اک بے وفا کے نام
تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرے تو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرے مجروح ہو بلا سے ترے حسن کا غرور پر تجھ کو چشم شوق نہ دیکھے خدا کرے کھو جائیں تیرے حسن کی رعنائیاں تمام تیری ادا کسی کو نہ بھائے خدا کرے میری ہی طرح کشتئ دل ہو تری تباہ طوفان اتنے زور کا اٹھے خدا کرے راہوں کے پیچ و ...