

کبھی سنتے ہیں عقل و ہوش کی اور کم بھی پیتے ہیں کبھی ساقی کی نظریں دیکھ کر پیہم بھی پیتے ہیں کہاں تم دوستوں کے سامنے بھی پی نہیں سکتے کہاں ہم رو بہ روئے ناصح برہم بھی پیتے ہیں خزاں کی فصل ہو روزے کے ایام مبارک ہوں طبیعت لہر پر آئی تو بے موسم بھی پیتے ہیں طواف کعبہ بے کیفیت مے ہو ...

مزید پڑھیے

حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے

حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے کوئی پردے میں ہوتا ہے تو چلمن جگمگاتی ہے وہ آئے بھی نہیں اور زندگی کی رات جاتی ہے سحر ہوتی ہے اور شمع تمنا جھلملاتی ہے ستاروں کا سہارا لے کے دھرتی بیٹھ جاتی ہے فلک کو دیکھ کر جس دم غریبی مسکراتی ہے میں دامن تھامتا ہوں اور ادا دامن چھڑاتی ...

مزید پڑھیے

یہ نیم باز تری انکھڑیوں کے میخانے

یہ نیم باز تری انکھڑیوں کے میخانے نظر ملے تو چھلک جائیں دل کے پیمانے کہیں کلی نے تبسم کا راز سمجھا ہے جو خود چمن ہے وہ اپنی بہار کیا جانے عجب نہیں جو محبت مجھے سمجھ نہ سکے وہ اجنبی ہوں جسے زیست بھی نہ پہچانے جو ہوش میں تھا تو کوئی نہ مے بجام آیا بہک گیا ہوں تو دنیا چلی ہے ...

مزید پڑھیے

یہ نیم باز تری انکھڑیوں کے میخانے

یہ نیم باز تری انکھڑیوں کے میخانے نظر ملے تو چھلک جائیں دل کے پیمانے شراب شوق سے بوجھل لبوں کے پیمانے تری نگاہ کو ایسے میں کون پہچانے کہیں کلی نے تبسم کا راز سمجھا ہے جو خود چمن ہے وہ اپنی بہار کیا جانے جو ہوش میں تھا تو کوئی نہ مے بجام آیا بہک گیا ہوں تو دنیا چلی ہے ...

مزید پڑھیے

آغوش رنگ و بو کے فسانے میں کچھ نہیں

آغوش رنگ و بو کے فسانے میں کچھ نہیں حسرت نکل گئی تو زمانے میں کچھ نہیں مایوسیوں میں حسن بھی روشن نہیں رہا دل بجھ گیا تو شمع جلانے میں کچھ نہیں ساقی کے کیف بادۂ پارینہ کی قسم سائنس کے جدید خزانے میں کچھ نہیں اک حسن نیم خواب کا عالم ہی اور ہے سوئی ہوئی ادا کو جگانے میں کچھ ...

مزید پڑھیے

گناہ گار تو رحمت کو منہ دکھا نہ سکا

گناہ گار تو رحمت کو منہ دکھا نہ سکا جو بے گناہ تھا وہ بھی نظر ملا نہ سکا طرب ہے شیوۂ رندان عاقبت نا شناس جو گل نہ تھا وہ گلستاں میں مسکرا نہ سکا بہت خفیف تھی کون و مکاں کی جلوہ گری مری نگاہ کا گوشہ بھی جگمگا نہ سکا حوالۂ نگۂ شرمگیں ہوئیں آخر وہ بجلیاں جو کہیں آسماں گرا نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2083 سے 6203