قومی زبان

تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپ

تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپ دونوں بیچ کھڑی ہے دنیا آئینۂ الفاظ میں چپ اول اول بول رہے تھے خواب بھری حیرانی میں پھر ہم دونوں چلے گئے پاتال سے گہرے راز میں چپ خواب سرائے ذات میں زندہ ایک تو صورت ایسی ہے جیسے کوئی دیوی بیٹھی ہو حجرۂ راز و نیاز میں چپ اب کوئی چھو کے ...

مزید پڑھیے

وہ رات بے پناہ تھی اور میں غریب تھا

وہ رات بے پناہ تھی اور میں غریب تھا وہ جس نے یہ چراغ جلایا عجیب تھا وہ روشنی کہ آنکھ اٹھائی نہیں گئی کل مجھ سے میرا چاند بہت ہی قریب تھا دیکھا مجھے تو طبع رواں ہو گئی مری وہ مسکرا دیا تو میں شاعر ادیب تھا رکھتا نہ کیوں میں روح و بدن اس کے سامنے وہ یوں بھی تھا طبیب وہ یوں بھی طبیب ...

مزید پڑھیے

وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہے

وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہے ایک دنیا ہے اکیلی تو ہی تنہا کیا ہے داد دے ظرف سماعت تو کرم ہے ورنہ تشنگی ہے مری آواز کی نغمہ کیا ہے بولتا ہے کوئی ہر آن لہو میں میرے پر دکھائی نہیں دیتا یہ تماشا کیا ہے جس تمنا میں گزرتی ہے جوانی میری میں نے اب تک نہیں جانا وہ تمنا کیا ...

مزید پڑھیے

ہنسو تو رنگ ہوں چہرے کا رؤو تو چشم نم میں ہوں

ہنسو تو رنگ ہوں چہرے کا رؤو تو چشم نم میں ہوں تم مجھ کو محسوس کرو تو ہر موسم میں ہوں چاہا تھا جسے وہ مل بھی گیا پر خواب بھرے ہیں آنکھوں میں اے میرے لہو کی لہر بتا اب کون سے میں عالم میں ہوں لوگ محبت کرنے والے دیکھیں گے تصویر اپنی ایک شعاع آوارہ ہوں آئینۂ شبنم میں ہوں اس لمحے تو ...

مزید پڑھیے

کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا

کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا کس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیا آنکھوں میں روشنی بھی ہے ویرانیاں بھی ہیں اک چاند ساتھ ساتھ ہے اک چاند گہہ گیا تم ہم سفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز مجھ میں تو زندگی کا کوئی حوصلہ نہ تھا تم ہی کہو کہ ہو بھی سکے گا مرا علاج اگلی محبتوں کے مرے زخم ...

مزید پڑھیے

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے

ہجر کرتے یا کوئی وصل گزارا کرتے ہم بہرحال بسر خواب تمہارا کرتے ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارا کرتے اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمہاری خاطر اتنی دور آ گئے دنیا سے کنارا کرتے محو آرائش رخ ہے وہ قیامت سر بام آنکھ اگر آئینہ ہوتی تو نظارا کرتے ایک ...

مزید پڑھیے

باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہے

باہر کا دھن آتا جاتا اصل خزانہ گھر میں ہے ہر دھوپ میں جو مجھے سایا دے وہ سچا سایا گھر میں ہے پاتال کے دکھ وہ کیا جانیں جو سطح پہ ہیں ملنے والے ہیں ایک حوالہ دوست مرے اور ایک حوالہ گھر میں ہے مری عمر کے اک اک لمحے کو میں نے قید کیا ہے لفظوں میں جو ہارا ہوں یا جیتا ہوں وہ سب سرمایہ ...

مزید پڑھیے

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں کوئی غنچہ ہو کہ گل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطۂ زمیں پر وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں وہی طائروں کے جھرمٹ جو ہوا میں جھولتے تھے وہ ...

مزید پڑھیے

اب تو ہو کسی رنگ میں ظاہر تو مجھے کیا

اب تو ہو کسی رنگ میں ظاہر تو مجھے کیا ٹھہرے ترے گھر کوئی مسافر تو مجھے کیا ویرانۂ جاں کی جو فضا تھی سو رہے گی چہکے کسی گلشن میں وہ طائر تو مجھے کیا وہ شمع مرے گھر میں تو بے نور ہی ٹھہری بازار میں وہ جنس ہو نادر تو مجھے کیا وہ رنگ فشاں آنکھ وہ تصویر نما ہاتھ دکھلائیں نئے روز مناظر ...

مزید پڑھیے

اب تو فراق صبح میں بجھنے لگی حیات

اب تو فراق صبح میں بجھنے لگی حیات بار الٰہ کتنے پہر رہ گئی ہے رات ہر تیرگی میں تو نے اتاری ہے روشنی اب خود اتر کے آ کہ سیہ تر ہے کائنات کچھ آئینے سے رکھے ہوئے ہیں سر وجود اور ان میں اپنا جشن مناتی ہے میری ذات بولے نہیں وہ حرف جو ایمان میں نہ تھے لکھی نہیں وہ بات جو اپنی نہیں تھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2077 سے 6203