قومی زبان

ویران سراۓ کا دیا ہے

ویران سراۓ کا دیا ہے جو کون و مکاں میں جل رہا ہے یہ کیسی بچھڑنے کی سزا ہے آئینے میں چہرہ رکھ گیا ہے خورشید مثال شخص کل شام مٹی کے سپرد کر دیا ہے تم مر گئے حوصلہ تمہارا زندہ ہوں میں یہ میرا حوصلہ ہے اندر بھی اس زمیں کے روشنی ہو مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے میں کون سا خواب دیکھتا ...

مزید پڑھیے

ایک میں بھی ہوں کلہ داروں کے بیچ

ایک میں بھی ہوں کلہ داروں کے بیچ میرؔ صاحب کے پرستاروں کے بیچ روشنی آدھی ادھر آدھی ادھر اک دیا رکھا ہے دیواروں کے بیچ میں اکیلی آنکھ تھا کیا دیکھتا آئینہ خانہ تھے نظاروں کے بیچ ہے یقیں مجھ کو کہ سیارے پہ ہوں آدمی رہتے ہیں سیاروں کے بیچ کھا گیا انساں کو آشوب معاش آ گئے ہیں شہر ...

مزید پڑھیے

صاحب مہر و وفا ارض و سما کیوں چپ ہے

صاحب مہر و وفا ارض و سما کیوں چپ ہے ہم پہ تو وقت کے پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہے بے سبب غم میں سلگنا مری عادت ہی سہی ساز خاموش ہے کیوں شعلہ نوا کیوں چپ ہے پھول تو سہم گئے دست کرم سے دم صبح گنگناتی ہوئی آوارہ صبا کیوں چپ ہے ختم ہوگا نہ کبھی سلسلۂ اہل وفا سوچ اے داور مقتل یہ فضا کیوں چپ ...

مزید پڑھیے

عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں

عجیب تھی وہ عجب طرح چاہتا تھا میں وہ بات کرتی تھی اور خواب دیکھتا تھا میں وصال کا ہو کہ اس کے فراق کا موسم وہ لذتیں تھیں کہ اندر سے ٹوٹتا تھا میں چڑھا ہوا تھا وہ نشہ کہ کم نہ ہوتا تھا ہزار بار ابھرتا تھا ڈوبتا تھا میں بدن کا کھیل تھیں اس کی محبتیں لیکن جو بھید جسم کے تھے جاں سے ...

مزید پڑھیے

گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میں

گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میں سمجھو کہ اب ہوں اور دوبارہ نہیں ہوں میں اک طبع رنگ رنگ تھی سو نذر گل ہوئی اب یہ کہ اپنے ساتھ بھی رہتا نہیں ہوں میں تم نے بھی میرے ساتھ اٹھائے ہیں دکھ بہت خوش ہوں کہ راہ شوق میں تنہا نہیں ہوں میں پیچھے نہ بھاگ وقت کی اے نا شناس دھوپ سایوں کے ...

مزید پڑھیے

پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ

پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ محفل وقت تری روح رواں ہیں ہم لوگ دوش پر بار‌‌ شب‌ غم لئے گل کی مانند کون سمجھے کہ محبت کی زباں ہیں ہم لوگ خوب پایا ہے صلہ تیری پرستاری کا دیکھ اے صبح طرب آج کہاں ہیں ہم لوگ اک متاع دل و جاں پاس تھی سو ہار چکے ہائے یہ وقت کہ اب خود پہ گراں ہیں ...

مزید پڑھیے

دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت

دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت جو ہو گئے ہو فسانہ تو یاد آؤ مت خیال و خواب میں پرچھائیاں سی ناچتی ہیں اب اس طرح تو مری روح میں سماؤ مت زمیں کے لوگ تو کیا دو دلوں کی چاہت میں خدا بھی ہو تو اسے درمیان لاؤ مت تمہارا سر نہیں طفلان رہ گزر کے لیے دیار سنگ میں گھر سے نکل کے جاؤ ...

مزید پڑھیے

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص

بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اک شخص ہوا چراغ تو گھر ہی جلا گیا اک شخص تمام رنگ مرے اور سارے خواب مرے فسانہ تھے کہ فسانہ بنا گیا اک شخص میں کس ہوا میں اڑوں کس فضا میں لہراؤں دکھوں کے جال ہر اک سو بچھا گیا اک شخص پلٹ سکوں ہی نہ آگے ہی بڑھ سکوں جس پر مجھے یہ کون سے رستے لگا گیا اک ...

مزید پڑھیے

شکستہ حال سا بے آسرا سا لگتا ہے

شکستہ حال سا بے آسرا سا لگتا ہے یہ شہر دل سے زیادہ دکھا سا لگتا ہے ہر اک کے ساتھ کوئی واقعہ سا لگتا ہے جسے بھی دیکھو وہ کھویا ہوا سا لگتا ہے زمین ہے سو وہ اپنی گردشوں میں کہیں جو چاند ہے سو وہ ٹوٹا ہوا سا لگتا ہے میرے وطن پہ اترتے ہوئے اندھیروں کو جو تم کہو مجھے قہر خدا سا لگتا ...

مزید پڑھیے

میں جس میں کھو گیا ہوں مرا خواب ہی تو ہے

میں جس میں کھو گیا ہوں مرا خواب ہی تو ہے یک دو نفس نمود سہی زندگی تو ہے جلتی ہے کتنی دیر ہواؤں میں میرے ساتھ اک شمع پھر مرے لیے روشن ہوئی تو ہے جس میں بھی ڈھل گئی اسے مہتاب کر گئی میرے لہو میں ایسی بھی اک روشنی تو ہے پرچھائیوں میں ڈوبتا دیکھوں بھی مہر‌ عمر اور پھر بچا نہ پاؤں یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2076 سے 6203