قومی زبان

اک بے وفا کے نام

تیرے بھی دل میں ہوک سی اٹھے خدا کرے تو بھی ہماری یاد میں تڑپے خدا کرے مجروح ہو بلا سے ترے حسن کا غرور پر تجھ کو چشم شوق نہ دیکھے خدا کرے کھو جائیں تیرے حسن کی رعنائیاں تمام تیری ادا کسی کو نہ بھائے خدا کرے میری ہی طرح کشتئ دل ہو تری تباہ طوفان اتنے زور کا اٹھے خدا کرے راہوں کے پیچ و ...

مزید پڑھیے

شعلۂ طرب

رونے کی عمر ہے نہ سسکنے کی عمر ہے جام نشاط بن کے چھلکنے کی عمر ہے شبنم کی بوند پی کے چٹکنے کی عمر ہے گلشن میں پھول بن کے مہکنے کی عمر ہے صد مرحبا یہ گمرہیٔ شوق چشم و دل ہاں راہ آرزو میں بھٹکنے کی عمر ہے اک جرم ہے خیال و تصور گناہ کا یہ عمر صرف پی کے بہکنے کی عمر ہے دیوانہ بن کے نجد کے ...

مزید پڑھیے

جھومر

سہیلی یوں تو کچھ کچھ سانولے سے ہیں مرے ساجن مگر تیری قسم بے حد رسیلے ہیں مرے ساجن جو میں کہتی ہوں اس کو مسکرا کر مان جاتے ہیں بہت پیارے بڑے ہی بھولے بھالے ہیں مرے ساجن میں ان سے پریم کرتی ہوں بھلا میں کیا بتاؤں گی سکھی تو بول تجھ کو کیسے لگتے ہیں مرے ساجن بظاہر وہ دکھائی دیتے ہیں ...

مزید پڑھیے

مسیحا

تجربے گرچہ یہ بتاتے ہیں وقت بے رحم اک سپاہی ہے جس کا مضبوط و آہنی پنجہ دل کا آئینہ توڑ دیتا ہے دشت ہستی میں آبلہ پا کو ہمہ دم راہ غم دکھاتا ہے نو بہ نو انتشار لاتا ہے زندگی کو دکھی بناتا ہے لیکن اے ہم سفر ٹھہر تو سہی تجربے یہ بھی تو بتاتے ہیں وقت اک نرم دل مسیحا ہے جس کے نازک حسین ...

مزید پڑھیے

تہ خنجر

اقلیت کہیں کی ہو تہ خنجر ہی رہتی ہے ہلاکت خیز ہاتھوں کے ہزاروں جبر سہتی ہے خس و خاشاک کی مانند سیل غم میں بہتی ہے نہ کوئی خواب آنکھوں میں نہ دل میں آسرا کوئی نہ جوئے خوں سے بچنے کا نظر میں راستہ کوئی نہ مستقبل کی آوازیں نہ منزل کی صدا کوئی خود اپنی ہی فضا میں خوف کا احساس ہر ...

مزید پڑھیے

ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میں

ان جھلملاتے چاند ستاروں کی چھاؤں میں دھیمے سروں میں گائے جو بابل تو ہم سنیں آنگن میں تیرے پھول رہی ہوگی کامنی! جی چاہتا ہے آج بسیرا وہیں کریں یہ چاند آج اگا ہے بڑی آرزو کے بعد آؤ مئے نشاط پئیں غم غلط کریں اپنی سہاگ رات کبھی بھولتیں نہیں میرے حسیں دیار کی شرمیلی عورتیں رنگ حنا ...

مزید پڑھیے

اے ہم نفسو! شب ہے گراں جاگتے رہنا

اے ہم نفسو! شب ہے گراں جاگتے رہنا ہر لحظہ ہے یاں خطرۂ جاں جاگتے رہنا ایسا نہ ہو یہ رات کوئی حشر اٹھا دے اٹھتا ہے ستاروں سے دھواں جاگتے رہنا اب حسن کی دنیا میں بھی آرام نہیں ہے ہے شور سر کوئے بتاں جاگتے رہنا یہ صحن گلستاں نہیں مقتل ہے رفیقو! ہر شاخ ہے تلوار یہاں جاگتے رہنا بے ...

مزید پڑھیے

ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے

ہر سانس کو مہکائیے اب دیر نہ کیجے اک پھول سا کھل جائیے اب دیر نہ کیجے اک جام محبت سے مسرت سے بھرا جام چھلکائیے چھلکائیے اب دیر نہ کیجے سچ کہتا ہوں اک عمر سے پیاسی ہے یہ محفل پیمانہ بکف آئیے اب دیر نہ کیجے ساون کی گھٹا بن کے سلگتی ہوئی رت میں دنیا پہ برس جائیے اب دیر نہ ...

مزید پڑھیے

اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے

اس دور نے بخشے ہیں دنیا کو عجب تحفے گھبرائے ہوئے پیکر اکتائے ہوئے چہرے کچھ درد کے مارے ہیں کچھ ناز کے ہیں پالے کچھ لوگ ہیں ہم جیسے کچھ لوگ ہیں تم جیسے ہر گاؤں سہانا ہو ہر شہر چمک اٹھے دل کی یہ تمنا ہے پوری ہو مگر کیسے بپھری ہوئی دنیا نے پتھر تو بہت پھینکے یہ شیش محل لیکن اے دوست ...

مزید پڑھیے

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے

خزانے بھی ملیں اس کے عوض تو ہم نہ بیچیں گے ہمارا غم ہے مظلوموں کا غم یہ غم نہ بیچیں گے کہستانوں سے پتھر کاٹ کر لائیں گے ہم لیکن کسی ظالم کے ہاتھوں زخم کا مرہم نہ بیچیں گے بلا سے دھول پھانکیں یا پرانے چیتھڑے پہنیں مگر یارو متاع علم و دانش ہم نہ بیچیں گے کسی دربار میں جا کر ادب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 2050 سے 6203