تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپ
تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپ دونوں بیچ کھڑی ہے دنیا آئینۂ الفاظ میں چپ اول اول بول رہے تھے خواب بھری حیرانی میں پھر ہم دونوں چلے گئے پاتال سے گہرے راز میں چپ خواب سرائے ذات میں زندہ ایک تو صورت ایسی ہے جیسے کوئی دیوی بیٹھی ہو حجرۂ راز و نیاز میں چپ اب کوئی چھو کے ...