قومی زبان

میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گا

میں دعا مانگوں تو دل مجھ سے خفا ہو جائے گا سر جھکا تو سر کو سجدوں کا نشہ ہو جائے گا خواہشوں کے ڈوبتے سورج نے بتلایا نہ تھا میرا سایہ میرے قد سے بھی بڑا ہو جائے گا یا تو مجھ سے چھین لو یہ بت تراشی کا ہنر ورنہ میں جو بت تراشوں تو خدا ہو جائے گا گفتگو میں ضبط لازم ہے ذرا سی چوک پر لب ...

مزید پڑھیے

معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھ

معانی لفظوں کے پیری میں کچھ شباب میں کچھ اور اس کے بارے میں لکھا نہیں کتاب میں کچھ پہنچ کے دیکھا تو مانگے کی روشنی کے سوا فلک کے تاروں میں کچھ ہے نہ ماہتاب میں کچھ ہر ایک گھونٹ میں یکساں نہیں تھی تلخیٔ مے کہ گھول دیتے ہیں حالات بھی شراب میں کچھ کئی گناہوں کا اندراج ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بس

داور حشر ذرا اور بڑھے بات کہ بس مجھ سے کچھ اور بھی پوچھیں گے سوالات کہ بس جس کو سن کر کبھی خوش ہوتے ہو ناراض کبھی آپ فرمائیں کہ دہراؤں وہی بات کہ بس کیا میں اب چھوڑ دوں یا رب یہیں امید کا ساتھ کیا ابھی اور ٹھہر سکتی ہے یہ رات کہ بس زندگی کیا اسی الجھن میں گزر جائے گی کیا ابھی اور ...

مزید پڑھیے

خوش ہوں کب دل کی داستاں کہہ کر

خوش ہوں کب دل کی داستاں کہہ کر کیا ملے گا یہاں وہاں کہہ کر معنی کیا دے دیئے ہیں لفظوں کو داستاں گو نے داستاں کہہ کر وسعت بے کراں کو ہم ہی نے سر چڑھایا ہے آسماں کہہ کر ہم نے سچ مچ گماں بنا ڈالا ہر یقیں کو گماں گماں کہہ کر میں نے رتبہ دیا ہے شعروں کو دل حساس کا دھواں کہہ کر

مزید پڑھیے

اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیں

اسے خلاؤں کی وسعتوں کا تجربہ ہی نہیں وہ میرے ساتھ کبھی عرش تک گیا ہی نہیں میں اس کو اور ہی عالم میں لے گیا ہوتا زمانہ انگلی پکڑ کر مری چلا ہی نہیں ہر ایک چہرے پہ کتنی عبارتیں ہیں رقم مری جبیں پہ تو کچھ وقت نے لکھا ہی نہیں بلا کشان محبت میں ہے شمار مرا یہ انکشاف تو مجھ پر کبھی ہوا ...

مزید پڑھیے

ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجود

ہر ایک در پہ سر کو ٹپکنے کے باوجود کعبہ پہنچ گیا ہوں بھٹکنے کے باوجود کیا کیجیئے کہ گرد طلب کی جمی رہی دامان دل کو روز جھٹکنے کے باوجود شاید کھلی ہے آپ کے آنے سے چاندنی دھندلی سی لگ رہی تھی چھٹکنے کے باوجود کیسا ہے یہ بہار کا موسم کہ باغ میں ہنستی نہیں ہیں کلیاں چٹکنے کے ...

مزید پڑھیے

پت جھڑ

یہ رقص آفرینش ہے کہ شور مرگ ہے اے دل ہوا کچھ اس طرح پیڑوں سے مل مل کر گزرتی ہے کہ جیسے آخری بوسہ ہو یہ پہلی محبت بھی ہر اک سو مرگ آرا ہے عدم انگیزیٔ فطرت مگر شاید نگاہوں میں ابھی کچھ ذوق باقی ہے کہ میں اس کرب میں بھی کیف پاتا ہوں جہاں تک دیکھ پاتا ہوں زمیں پر تابش زر ہے فضائے نیلگوں ...

مزید پڑھیے

حال دل وہ پوچھنے آنے لگے

حال دل وہ پوچھنے آنے لگے مرنے والے زندگی پانے لگے کوئی بتلائے ملے کیسے قرار ہر طرف جب تم نظر آنے لگے چھیڑا کیا افسانہ تم نے پیار کا ہم بھی قصے کل کے دہرانے لگے حسن کا چاہا رقیبوں سے بیاں بولتے کیا خاک ہکلانے لگے ہے مرض آنکھوں کو لاحق جانیے جب برائی بس نظر آنے لگے نیند پر بھی ...

مزید پڑھیے

حساب دوستاں در دل نہیں اب

حساب دوستاں در دل نہیں اب پلٹنا باتوں سے مشکل نہیں اب کیا کرتے تھے جو جاں بھی نچھاور بھروسے کے بھی وہ قابل نہیں اب سمندر کی حدیں بڑھنے لگی ہیں نظر آتا کہیں ساحل نہیں اب رہے تھے جو شریک غم شب و روز خوشی دیکھی تو وہ شامل نہیں اب قہر ڈھاتا رہا جو حسن جاناں بہت افسوس وہ قاتل نہیں ...

مزید پڑھیے

پھر یہ کس نے مجھے جگایا ہے

پھر یہ کس نے مجھے جگایا ہے پھر سے خوابوں میں کون آیا ہے پھر سے نم یہ ہوئیں ہیں کیوں آنکھیں پھر تمہارا خیال آیا ہے پھر سے روٹھی ہے کیوں یہ شہنائی پھر سے ماتم کا ماہ آیا ہے آرزو ہو گئی ہے پھر بے باک پھر خبر گرم کوئی لایا ہے پھر نئے سال کی ہے تیاری جشن پر گولیوں کا سایا ہے پھر چمن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2063 سے 6203