ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرح
ماہ رو نکلے ہے نت اجلی طرح اس سبب روشن ہے دل پتلی طرح سن مرا رونا ہوا ٹک مہرباں یار نے برسات میں بدلی طرح غمزہ کی شمشیر چمکاتا ہے وہ کیوں نہ ہو دل مضطرب بجلی طرح مچھی دیتا نئیں مجھے وہ بحر سوں چھوڑ دی اس نے مگر اگلی طرح کیوں مرے آگے اکڑ چلتا ہے آج مجھ کو بھولی نئیں تری پچھلی ...