ویران سراۓ کا دیا ہے
ویران سراۓ کا دیا ہے جو کون و مکاں میں جل رہا ہے یہ کیسی بچھڑنے کی سزا ہے آئینے میں چہرہ رکھ گیا ہے خورشید مثال شخص کل شام مٹی کے سپرد کر دیا ہے تم مر گئے حوصلہ تمہارا زندہ ہوں میں یہ میرا حوصلہ ہے اندر بھی اس زمیں کے روشنی ہو مٹی میں چراغ رکھ دیا ہے میں کون سا خواب دیکھتا ...