ترا خیال ہے اب چشم تر کا زاویہ دیکھ
ترا خیال ہے اب چشم تر کا زاویہ دیکھ ترے بغیر بھی زندہ ہوں میرا حوصلہ دیکھ ادھر ستم کی ہوا حوصلوں کے دیپ ادھر میان باطل و حق ہے بپا جو معرکہ دیکھ دلوں کے کھیل میں رسوائی بھی ہے غم بھی ہیں یہ پہلے سوچ لے پھر کر کوئی معاہدہ دیکھ دل و نگاہ میں رکھ صرف منزل مقصود کیا ہے عزم سفر کا تو ...