قومی زبان

کیا سنے کوئی زبانی میری

کیا سنے کوئی زبانی میری اور پھر وہ بھی کہانی میری شہر صحرا کی طرح لگتا ہے رائیگاں نقل مکانی میری ایک چہرہ مرے چہرے سے الگ ایک تصویر پرانی میری میں کہ دریا تھا جو اب ساکت ہوں کھو گئی مجھ میں روانی میری رات شبنم میں بہت بھیگا تھا دیکھ اب شعلہ فشانی میری

مزید پڑھیے

ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے

ہمیں کچھ اور جینا ہے تو دل کو شاد رکھیں گے بہت کچھ بھول جائیں گے بہت کچھ یاد رکھیں گے ابھی کچھ اور کرتب دیکھنے بھی ہیں دکھانے بھی تماشہ گاہ عالم ہم تجھے آباد رکھیں گے اگر گھر کا خیال آیا تو رستہ بھول جائیں گے سفر میں دشت کو جاتے ہوئے ہم یاد رکھیں گے مقابل آئیں گے ہر بار تازہ ...

مزید پڑھیے

خشک دریاؤں کو پانی دے خدا

خشک دریاؤں کو پانی دے خدا بادبانوں کو روانی دے خدا بے سماعت کر دے سارے شہر کو یا مجھے پھر بے زبانی دے خدا کب تلک بے معجزہ ہو کر جیوں کوئی تو اپنی نشانی دے خدا چھوٹ جاؤں وسعتوں کی قید سے وحشتوں کو لا مکانی دے خدا سیکڑوں ہم زاد ہیں میرے یہاں مجھ کو لیکن میرا ثانی دے خدا

مزید پڑھیے

میں خواب اپنے سارے نیلام کر رہا ہوں

میں خواب اپنے سارے نیلام کر رہا ہوں اور یہ بھی جان لو کہ بے دام کر رہا ہوں اس سے غرض نہیں ہے بولی لگے گی کیسے جو کام کرنا ہے بس وہ کام کر رہا ہوں وہ سب کہانیاں جو پوری نہیں ہوئی تھیں تحریر آج ان کا انجام کر رہا ہوں تھک ہار سا گیا تھا میں راہ چلتے چلتے سایہ جو مل گیا ہے آرام کر رہا ...

مزید پڑھیے

دیار خواب سے آگے سفر کرنے کا دن ہے

دیار خواب سے آگے سفر کرنے کا دن ہے تو کیا یہ قصۂ جاں مختصر کرنے کا دن ہے بلاوا آ گیا ہے پھر مجھے صحرا نوردی کا یہی تو زندگی کو ہم سفر کرنے کا دن ہے مجھے رقص جنوں کرنا پڑے گا شام ہونے تک مدارات ہجوم دیدہ تر کرنے کا دن ہے خزاں کی بدحواسی اس کے چہرے سے ہے ظاہر جہاں کو موسم گل کی خبر ...

مزید پڑھیے

تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میں

تری نسبت سے اپنی ذات کا ادراک کرنے میں بہت عرصہ لگا ہے پیرہن کو چاک کرنے میں تری بستی کے باشندے بہت آسودہ خاطر ہیں تکلف ہو رہا ہے درد کو پوشاک کرنے میں ہم اپنے جسم کا سونا سفر پر لے کے نکلے ہیں مگر ڈرتے ہیں اس کو راستوں کی خاک کرنے میں فقط اک دیدۂ تر ہے کہ جو سیراب کرتا ہے سمندر ...

مزید پڑھیے

اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کا

اس کے پرتو سے ہوا ہے زعفرانی رنگ کا آئینہ تو آج بھی ہے کہکشانی رنگ کا ہجر کے بادل چھٹے تو وصل کی تقویم میں دل ہویدا ہو رہا ہے گلستانی رنگ کا پیرہن اس کا ہے ایسا یا جھلکتا ہے بدن اک پری وش رقص میں ہے ارغوانی رنگ کا آج کی شب خاص ہوگی جب سناؤں گا اسے ایک قصہ اپنا ذاتی داستانی رنگ ...

مزید پڑھیے

رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے

رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے دیکھو کیسا پھول کھلا ہے میرے اس کے بیچ بدن ہے اور بدن میں دل دریا ہے کس کو بتاؤں کیسے بتاؤں سناٹے میں شور چھپا ہے اس بستی کے بعد ہے صحرا اس کے بعد نہ جانے کیا ہے گھر سے باہر نکلو ذرا دیکھو کتنی تیز ہوا ہے

مزید پڑھیے

حق اور گھر

کبھی ان چڑیوں سے بھی پوچھنا ہے تمہارا گھر کہاں ہے یہ گھر ہے کیا یہ گھر ہے کب ہوا کرتا ہے کس کا یے رٹائر ہو چکا ہوں میں جو کہتے ہیں وو کالج تھا غلط ہیں وو ہے کب پہچان رشتوں کی ہے کب پہچان جگہوں کی وو میرا گھر تھا میری جان وہی ہر روز کا جانا قطاریں کمروں کی ہوتیں بڑے کچھ اور کچھ ...

مزید پڑھیے

آزادی کا حق

یہ سچ ہے اب آزاد ہیں ہم مٹی سے سگندھ یہ آتی ہے اے جان سے پیارے ہم وطنو ابھی کام بہت کچھ باقی ہے آزادی پہلی منزل تھی تھا حوصلہ سب نے ساتھ دیا کانٹوں سے بھرے ان رستوں کو زخمی پیروں سے پار کیا آگے دیکھا محبوب نظر بیٹھا وو ہمارا ساقی ہے اے جان سے پیارے ہم وطنو ابھی کام بہت کچھ باقی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2062 سے 6203