قومی زبان

ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرح

ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرح اس سبب روشن ہے دل پتلی طرح سن مرا رونا ہوا ٹک مہرباں یار نے برسات میں بدلی طرح غمزہ کی شمشیر چمکاتا ہے وہ کیوں نہ ہو دل مضطرب بجلی طرح مچھی دیتا نئیں مجھے وہ بحر سوں چھوڑ دی اس نے مگر اگلی طرح کیوں مرے آگے اکڑ چلتا ہے آج مجھ کو بھولی نئیں تری پچھلی ...

مزید پڑھیے

اے بلبل دل دوڑ کے جاناں کوں پہنچ توں

اے بلبل دل دوڑ کے جاناں کوں پہنچ توں ویرانۂ تن چھوڑ گلستاں کوں پہنچ توں تجھ ہجر سیں ہوں جاں بہ لب اے یار شفا بخش جلدی سے مرے درد کے درماں کوں پہنچ توں یعقوب ترے غم ستی اے یوسف مصری بے کل ہے شتابی ستی کنعاں کوں پہنچ توں لگنا ہے تجھے پاؤں سیں گر اے دل پر خوں سنجاف نمن شوخ کے داماں ...

مزید پڑھیے

ترا بلبل ہوں تجھ گل کی قسم ہے

ترا بلبل ہوں تجھ گل کی قسم ہے برہ سوں مست ہوں مل کی قسم ہے رقیب رو سیہ کھاوے گا اب مار مجھے تجھ کالے کاکل کی قسم ہے لئے دل پھرتے ہیں دور زلف میں مجھے اوس کے تسلسل کی قسم ہے نہ کر توں بوالہوس اوپر تلطف ترے دل کے تامل کی قسم ہے خدا آخر کرے گا خوش مرا دل مجھے اپنے توکل کی قسم ...

مزید پڑھیے

نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں

نظر مت بوالہوس پر کر ارے چنچل سنبھال انکھیاں کہ اس بد فعل سوں کھنچیں گی آخر انفعال انکھیاں جدائی سے ہووے مفرور جاں قالب کے صوبہ سوں اپس دیدار سوں کرتی ہیں پھر اس کوں بحال انکھیاں نگاہ گرم گل رو سیں ہوا روشن یو مالی پر کہ اب سورج نمن نرگس پہ لادیں گی زوال انکھیاں ہوا معلوم بد ...

مزید پڑھیے

تجھ بت کا ہوں میں برہمن کرتار کی سوگند ہے

تجھ بت کا ہوں میں برہمن کرتار کی سوگند ہے جپتا ہوں مالا یار کی زنار کی سوگند ہے بانکا حسن سن کر ترا خوباں نے کھایا پیچ و تاب اے نک‌ پلک تجھ چہرۂ بل دار کی سوگند ہے خوباں کی خوبی ہے خزاں تیری بہار آنگے سدا عاشق کوں اے گلفام تجھ رخسار کی سوگند ہے رکھتا ہوں تجھ سوں چشم یہ دل اے مہ ...

مزید پڑھیے

مسئلے میرے سبھی حل کر دے

مسئلے میرے سبھی حل کر دے ورنہ یا رب مجھے پاگل کر دے وقت کی دھوپ میں جلتا ہے بدن مجھ پہ سایہ کوئی آنچل کر دے ایسی تہذیب سے حاصل کیا ہے جو بھرے شہر کو جنگل کر دے روک رکھی ہے گھٹا آنکھوں میں ورنہ بہہ جائے تو جل تھل کر دے وہ جو رکھتا ہے مجھے نظروں میں کہیں نظروں سے نہ اوجھل کر ...

مزید پڑھیے

نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہے

نکھرنا عقل و خرد کا اگر ضروری ہے جنوں کی راہبری میں سفر ضروری ہے حقیقتوں سے جو ہوتا ہے آشنا اے دوست تو اس کے واسطے راہ خطر ضروری ہے کسی کی نیچی نظر کا سلام ساتھ رہے سفر کے واسطے زاد سفر ضروری ہے مگر یہ شرط ہے ہر لفظ روح سے نکلے دعائے نیم شبی میں اثر ضروری ہے دلوں کا حال نہ چہروں ...

مزید پڑھیے

مرا پیارا ہے نا فرماں ہمیشہ اور پیاروں میں

مرا پیارا ہے نا فرماں ہمیشہ اور پیاروں میں نہیں دیکھا کسو نے لالہ رو ایسا ہزاروں میں اپس عشاق کوں پہچانتے ہیں خوب خوش چشماں عجب مردم شناسی ہے نرائن کے اشاروں میں تری زلفاں کے پیچ و تاب کی تعریف کوں سن کر گیا پاتال کو باسک خجالت کھینچ ماروں میں بسے ہیں شوق سوں جا کر گلوں میں ...

مزید پڑھیے

صد حیف کہ کمزور ہے چشمان بڑھاپا

صد حیف کہ کمزور ہے چشمان بڑھاپا سستی ستی جنبش میں ہے دندان بڑھاپا از بسکہ ہوا ہے گا گزر فصل خزاں کا رونق نہیں رکھتا ہے گلستان بڑھاپا اربل کے بھنور میں گئی ہے ڈوب جوانی جس وقت اٹھا جگ منے طوفان بڑھاپا تسبیح‌ و مصلا و عصا عینک و رعشہ جوبن نے دیا بھیج یہ سامان بڑھاپا غفلت کی ...

مزید پڑھیے

منہ کتابی تیرا بیاضی نئیں

منہ کتابی تیرا بیاضی نئیں وو جوابی ہے اعتراضی نئیں سرو ہر چند ہے غلام ترا لیکن آزادگی کا راضی نئیں صاحب حال کو زمانے میں فکر‌ مستقبل اور ماضی نئیں داد بے داد تجھ ستم سوں ہے بسکہ شہر حسن میں قاضی نئیں مبتلاؔ باغ میں ہے شور‌ و فغاں گل کوں بلبل کی کچھ تقاضی نئیں

مزید پڑھیے
صفحہ 2058 سے 6203