قومی زبان

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے تو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیے انہیں غرور کہ رکھتے ہیں طاقت و کثرت ہمیں یہ ناز بہت ہے خدا ہمارے لیے تمہارے نام پہ جس آگ میں جلائے گئے وہ آگ پھول ہے وہ کیمیا ہمارے لیے بس ایک لو میں اسی لو کے گرد گھومتے ہیں جلا رکھا ہے جو اس نے دیا ہمارے لیے وہ جس ...

مزید پڑھیے

نیند آنکھوں سے اڑی پھول سے خوشبو کی طرح

نیند آنکھوں سے اڑی پھول سے خوشبو کی طرح جی بہل جائے گا شب سے ترے گیسو کی طرح دوستو جشن مناؤ کہ بہار آئی ہے پھول گرتے ہیں ہر اک شاخ سے آنسو کی طرح میری آشفتگیٔ شوق میں اک حسن بھی ہے تیرے عارض پہ مچلتے ہوئے گیسو کی طرح اب ترے ہجر میں لذت نہ ترے وصل میں لطف ان دنوں زیست ہے ٹھہرے ...

مزید پڑھیے

وحشت اسی سے پھر بھی وہی یار دیکھنا

وحشت اسی سے پھر بھی وہی یار دیکھنا پاگل کو جیسے چاند کا دیدار دیکھنا اس ہجرتی کو کام ہوا ہے کہ رات دن بس وہ چراغ اور وہ دیوار دیکھنا پاؤں میں گھومتی ہے زمیں آسماں تلک اس طفل شیر خوار کی رفتار دیکھنا یارب کوئی ستارۂ امید پھر طلوع کیا ہو گئے زمین کے آثار دیکھنا لگتا ہے جیسے ...

مزید پڑھیے

شکست جاں سے سوا بھی ہے کار فن کیا کیا

شکست جاں سے سوا بھی ہے کار فن کیا کیا عذاب کھینچ رہا ہے مرا بدن کیا کیا نہ کوئی ہجر کا دن ہے نہ کوئی وصل کی رات مگر وہ شخص کہ ہے جان انجمن کیا کیا ادا ہوئی ہے کئی بار ترک عشق کی رسم مگر ہے سر پہ وہی قرض جان و تن کیا کیا نگاہ بوالہوساں ہائے کیا قیامت ہے بدل رہے ہیں گل و لالہ پیرہن ...

مزید پڑھیے

مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے

مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے میں چپ رہوں بھی تو نغمہ مرا سنائی دے گدائے کوئے سخن اور تجھ سے کیا مانگے یہی کہ مملکت شعر کی خدائی دے نگاہ دہر میں اہل کمال ہم بھی ہوں جو لکھ رہے ہیں وہ دنیا اگر دکھائی دے چھلک نہ جاؤں کہیں میں وجود سے اپنے ہنر دیا ہے تو پھر ظرف کبریائی دے مجھے ...

مزید پڑھیے

دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا

دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا تم بھی تو بے اماں ہوئے ہم کو ستا لیا تو کیا آپ کے گھر میں ہر طرف منظر ماہ و آفتاب ایک چراغ شام اگر میں نے جلا لیا تو کیا باغ کا باغ آپ کی دسترس ہوس میں ہے ایک غریب نے اگر پھول اٹھا لیا تو کیا لطف یہ ہے کہ آدمی عام کرے بہار کو موج ہوائے ...

مزید پڑھیے

جو اس نے کیا اسے صلہ دے

جو اس نے کیا اسے صلہ دے مولا مجھے صبر کی جزا دے یا میرے دیئے کی لو بڑھا دے یا رات کو صبح سے ملا دے سچ ہوں تو مجھے امر بنا دے جھوٹا ہوں تو نقش سب مٹا دے یہ قوم عجیب ہو گئی ہے اس قوم کو خوئے انبیا دے اترے گا نہ کوئی آسماں سے اک آس میں دل مگر صدا دے بچوں کی طرح یہ لفظ میرے معبود ...

مزید پڑھیے

کمال آدمی کی انتہا ہے

کمال آدمی کی انتہا ہے وہ آئندہ میں بھی سب سے بڑا ہے کوئی رفتار ہوگی روشنی کی مگر وہ اس سے بھی آگے گیا ہے جہاں بیٹھے صدائے غیب آئی یہ سایہ بھی اسی دیوار کا ہے مجسم ہو گئے سب خواب میرے مجھے میرا خزانہ مل گیا ہے حقیقت ایک ہے لذت میں لیکن حکایت سلسلہ در سلسلہ ہے یوں ہی حیراں نہیں ...

مزید پڑھیے

نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئے

نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئے چراغ خود کو نہیں دیکھتا ہے جلتے ہوئے وہ حسن اس کا بیاں کیا کرے جو دیکھتا ہو ہر اک ادا کے کئی قد نئے نکلتے ہوئے وہ موج مے کدۂ رنگ ہے بدن اس کا کہ ہیں تلاطم مئے سے سبو اچھلتے ہوئے تو ذرہ ذرہ اس عالم کا ہے زلیخا صفت چلے جو دشت بلا میں کوئی سنبھلتے ...

مزید پڑھیے

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں

خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں کاش تجھ کو بھی اک جھلک دیکھوں چاندنی کا سماں تھا اور ہم تم اب ستارے پلک پلک دیکھوں جانے تو کس کا ہم سفر ہوگا میں تجھے اپنی جاں تلک دیکھوں بند کیوں ذات میں رہوں اپنی موج بن جاؤں اور چھلک دیکھوں صبح میں دیر ہے تو پھر اک بار شب کے رخسار سے ڈھلک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2075 سے 6203