تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کی
تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کی تو نہ تھا مجرم اکیلا ہاں خطا میں نے بھی کی ظلم دونوں نے کیا تھا دونوں تھے اس میں شریک ابتدا گر تو نے کی تو انتہا میں نے بھی کی صرف تو نے ہی نہیں کی جستجوئے چارہ گر درد جب حد سے بڑھا تو کچھ دوا میں نے بھی کی کس نے کیا مانگا فلک سے اور کس کو ...