قومی زبان

تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کی

تو بھی فریادی ہوا تھا التجا میں نے بھی کی تو نہ تھا مجرم اکیلا ہاں خطا میں نے بھی کی ظلم دونوں نے کیا تھا دونوں تھے اس میں شریک ابتدا گر تو نے کی تو انتہا میں نے بھی کی صرف تو نے ہی نہیں کی جستجوئے چارہ گر درد جب حد سے بڑھا تو کچھ دوا میں نے بھی کی کس نے کیا مانگا فلک سے اور کس کو ...

مزید پڑھیے

کیسے بدل رہے ہو بتاتا نہیں ہے کیا

کیسے بدل رہے ہو بتاتا نہیں ہے کیا آئینہ کوئی تم کو دکھاتا نہیں ہے کیا خلق خدا کا خوف تو دل میں نہیں رہا تم کو خدا کا خوف بھی آتا نہیں ہے کیا تاریک لگ رہی ہے ہے شب ماہتاب بھی کوئی یہاں چراغ جلاتا نہیں ہے کیا باشندگان شہر سبھی محو خواب ہیں ان کو طلسم شب بھی جگاتا نہیں ہے کیا

مزید پڑھیے

اگر اس شہر کی آب و ہوا تبدیل ہو جائے

اگر اس شہر کی آب و ہوا تبدیل ہو جائے تو پھر سب کچھ بجز نام خدا تبدیل ہو جائے مرے ہونے نے دنیا میں سبھی کچھ تو بدل ڈالا مجھے تو ہی بتا اب اور کیا تبدیل ہو جائے مجھے اس کی خبر تک بھی نہ ہونے پائے اور اک دن سفر کے درمیاں یوں راستہ تبدیل ہو جائے عجب خواہش ہے سر سے آسماں کا سایہ اٹھ ...

مزید پڑھیے

پہلے اک موج ہوا آتی ہے

پہلے اک موج ہوا آتی ہے اور پھر گھر کے گھٹا آتی ہے ایسا سناٹا کبھی ہوتا ہے دل دھڑکنے کی صدا آتی ہے ظلم کو دیکھ کے چپ رہتے ہیں ہم کو جینے سے حیا آتی ہے میں تو اب ہاتھ اٹھاتا ہی نہیں کیا تمہیں کوئی دعا آتی ہے کس لئے بند کئے بیٹھے ہو ان دریچوں سے ہوا آتی ہے

مزید پڑھیے

زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلا

زمین بارہا بدلی زماں نہیں بدلا اسی لیے تو یہ میرا جہاں نہیں بدلا نہ آرزو کوئی بدلی نہ میری محرومی بدل گیا ہے رویہ سماں نہیں بدلا اداسی آج بھی ویسی ہے جیسے پہلے تھی مکیں بدلتے رہے ہیں مکاں نہیں بدلا کبھی چراغ کبھی دل جلا کے دیکھ لیا ذرا سا رنگ تو بدلا دھواں نہیں بدلا پرندے اب ...

مزید پڑھیے

ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہے

ہوائے شام نہ جانے کہاں سے آتی ہے وہاں گلاب بہت ہیں جہاں سے آتی ہے یہ کس کا چہرہ دمکتا ہے میری آنکھوں میں یہ کس کی یاد مجھے کہکشاں سے آتی ہے اسی فلک سے اترتا ہے یہ اندھیرا بھی یہ روشنی بھی اسی آسماں سے آتی ہے یہ کس نے خاک اڑا دی ہے لالہ زاروں میں زمیں پہ ایسی تباہی کہاں سے آتی ...

مزید پڑھیے

ہونٹ کھلیں تو نکلے واہ

ہونٹ کھلیں تو نکلے واہ دنیا ایک تماشا گاہ رشک فلک ہے یہ بستی ہر چہرہ ہے مہر و ماہ اب کے ہاتھ وہ کھیلا ہے داؤں پر ہیں عز و جاہ رنگ بہت سے اور بھی ہیں ہر شے کب ہے سفید و سیاہ ساتھ کسی کو چلنا ہے سوجھ گئی ہے مجھ کو راہ اب کے بہار کی یورش ہے گل بوٹے ہیں اس کی سپاہ پاگل ہیں جو صحرا ...

مزید پڑھیے

یقیناً ہم کو گھر اچھے لگے تھے

یقیناً ہم کو گھر اچھے لگے تھے مکیں پہلے مگر اچھے لگے تھے اسے رخصت کیا اور اس سے پہلے یہی دیوار و در اچھے لگے تھے وہ دریا ہجر کا تھا تند دریا اداسی کے بھنور اچھے لگے تھے ہمارے ہاتھ میں پتھر کا آنا درختوں پر ثمر اچھے لگے تھے صعوبت تو سفر میں لازمی تھی مگر کچھ ہم سفر اچھے لگے ...

مزید پڑھیے

دنیا کو اس بار فسانہ کر دوں گا

دنیا کو اس بار فسانہ کر دوں گا خوابوں کو ہر سمت روانہ کر دوں گا ان رستوں سے میری پرانی نسبت ہے ساتھ چلو تو سفر سہانا کر دوں گا آ جائے گی دنیا اصلی حالت پر نافذ ہر دستور پرانا کر دوں گا وہ بھی کہاں کرتا ہے کوئی وعدہ پورا میں بھی اس سے کوئی بہانہ کر دوں گا شاید تم کو پتہ نہیں میں ...

مزید پڑھیے

نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہت

نقصان کیا بتائیں ہمارا کیا بہت اس کاروبار دل نے خسارا کیا بہت چاروں طرف تھے پھول شفق کے کھلے ہوئے جس شام آسماں کا نظارا کیا بہت اب کیا کروں کہ شور میں آواز دب گئی میں اس کو شہر جاں میں پکارا کیا بہت شبنم سے پیاس تو نے یقیناً بجھائی ہے میں نے بھی آنسوؤں پہ گزارا کیا بہت

مزید پڑھیے
صفحہ 2061 سے 6203