قومی زبان

شوق تھا شباب کا حسن پر نظر گئی

شوق تھا شباب کا حسن پر نظر گئی لٹ کے تب خبر ہوئی زندگی کدھر گئی زندگی قریب ہے کس قدر جمال سے جب کوئی سنور گیا زندگی سنور گئی ہے چمن کی آبرو قافلہ بہار کا بوئے گل کا ساتھ کیا بے وفا جدھر گئی دیکھتے ہی دیکھتے دن گئے بہار کے فصل گل بھی کس قدر تیز تر گزر گئی کیوں سکوں نصیب ہیں ہجر ...

مزید پڑھیے

چمن کو خار و خس آشیاں سے عار نہ ہو

چمن کو خار و خس آشیاں سے عار نہ ہو کہیں گزشتہ بہاروں کی یادگار نہ ہو چمک رہا ہے اندھیرے میں کاروبار حیات نظر نظر ہو تو جینا بھی سازگار نہ ہو یہ زلف و رخ یہ شب و روز یہ بہار و خزاں وہ سلسلہ ہے کہ قطع نظر بھی بار نہ ہو بہار کچھ جو ملی رنگ و بو سے بیگانہ وہ آ گئے کہ عناصر میں انتشار ...

مزید پڑھیے

زاہد اسیر گیسوئے جاناں نہ ہو سکا

زاہد اسیر گیسوئے جاناں نہ ہو سکا جو مطمئن ہوا وہ پریشاں نہ ہو سکا قید خودی میں آدمی انساں نہ ہو سکا ذرہ سمٹ گیا تو بیاباں نہ ہو سکا دامن تک آ کے چاک گریباں بھی رہ گیا اندازۂ بہار گلستاں نہ ہو سکا خون دل و جگر نہ تبسم بنا نہ اشک مضمون‌ آرزو کوئی عنواں نہ ہو سکا مرنا تو ایک بار ...

مزید پڑھیے

اپنی دنیا خود بہ فیض غم بنا سکتا ہوں میں

اپنی دنیا خود بہ فیض غم بنا سکتا ہوں میں اک جہان شوق نا محکم بنا سکتا ہوں میں میری آنکھوں میں ہیں آنسو تیرے دامن میں بہار گل بنا سکتا ہے تو شبنم بنا سکتا ہوں میں دل کے باجے میں نہیں معلوم کتنے تار ہیں حسن کو اک تار کا محرم بنا سکتا ہوں میں پھر حقیقت کی اسی جنت کی جانب لوٹ ...

مزید پڑھیے

لمحے الجھن کے قریب آ پہنچے

لمحے الجھن کے قریب آ پہنچے سائے رہزن کے قریب آ پہنچے آنسوؤں سے ہی بجھا لے ناداں شعلے دامن کے قریب آ پہنچے کون مجرم کو بچا سکتا ہے ہاتھ دامن کے قریب آ پہنچے شیشہ و مے جو کبھی رقص میں تھے سنگ و آہن کے قریب آ پہنچے اب تو اپنوں پہ بھروسہ نہ رہا دوست دشمن کے قریب آ پہنچے شور سن کر ...

مزید پڑھیے

ہزار شمع فروزاں ہو روشنی کے لیے

ہزار شمع فروزاں ہو روشنی کے لیے نظر نہیں تو اندھیرا ہے آدمی کے لیے تعلقات کی دنیا بھی آدمی کے لیے اک اجنبی سا تصور ہے اجنبی کے لیے چمن چمن ہے محبت جہاں جہاں سے جمال یہ اہتمام ہے اک دل کی زندگی کے لیے شب نشاط مبارک تجھے یہ ماہ و نجوم سحر بہت ہے مری کم ستارگی کے لیے نگاہ دوست ...

مزید پڑھیے

چلمن سے جو دامن کے کنارے نکل آئے

چلمن سے جو دامن کے کنارے نکل آئے وارفتہ نگاہی کے سہارے نکل آئے پیمانہ بکف ساتھ تمہارے نکل آئے ہنگامۂ ہستی سے کنارے نکل آئے اک سادگی حسن کی معصوم ادائیں رنگین مضامیں کے اشارے نکل آئے دولت کا فلک توڑ کے عالم کی جبیں پر مزدور کی قسمت کے ستارے نکل آئے سب بھول گئے پیچ و خم ہوش میں ...

مزید پڑھیے

ہر ذرۂ خاکی کو کرن ہم نے بنایا

ہر ذرۂ خاکی کو کرن ہم نے بنایا مٹی کو لہو دے کے چمن ہم نے بنایا تھا حسن مگر اک نگۂ نیم رضا سے گیسو بہ کمر لالہ شکن ہم نے بنایا صد شکر کہ ہے ان کا تبسم بھی ہمیں پر کلیوں میں جنہیں غنچہ دہن ہم نے بنایا اغیار کو گل پیرہنی ہم نے عطا کی اپنے لیے پھولوں کا کفن ہم نے بنایا ہر جذبۂ ...

مزید پڑھیے

پنکھڑی کوئی گلستاں سے صبا کیا لائی

پنکھڑی کوئی گلستاں سے صبا کیا لائی دور تک نکہت گل خاک اڑاتی آئی اف وہ بیگانہ نگاہوں کی کرم فرمائی فطرت عشق بہ انداز جنوں تھرائی تازہ تازہ وہ شکست سخن رعنائی چپ ہوئے وہ تو تبسم کی جھلک سی آئی آخر شب وہ ستاروں کی سرکتی ہوئی چھاؤں میں وہیں بیٹھ گیا رات جہاں لہرائی جاگی جاگی ...

مزید پڑھیے

اک دامن رنگیں لہرایا مستی سی فضا میں چھا ہی گئی

اک دامن رنگیں لہرایا مستی سی فضا میں چھا ہی گئی جب سیر چمن کو وہ نکلے پھولوں کی جبیں شرما ہی گئی یہ صحن چمن یہ باغ جہاں خالی تو نہ تھا نکہت سے مگر کچھ دامن گل سے دور تھا میں کچھ باد صبا کترا ہی گئی احساس الم اور پاس حیا اس وقت کا آنسو صہبا ہے اس چشم حسیں کو کیا کہئے جب پی نہ سکی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2082 سے 6203