قومی زبان

میسج

اے غزالی آنکھوں والی سنا ہے تمہارے شہر میں چائے اچھی ملتی ہے سو میں چائے پینے آ جاؤں تم بھی کسی کیفے میں آ جانا اور سنو فرسودہ سماج کے لایعنی رسم و رواج کی بات مت کرنا چلی آنا اس نے جواباً لکھا چائے چھوڑیئے آپ ہمارے گھر تشریف لائیے ہماری فیملی سے ملیے اپنی فیملی سے ملوائیے ہم ...

مزید پڑھیے

کوچے سے نکلواتے ہو عبث ہم ایسے وطن آواروں کو

کوچے سے نکلواتے ہو عبث ہم ایسے وطن آواروں کو رہنے دو پڑے ہیں ایک طرف دکھ دیتے ہو کیوں بے چاروں کو روگی جو تمہارے عشق کے ہیں جیتے ہیں تمہاری آس پہ وہ دو چار دنوں پہ خدا کے لیے دیکھا تو کرو بیماروں کو ہم شکل کسی مژگاں کے جو تھے تو دل میں ہمارے چبھنا تھا افسوس کہ اے صحرائے جنوں ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات ہے تاروں کا جہاں ہے اے دوست

چاندنی رات ہے تاروں کا جہاں ہے اے دوست زندگی ساحل دریا پہ رواں ہے اے دوست اشک شوئی کے لئے اب بھی ہیں دامن لرزاں زندگی آج بھی اک خواب گراں ہے اے دوست اب بھی مایوس ہیں وابستۂ تقدیر ہیں دل اب بھی اٹھتا ہوا سینے سے دھواں ہے اے دوست کتنے بے رنگ سے خاکوں میں لہو بھرتی ہوں دل کی دھڑکن ...

مزید پڑھیے

شکست آرزو

وہ جا رہا تھا اور میں نے بس یہ کہا تھا سنو زیادہ دیر مت کرنا وقت رہتے پلٹ آنا اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا ہم جب ملیں گے بہاریں ہوں گی وقت کچھ نہیں بگاڑے گا آج وہ پلٹ آیا ہے اسے میری سیاہ آنکھیں بہت پسند ہیں مگر سیاہ حلقے نہیں اور میری آنکھوں کی روشنی گہرے حلقوں کے بادل ...

مزید پڑھیے

طبیعت کے رنگ

کبھی کبھی جی یہ چاہتا ہے چاند تک کی سیڑھی بناؤں بادل ہوا میں اڑا دوں لے کر رنگوں کی کچی پنسل رنگولی سی قوس قزح بناؤں چاند سے کھیلوں آبشار فضا میں بہاؤں کبھی کبھی جی چاہتا ہے کچھ ان چاہا سا

مزید پڑھیے

بارڈر لائن

نئی نسلوں کے سچے لوگ ہماری باتوں پہ ہنس رہے ہیں ہمارے ملکوں کی سرحدوں کو بڑی ہی حیرت سے تک رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کیسے یہ عجیب لوگ تھے جنہوں نے نسلیں کی نسلیں لکیروں پر رگید ڈالیں جوانیاں لڑائیوں میں پسیج ڈالیں اپنے خون بہانے والے یہ کیسے لوگ تھے آنے والی نئی نسلیں یہ جان لیں ...

مزید پڑھیے

وہ بولتی کچھ بھی نہیں

ہنستی مسکراتی ہے نہ اب کھلکھلاتی ہے وہ گھر سے باہر جاتے ہوئے ڈر ڈر سی جاتی ہے خود کو پردوں میں چھپاتی ہے وہ بولتی کچھ بھی نہیں سنا ہے کسی آلی گھرانے کے کسی اچھے عہدے کے لڑکے نے اسے مسل ڈالا تھا انصاف کی عدالت میں کچھ نوٹوں کے بدلے میں انصاف کچل ڈالا تھا اس کے مجبور بابا نے باقی ...

مزید پڑھیے

ایاک‌ نعبد و ایاک نستعین

سوچتی ہوں جلتے بجھتے خیمے تھے تشنگی کی شدت سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے بند ہوتی آنکھیں تھیں اشقیا کا نرغہ تھا فتح کے نقارے تھے بے حیا اشارے تھے بیبیوں کے بینوں میں شام کے دھندلکے میں سجدہ گہ پہ سر رکھ کر عابدوں کی زینت نے حمد جب کیا ہوگا عرش ہل گیا ہوگا سجدا رو پڑا ہوگا سجدہ رو پڑا ...

مزید پڑھیے

عدل کا فقدان

قاتل و مقتول برابر ظالم و مظلوم برابر قلم بھی بندوق برابر معتوب و محبوب برابر اپنی گویا ساتھی کی ہر اک خاتون برابر نئی دانشوری جو پڑھی موسیٰ و قارون برابر ظلم تو سب پر سانجھا تھا بنی اسرائیل و فرعون برابر ماں چاہے روتی رہے شہید بچے اور ملعون برابر بلوچ جو گھر سے غائب ہیں سب پر ...

مزید پڑھیے

طغیانی سے ڈر جاتا ہوں

طغیانی سے ڈر جاتا ہوں جسم کے پار اتر جاتا ہوں آوازوں میں بہتے بہتے خاموشی سے مر جاتا ہوں بند ہی ملتا ہے دروازہ رات گئے جب گھر جاتا ہوں نیند ادھوری رہ جاتی ہے سوتے سوتے ڈر جاتا ہوں چاہے بعد میں مان بھی جاؤں پہلی بار مکر جاتا ہوں تھوڑی سی بارش ہوتی ہے کتنی جلدی بھر جاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 207 سے 6203