قومی زبان

آخری اب ختم ہونے کو ہے باب زندگی

آخری اب ختم ہونے کو ہے باب زندگی لو مکمل ہو گئی زیبیؔ کتاب زندگی لکھ رہی ہوں نام تیرے انتساب زندگی صرف تو ہے صرف تو ہے انتخاب زندگی راحتوں کے اور غموں کے سارے موسم تجھ سے ہیں تو جمال فکر و فن تو آفتاب زندگی اپنے اپنے ہر عمل کا گوشوارہ ساتھ ہے اب تمہارے روبرو ہوگا حساب ...

مزید پڑھیے

مجنوں بنا دیا تو مکمل بنا دیا

مجنوں بنا دیا تو مکمل بنا دیا مجھ کو تو میرے عشق نے پاگل بنا دیا دل نے کسی کی یاد کو چھوڑا نہیں کبھی دل نے کسی کی یاد کو آنچل بنا دیا اتنا میں تیری یاد میں برسی ہوں ٹوٹ کر آنکھوں کو جیسے میں نے تو بادل بنا دیا لوگوں کا اک ہجوم تھا جانے کدھر گیا بستی کو کس نے رات میں جنگل بنا ...

مزید پڑھیے

انسان کوئی بھی تو فرشتہ بنا نہیں

انسان کوئی بھی تو فرشتہ بنا نہیں سچ پوچھئے تو کوئی یہاں بے خطا نہیں وہ جس کو اپنے دل کا فسانہ سنا سکیں ہم کو تو کوئی شخص ابھی تک ملا نہیں چہرہ بدل بدل کے وہ آیا ہے بار بار وہ ہو کسی بھی چہرے میں مجھ سے چھپا نہیں کشتی کو تو نے چھوڑ دیا یوں ہی ناخدا کیا تو سمجھ رہا ہے ہمارا خدا ...

مزید پڑھیے

اس واسطے وہ قابل دستار نہیں تھا

اس واسطے وہ قابل دستار نہیں تھا وہ شخص کسی شہر کا سردار نہیں تھا منظر یہ مری آنکھ نے دیکھے ہیں لگاتار دیوار تو تھی سایۂ دیوار نہیں تھا پتھر تھا محبت کو نہیں جان سکا وہ وہ شخص تو ہرگز مرا دل دار نہیں تھا جانا ہے ہمیں لوٹ کے ہرگز نہیں رکنا کیا ہم نے بتایا تمہیں سو بار نہیں ...

مزید پڑھیے

اجڑے مکاں کا کھا گئی جلتا ہوا دیا

اجڑے مکاں کا کھا گئی جلتا ہوا دیا ملنا پڑے گا تجھ سے مجھے سر پھری ہوا اپنے تعلقات تو کب کے ہوئے تمام کہنے کو رہ گیا ہے بتاؤ اب اور کیا تو چاہتا یہی تھا کہ ملنے نہ پائیں ہم آخر کو ہو گئی ہے تری سرخ رو دعا پھر کیوں نہ آج سے ہی رہیں دور دور ہم آخر کبھی تو ہونا پڑے گا ہمیں جدا محفل ...

مزید پڑھیے

بتاؤ کس طرح پہنچے ہو شب کو تم ٹھکانے پر

بتاؤ کس طرح پہنچے ہو شب کو تم ٹھکانے پر مجھے تو کچھ بھروسا بھی نہیں ہے اس زمانے پر بتاؤ کون تھا کس نے جلا ڈالا تمہارا گھر پرندہ بھی نظر رکھتا ہے اپنے آشیانے پر نہ جانے کس طرح ہوں گے یہاں حالات بہتر اب یہاں تو سانپ بیٹھے ہیں جدھر دیکھو خزانے پر مجھے معلوم ہے مجھ کو دیا ہے زہر تو ...

مزید پڑھیے

خوف آتا ہی نہیں اب تو مجھے پانی سے

خوف آتا ہی نہیں اب تو مجھے پانی سے اس لیے جھیل میں اتری ہوں میں آسانی سے کون تھا کس کی جدائی کا تجھے صدمہ ہے آج پوچھوں گی یہی شہر کی ویرانی سے تو بھی رہتا ہے مرے سامنے شرمندہ سا میں بھی نادم ہوں تری روز کی نادانی سے موت بھی ڈوب کے ہونی ہے ہماری شاید ڈر جو لگتا ہی نہیں ہے ہمیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 205 سے 6203